101
گرے مکاں میں دبی کہکشاں سمیٹتا ہے
وہ اک ہتھیلی میں سارا جہاں سمیٹتا ہے
یہ اختتام سفر ہے کہ اک نیا آغاز
وہ راستے میں کھڑا کارواں سمیٹتا ہے
کسی جگہ کوئی کردار رہنے دیتا نہیں
یہ وقت روز نئی داستاں سمیٹتا ہے
وہ طے تو کرتا ہے دو چار منزلیں مرے ساتھ
ٹھہر ٹھہر کے مگر جسم و جاں سمیٹتا ہے
گریز پائی کا مجھ سے گلہ نہ کر مرے دوست!
زمیں سمٹتی نہیں، آسماں سمیٹتا ہے
کوئی بگولا سا اٹھتا ہے میری لہروں سے
وہ درمیان کہیں کشتیاں سمیٹتا ہے
سحر میں ابر کی صورت برسنے لگتا ہے
تمام رات جو میرا دھواں سمیٹتا ہے
بکھرنے ہی میں زمانوں کا حسن ہے پنہاں
تو اس خرابے کو حارثؔ کہاں سمیٹتا ہے
حارث بلال
