103
پھر ترا کوزہ گر بھرم رکھا
خاک نے چاک پر قدم رکھا
میں نے رکھی تھیں راہ پر آنکھیں
اور بدلے میں اس نے نم رکھا
درد کا ہو رہا تھا بٹوارا
اپنے حصے کا اس نے کم رکھا
بُت کدے میں پڑاو ہے اپنا؟
کس نے سامان میں صنم رکھا؟
غم ترا اور میرا ایک ہوا
میں نے سینے پہ جو عَلم رکھا
عمران سیفی
