683
اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں
تو کائنات کی تکمیل تک پہنچ جاؤں
کنول کا بیج ہوں اور خاک پر پڑا ہوا ہوں
دُعا کرو میں کسی جھیل تک پہنچ جاؤں
بُلند ہوتی ہوئی خاک کی تمنا ہے
میں آسمان کی تحویل تک پہنچ جاؤں
میں بے نیاز ہوں تجھ سے وگرنہ چاہوں تو
تری خموشی سے تفصیل تک پہنچ جاؤں
میں آفتاب پہ چلتا ہوں اور سوچتا ہوں
تمہارے حُسن کی قندیل تک پہنچ جاؤں
شجاع شاذ
