104
وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے
دست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے
سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حباب
زیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے
ہیں مری راہ کا پتھر مری آنکھوں کا حجاب
زخم باہر کے جو اندر نہیں جانے دیتے
مجھ کو اس گنبد بے در سے پرے کا بھی ہے ذوق
یہ مرے بال مرے پر نہیں جانے دیتے
حد افلاک پہ جا کر تو صدا دے آیا
مگر افلاک سے اوپر نہیں جانے دیتے
خورشید رضوی
