101
بدگمانی سے بنایا گیا عشق کا ساماں ہم کو
اس پے بھی ملا بے وفا کا عنواں ہم کو
رک رک کے دیکھتے شہر -اے-میر کی دیواراں کو
ہر بار تیری تصویر کرتی ہے حیراں ہم کو
عشق کے آتش فشاں شعلوں سے جاویدا ذات
کہ لرزتا ہے فصل گل دیکھتی ہے درخشاں ہم کو
اور ہر چند تخیل میں میسر ہے وہ ہم کو
اس میں بھی ستمگر ملتا نہیں مہرباں ہم کو
کچھ اس طرح سے چھوڑا تتلیوں نے چمن کو
ہوتا نہیں ہے مٹی کے پریندے سے وفا کا گماں ہم کو
نگار فاطمہ انصاری
