خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباموجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ

از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2020
از سائیٹ ایڈمن جون 5, 2020 0 تبصرے 54 مناظر
55

موجودہ حالات اور بڑھتا ہوا ذہنی دباؤ

اونٹ کسی کروٹ بیٹھنے کو تیار نہیں دیکھائی دے رہا ۔ کاروباری سرگرمیاں کھولنی ہیں یا بند رکھنی ہیں ، کسے جانے دینا ہے کسے روکنا ہے ، طبی امراض کے مراکز کہاں تک سچ بول رہے ہیں ، کس سے ملیں اور کس سے نا ملیں ، مرنے والوں کی تدفین میں کیسے شرکت کریں ، کسی بیمار کو ہسپتال لیکر جائیں یا پھر مرنے کیلئے گھر پر ہی رکھ لیں ، بچوں کو کہاں تک قید و بند میں رکھیں ، انہیں کہاں تک موبائل ، ٹیلیویژن اور کمپیوٹر سے دور رکھیں ، گھریلو زندگی کو معمول پر کیسے لائیں ، دفتر جائیں کہ نا جائیں ، کاروبار مسلسل نقصان میں جارہا ہے ، معلوم نہیں تنخواہ آئے گی کے نہیں ، وفاقی حکومت کچھ کہہ رہی ہے کچھ کر رہی ہے یہاں سندھ حکومت کچھ کہہ رہی ہے اور کچھ کررہی ہے ،آخر ہم دنیا سے مختلف کیوں سوچ رہےں ، اس طرح کہ سوالات ایک کے بعد ایک ذہن میں اٹھتے رہتے ہیں اور جواب ہے کہ کسی کے پاس نہیں ہے ۔ سچ پوچھیں تو ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی ڈراءونی فلم چل رہی ہے اور ساری کی ساری دنیا آسیب زدہ ہوگئی ہے ، کوئی عامل یا کوئی عالم بھی اس آسیب سے نجات دلانے کا دعوی کرتا نہیں سنائی دے رہا ، سب سے بڑھ کر سائنس بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھی ہوئی ہے ۔ عام آدمی جب کسی مشکل میں گرفتا ہوتا ہے تو وہ کسی خاص آدمی سے رجوع کرتا ہے لیکن آج تو خاص آدمی سجھائی ہی نہیں دیتا ، سب ہی عام سے عام ترین ہوئے ہیں کہ اس سے نہیں ملنا، اس سے نہیں ملنا ، یہ کرنا ہے تو وہ کرنا ہے ۔ مسلسل تذبذب کی کیفیت ہے گوکہ لوگ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن سہارا نہیں بن پارہے ایسے میں سوائے اللہ رب العزت کے کوئی سہارا سجھائی نہیں دے رہا ۔

ہمارے علمائے کرام نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ حکومتی اقدامات کی بالادستی کو یقینی بنائیں انکی بدولت عوام رمضانوں میں بھی گھروں میں عبادات کرتے رہے یہ علماء کرام ہی تھے کہ جن کی بدولت قوم کو صبر و تحمل سے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کرتے رہنے کی تلقین کرتے رہے لیکن پھر کیا ہوا کہ حکومت وقت نے دہرے میعار کا مظاہرہ کرتے ہوئے یوم علی ;230; پر ہونے والے اجتماعوں اور جلوسوں کو روکنے میں مکمل ناکامی کا ثبوت پیش کیایا پھر طرفداری کی روایت برقرار رکھی ، جو اس بات کا جواز بنا کہ علمائے کرام نے کسی بھی قسم کی مذہبی اجتماعی عبادت کرنے کی عام اجازت دے دی اور حکومت کے اس دہرے روئیے کی بدولت حکومت کے کسی بھی ایسے اقدام کی قطعی مخالفت کا اعلان کردیا جو عبادت میں خلل کا باعث بنے ۔ گوکہ رمضان المبارک ختم ہوگئے اور پاکستانی قوم نے عید کی نماز کے اجتماعات کا بھرپور اہتمام کیا اور عید کسی حد تک اپنے طریقے سے منائی ۔

