108
یہ جو آنکھوں پہ عینک لگاتی ھوں میں
اپنی آنکھیں نشیلی چھپاتی ھوں میں
مر نہ جائے کوئی ڈوب کر دوستو
کتنے لوگوں کی جانیں بچاتی ھوں میں
تم اتنے کہاں کے طرم خان ہو
ابھی جا کے سب کو بتاتی ہوں میں
تبسم ، تکلم ترا را را را رم
تجھے ناچ تگنی نچاتی ہوں میں
رات بھر میں بھی تسلیم اب فون پر
اپنے دلبر کو غزلیں سناتی ھوں میں
تسلیم اکرام
