399
مسائل پر تحمل سے نہ گر یوں گفتگو ہوگی
تماشا لوگ دیکھیں گے ہزیمت چار سو ہوگی
ہزاروں مان توڑے ہیں اجاڑے کیوں ہیں دل اتنے
محبت سے میں پوچھوں گا کبھی جو دوبدو ہوگی
ہزاروں نیکیوں سے بھی نہ ہوگی ختم گمنامی
گنہ گر ایک کر بیٹھو تو شہرت کو بہ کو ہوگی
مری باتیں اتر کر جو جگہ دل میں بناتی ہیں
مرے اور آپ کے دل کی کہانی ہوبہو ہوگی
بنا خود کو سمندر تو فقط ہو جا گر اعلی ظرف
ندی بن کر ترے پیچھے یہ دنیا جو بہ جو ہوگی
فقط اک گل محبت کا کھلا کے دیکھ گلشن میں
سدا پھر تیرے آنگن میں مہکتی رنگ و بو ہوگی
جہاں ہو تذکرہ تیرا مرا ایمان کہتا ہے
فضا اس پاک محفل کی یقینا باوضو ہوگی
اویس خالد