ہر قسم کی تعلیمی سرگرمیاں گزشتہ تین ماہ سے موقوف ہیں ، بچوں کیلئے تفریح گاہیں مکمل بند ہیں لوگوں سے رابطہ کیلئے ویسے ہی سختی سے منع کیا جا رہاہے اور سب سے بڑھ کر ذاتی احتیاط پر بھرپور توجہ دلائی جا رہی ہے یعنی ایک قید ِ مسلسل ہے اور خصوصی طور پر بزرگوں اور بچوں کیلئے جنہیں ویسے ہی سب سے زیادہ گھروں سے باہر گھومنے پھرنے کا شوق ہوتا ہے ۔ اب یہ بچے مسلسل روک ٹوک کا شکار ہیں لاکھ سہولیات فراہم کرلیں اس بات کا اندازہ اب ہوتا جا رہاہے کہ قید قید ہی ہوتی ہے ۔

کرونا کے پہنچنے والے نقصانات کی دو بڑی وجوہات ہیں پہلی جس کا نتیجہ ترقی یافتہ ممالک بھگت رہے ہیں وہ یہ کہ اپنی ترقی پر حد سے زیادہ انحصار یا پھر دوسرے لفظوں میں تکبر جبکہ ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک نے تعلیم کی عدم دستیابی کی وجہ سے نقصانات اٹھارہے ہیں یعنی پاکستان جیسے ممالک تعلیم جس سے سہی سمجھ اور آگہی میسر آتی ہے نا ہونے کے برابر ہے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے پہلے دن سے اس بات پر زور دیا کہ مکمل بندش (لاک ڈاءون) نا کیا جائے کیونکہ ہم چین ، کنیڈا ، سنگاپور جیسا لاک ڈاءون برداشت ہی نہیں کرسکتے، ایک طرف ہمارے لوگ بھوک سے مرنے لگینگے تو دوسری طرف چھوٹے چھوٹے گھروں افراد کی زیادہ تعداد ہے جس کی وجہ سے بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ ہم اپنی طبی سہولیات کی دستیابی سے بھی خوب اچھی طرح واقف ہیں اور طبی عملے کو میسر سہولیات کا خوب اندازہ ہے ، اب جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے طبیب بھی کرونا کے مرض میں مبتلاء ہوکر موت کو گلے لگا رہے ہیں جو کہ انتہائی تشویش ناک بات ہے ۔

کرونا وائرس کی وجہ سے کچھ خود کشی کے واقعات بھی منظر عام پر آئے لیکن سرکاری بندشوں کی قد غن کی بدولت اب خبریں بہت دیکھ بھال کر پیش کی جارہی ہیں جس کی وجہ لوگوں میں خوف و ہراس کو بڑھنے سے روکا جائے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس وائرس کی ترسیل کب کہاں کیسے ہوجائے ہماری سوچ سے ماورا ء ہے ہمارے بس میں صرف احتیاط ہے جوکہ ہم کر نہیں رہے ، لوگ ہاتھ بھی ملا رہے ہیں لوگ گلے بھی مل رہے ہیں اور لوگ ماسک پہننا شائد اپنی توہین سمجھ رہے ہیں ۔ اس حوالے سے ایک مصدقہ حوالہ دینا چاہونگا جوکہ ہمارے پڑوسی ملک کے شہر کیرالہ کا ہے جہاں کرونا کا دو مریض رپورٹ ہوئے اس کے بعد وہاں کی حکومت نے ماسک اور سماجی فاصلے کو لازمی قرار دے دیا بغیر کسی بندش کے وہاں تاوقتِ تیسرا کیس نہیں آیا تھاجب وہاں کے ایک ذمہ دار سے اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ کیرالہ میں تعلیمی شرح چھیانوے فیصد ہے جب سرکار نے حکم دیا کہ ماسک پہننا ہے تو سب نے ماسک پہن لیا اور سماجی فاصلے سے کام کرتے رہے جیسا کہ ایک تعلیم یافتہ معاشرے سے توقع کی جاسکتی ہے ۔

