596
سہمے ہوئے تھے لوگ جو خطبوں کے وار سے
اب بھی ڈرے ہوئے ہیں وہ تیرے مزار سے
کس واسطے ہوں بابا کے سینے سے میں جدا
کہتی رہی سکینہ یہ پروردگار سے
کرتی رہی طواف ہوا اور خامشی
جتنے جلے چراغ حسینی پکار سے
برداشت کر نہ پائے منافق لعین لوگ
اقراء باسمِ ربِّی کی لو ایک غار سے
آیا نظر نہ شکلِ پیمبر اسے کبھی
خضری میں آنکھ الجھتی رہی انتظار سے
کربل سے کوئی لائے بہتّر کی کچھ خبر
اشجار کہہ رہے تھے پرندوں کی ڈار سے
اصغر کی پیاس جب کبھی یاد آئے , دل کرے
ارشاد سانس کاٹ لوں خنجر کی دھار سے
ارشاد نیازی
