100
دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے
اپنے پیروں کو بچاٶں تو سفر جاتا ہے
کچھ نہ پوچھو کہ بھلا ہوتا ہے کیا دل کے ساتھ
جب کوٸ عہدِ محبت سے مکر جاتا ہے
جب بھی بچھڑے ہوۓ لمحے مجھے یاد آتے ہیں
دل مرا درد کے طوفان سے بھر جاتا ہے
اس قدر رنگِ زمانہ سے پریشان ہے دل
جب کوٸ پیار سے ملتا ہے تو ڈر جاتا ہے
دور پتھر کا ہے پتھر ہی یہاں جیتے ہیں
نرم دل وقت سے پہلے یہاں مر جاتا ہے
غلطی کوٸ بھی تسلیم نہیں کرتا ہے
جرم ہر کوٸ کسی اور پہ دھر جاتا ہے
کچھ نہیں ملتا محبت میں یہی سچ ہے سحر
پیار کے کھیل میں انسان بکھر جاتا ہے
نادیہ سحر