کوئی اس بات پر بات کرنے کیلئے بھی تیا ر نہیں کہ ہ میں اس کرونا کیساتھ کب تک رہنا ہے کیونکہ ابھی تک سب اس سے نمٹنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ ملک جس سے دنیا خوفزدہ رہتی ہے اور ہر معاملے کی رہنمائی کیلئے درپردہ امریکہ کی طرف ہی دیکھتی ہے، دنیا کو الجھا نے کی کوشش میں خود ہی بری طرح سے الجھ گیا ہے اور ابتک لاکھوں انسانی جانیں کرونا کی بھینٹ چڑھا چکا ہے ابھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہو پایا تھا کہ نسلی فسادات نے آگہرا ہے ، جس کی وجہ سے یقینا کرونا کو تقویت ملے گی کیوں کہ احتجاج ہر گلی محلے میں شروع ہوچکے ہیں اور بغیر کسی سماجی فاصلے کہ یہ عمل زور پکڑ چکا ہے ۔ ابھی اس بات پر بھی دنیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے کہ کرونا کسی حتیاتی جنگ کا آغاز تو نہیں کر دیا گیا ہے کہ جس میں اسلحہ و بارود تواستعمال نہیں ہونگے لیکن انسانی جانیں بے دریغ ضائع ہونگی ۔

مذکورہ بالہ تمام گفتگو سوالوں پر مشتمل ہے اور کسی سوال کا حتمی جواب موجود نہیں جیسا کہ کرونا کی ویکسین تقریباً ڈیڑھ سال میں منظر عام پر آنے کا کہا جا رہا ہے اسی طرح سے ان سوالوں کے جواب بھی وقت کیساتھ ساتھ ملنا شروع ہوجائینگے لیکن ایک خوفناک حقیقت آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں کہ لوگ آہستہ آہستہ ذہنی مریض بنتے چلے جائینگے، جتنی تیزی سے کرونا نے تباہی مچائی ہے اسکی وجہ سے جو لوگ بچ گئے ہیں ان میں سے کثیر تعدا د ذہنی مرض میں مبتلاء ہوجائے گی ۔ اگر اس سے بچنا ہے تو ابھی سے خوف و ہراس کی فضاء کو قابو میں کرنے کی کوشش کرنا ہوگی ۔ ایک طر ف لوگ کرونا سے مر رہے ہیں تو دوسری طرف کرونا ذہنی مریض بنانے میں بھی آگے آگے لایا جا رہاہے ۔ اس ذہنی دباءو کا شکار سب سے زیادہ ہماری نئی نسل نے ہونا ہے جسکے سدباب کیلئے ہ میں انتہائی اقدامات اٹھانے ہونگے ۔ وزیر اعظم صاحب اس جانب بھی توجہ دیں ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بچے بذریعہ جراحت
  • اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے
  • واپسی
  • دل کی بات کیا کروں دل لگی سی ھو گئی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رشوت اور اس کےنقصانات
پچھلی پوسٹ
ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

متعلقہ پوسٹس

غیر جانبدار اسٹیبلشمنٹ؟

جنوری 24, 2022

اللہ تو نور ھے

دسمبر 22, 2024

کوئی تو بات ہے ایسی جو اب نئی ہوئی ہے

مئی 15, 2020

چراغِ وصل ابھی تک جلا نہیں پائی

جنوری 6, 2023

کیا اتنا کافی ہے؟

دسمبر 4, 2019

شروعات

جنوری 24, 2020

کسی چراغ کی لَو کی طرح بکھر گیا میں

اپریل 15, 2016

خاموش چیخیں اور بکھری ہوئی راہیں

مارچ 13, 2025

مجھے سارے رنج قبول ہیں

ستمبر 27, 2025

سلیم فائز

دسمبر 29, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نسل نو میں عدم برداشت

اپریل 5, 2020

عورت اور لومڑی

نومبر 28, 2024

اب جو آتا نہیں جواب کوئی

نومبر 1, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں