خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباخوش طبعی یعنی مزاح کرنے کی شرعی حیثیت
آپکا اردو بابااردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامین

خوش طبعی یعنی مزاح کرنے کی شرعی حیثیت

از محمد یوسف برکاتی ستمبر 15, 2023
از محمد یوسف برکاتی ستمبر 15, 2023 0 تبصرے 127 مناظر
128

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

یاد رکھئے مزاح اور زندہ دلی وخوش طبعی انسانی زندگی کا ایک خوش کن عنصر ہے اور جس طرح اس کا حد سے تجاوز ہوجانا نازیبا اور مضر ہے اسی طرح اس لطیف احساس سے آدمی کا بالکل خالی ہونا بھی ایک نقصان دہ عمل ہے جو بسا اوقات انسان کو خشک محض بنادیتا ہے بسا اوقات ہمجولیوں دوستوں ہمنشینوں اور ماتحتوں کے ساتھ لطیف ظرافت و مزاح کا برتاؤ ان کے لیے بے پناہ مسرت کے حصول کا ذریعہ اور بعض اوقات عزت افزائی کا باعث بھی ہوتا ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام تر عظمت و رفعت اور شان وشوکت کے باوجود بسا اوقات اپنے جاں نثاروں اور نیازمندوں سے مزاح فرماتے تھے اس ضمن میں ہمیں سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی اسوہ حسنہ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اسی لئے اللہ تبارک وتعالی نے سورہ الاحزاب کی آیت 21 میں ارشاد فرمایا کہ
لقد کان فی رسول اللہ اسوہ حسنہ
ترجمعہ کنزالایمان ۔۔۔ بیشک اللہ کے رسول کی پیروی تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس آیت میں اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے عمدہ اور اعلی اخلاق کی گواہی دی ہے ویسے بھی ہنسنا مسکرانا ہشاش بشاش ہوکر کسی سے ملنا اور مل کر خوشی کا اظہار کرنا اصحاب کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا کہ کسی کی دل آزاری نہ ہو یہ وہ صفات ہیں جو صرف اور صرف آپ علیہ وسلم کے اخلاق کا ہی ایک حصہ تھیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم سے صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ علیہ وسلم ہم سے مزاح کرتے ہیں ؟ تو فرمایا کہ ہاں اگر کبھی مزاح کرتا ہوں تو سچ بات کے سوا کچھ نہیں کہتا
( امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم جلد 3 ص 218 ) ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں کسی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم مزاح بھی کیا کرتے تھے ؟ فرمایا ہاں اسی طرح حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم بنسبت دوسرے لوگوں کے اپنی ازواج مطہرات سے زیادہ مزاح فرمایا کرتے تھے جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں جنگ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کے ساتھ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آئو ہم دوڑیں دیکھیں کون آگے نکلتا ہے میں نے اپنا دوپٹہ مظبوتی سے باندھ لیا اور ایک نشان کھینچ کر کھڑی ہوئی اور دوڑی تو سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم آگے نکل گئے اور فرمایا کہ یہ ذالمجاز کا بدلہ ہے یہ ایک جگہ کا نام ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا جب کم عمر تھیں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ رضی اللہ تعالی عنہا کو اپ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے فرمایا یہ مجھےدو تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا انکار کرتے ہوئے وہاں سے بھاگیں آپ علیہ وسلم پیچھے بھاگے لیکن وہ دور نکل گئیں سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو یہ بات اس وقت یاد دلائی ۔
( امام غزالی علیہ الرحمہ احیاء العلوم جلد 3 ص 219 ) ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں عام لوگوں سے مزاح کرتے ہوئے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم بڑی خوش طبعی فرماتے تھے جیسے ایک بوڑھی عورت آپ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بوڑھی عورت جنت میں نہیں جائے گی تو وہ رونے لگی کہ میرا کیا ہوگا جبکہ وہ قران پڑھا کرتی تھی تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے قران میں نہیں پڑھا
اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ(35) فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًا(36 )
عُرُبًا أَتْرَابًا (37)۔ (سورہ الواقعہ 35 36 37 )
ترجمعہ کنزالعرفان۔۔۔بیشک ہم نے ان جنتی عورتوں کو ایک خاص انداز سے پیدا کیا تو ہم نے انہیں کنواریاں بنایا ۔محبت کرنے والیاں ۔ سب ایک عمر والیاں ۔ مطلب یہ کہ جنت میں کوئی بوڑھا ہوکر نہیں جائے گا تو آپ علیہ وسلم کی اس بات پر وہ بوڑھی عورت خوش ہوگئی۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں مزاح یعنی خوش طبعی تبسم یعنی مسکرانا اور قہقہ یعنی ٹھٹھہ مارنا یہ سب الگ الگ معاملات ہیں اب دیکھیں خوش طبعی کیا ہے ؟ مزاح سنجیدگی کے ضد ہے دل لگی، ہنسی اور خوش طبعی سب مزاح میں شامل ہے۔ مزاح کا مقصد باہم محبت و الفت عزیز واقارب میں بے تکلفی کی فضا قائم رکھنا ہے۔ اس سے احباب میں الفت بڑھتی ہے لیکن ہنسی مزاح میں جھوٹ فریب تہمت فحش گوئی اور کسی کی تذلیل قطعا ممنوع ہے۔ اسی طرح اگر ہم تبسم کو دیکھیں تو اس کے معنی کیا ہیں ؟چہرے کی خوشی سے اگر دانت نظر آئے اور آواز نہ ہو تو اس کو تبسم کہتے ہیں۔اور اسی طرح یہ دیکھیں کہ قہقہ کیا ہے ؟تو چہرے کی خوشی سے اگر دانت، نظر آئے اور آواز دور تک جائے تو اس کو قہقہ کہتے ہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں خوش طبعی اخلاق کی ایک بہترین صفت ہے اور یہ صفت ہر کسی کو عطا نہیں ہوتی بلکہ جس کو یہ صفت حاصل ہوجائے وہ خوش نصیب ہوتا ہے اگر کسی کو یہ صفت حاصل ہوجائے تو اس پر نظر پڑتے ہی دل سرور میں آجاتا ہے رنج و غم اور پریشانی کے آثار ختم ہونا شروع ہوجاتے ہیں لیکن مزاح بھی ایسا ہو جیسے سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات اور اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے جیسے کہ خادم خاص حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ سرکار علیہ وسلم نے مجھے "یا ذالاذنین اے دو کانوں والے کہکر مخاطب فرمایا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اگر ہم سچ اور حق بات کو مزاح کے انداز میں بیان کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو دیکھئے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ مجھے سواری عنایت فردیجئے تو سرکار علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں ضرور میں تمہیں ایک اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں تو وہ کہنے لگا کہ اونٹنی کا بچہ تو مجھے گرادے گا میں اس کا کیا کروں گا ؟ تو آپ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹوں کو اونٹنیاں ہی تو جنتی ہیں یعنی اونٹ کتنا ہی بڑا ہوجائے وہ اونٹنی کا بچہ ہی کہلائے گا یہ سن کر وہ شخص مسکرادیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہمیں بہت کم ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں آپ علیہ وسلم کا مزاح کرنا نظر آتا ہے کیوں کہ مزاح کی عادت بنالینے کی شریعت میں ممانعت ہے کہ یہ دل کو دین سے دور کردیتا ہے انسان دین میں غفلت برتنے لگتا ہے لیکن خوش ہونا اور خوش طبعی کا شریعت کے دائرے میں رہکر اظہار کرنا اللہ تعالی کو بھی پسند ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں علامہ ابن قیمہ رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ
الفرح لذة تقع في القلب بإدراك المحبوب
کسی محبوب چیز کے مل جانے سے جو لذت حاصل ہوتی ہے اسے ہی فرحت اور خوشی کہتے ہیں یعنی اللہ تعالی کی نعمت ملنے پر خوش ہوکر اس کا شکر ادا کرنے والے سے وہ رب بھی راضی ہوتا ہے سورہ یونس کی آیت 58 میں ارشاد ہوا کہ
قُلْ بِفَضْلِ اللَّـهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا
آپ کہدیجئے کہ یہ اللہ تعالی کے فضل اور مہربانی سے ہے تو چاہئے کہ وہ لوگ خوش ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں آگے سورہ العمران کی آیت 170 میں ارشاد باری تعالی ہوا کہ
فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ
جنتی لوگ خوش ہوں گے ان نعمتوں پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہیں ایک حدیث مبارکہ میں سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ” رَوِّحُوا الْقُلُوْبَ سَاعَةً” دلوں کو وقتا فوقتا خوش کرتے رہا کرو ۔۔آپ سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم جہاں ایک طرف اتنی نمازیں پڑھتے تھے کہ قدمِ مبارک پرورم آجاتا تھا وہیں آپ صحابہ کرام سے ہنسی مذاق اور دل لگی بھی کرتے تھے۔اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ اسلام سستی اور کاہلی کوناپسنداور چستی اور خوش طبعی کو پسند کرتا ہے۔ شریعت کی تعلیمات اس امر کا تقاضہ کرتی ہیں کہ مسلمان شریعت کے تمام احکام پر خوشی خوشی عمل کرے۔ یہ عمل تنگ دلی کے ساتھ نہ ہو کیوں کہ سستی اور تنگ دلی کے ساتھ عبادات کو انجام دینا نفاق کی علامت ہے۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اللہ تعالی قران کی سورہ النساء کی آیت 142 میں فرماتا ہے کہ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ
” منافقین جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کاہلی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ” سستی اور کاہلی شریعت کا اتنا ناپسندیدہ عمل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم بھی اس سے پناہ مانگتے تھے وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ
” اے اللہ میں عاجزی اور سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں "۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اگر ہم سرکار علیہ وسلم کے مزاح کرنے کی عادت کا ذکر کریں تو
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ” میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں غزوہ تبوک میں حاضر ہوا، جب کہ آپ چمڑے سے بنے سائبان میں قیام پذیر تھے۔ میں نے سلام کیا، تو انھوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا آجاؤ میں نے عرض کیا: پورا کا پورا آجاؤں؟ آپ نے فرمایا: ہاں پورا کاپورا۔ (جگہ کی قلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان صحابی رضی اللہ عنہ نے جس محبت کے ساتھ مزاح کیا رسول اللہ ﷺنے کمالِ اخلاق مندی سے انہیں کے مزاحیانہ اسلوب میں جواب دیا)” ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ آداب کی رعایت کرتے ہوئے کبھی کبھی مزاح کی نہ صرف گنجائش ہے، بلکہ مستحسن ہے اور اسوہ نبوی کی اتباع ہے۔
اسی طرح سیدنا نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول ﷺ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اسی درمیان آپ کو گھریلومعاملات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی آواز بلند محسوس ہوئی۔ جب آپ گھر میں داخل ہوئے توسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف مارنے کے لیے لپکے اور اپنی بیٹی عائشہ کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول ﷺ سے اونچی آواز میں گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہوں؟!
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺعائشہ کو ان کے والد کی مار سے بچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ غصّہ کی حالت میں گھر سے نکل گئے۔ ابوبکررضی اللہ عنہ کونکلتے دیکھ کررسول اللہ ﷺنے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: کیا خیال ہے؟ میں نے تمہیں اس شخص (الرجل)سے بچایا کہ نہیں؟ راوی کہتے ہیں کہ ابوبکررضی اللہ عنہ کچھ دنوں تک ناراض رہے، پھر رسول اللہ ﷺکے یہاں حاضر ہوکر اندر آنے کی اجازت چاہی، گھر جاکر محسوس کیا کہ آپ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے مابین صلح ہوچکی ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ: ” آپ دونوں مجھے اپنی صلح میں شامل کرلیجیے،جس طرح آپ دونوں نے مجھے اپنے جھگڑے میں شامل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا کہ: جی ہاں آپ کو صلح میں شامل کرلیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اس حدیث میں ابوّ کے رشتہ کے حامل بزرگ جناب ابوبکررضی اللہ عنہ کو محض (الرجل) کہنے سے جو مزاح پیدا ہوتا ہے، اسے کوئی بھی شخص محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا اور یہ ہے محبت دلی لگائو خوش طبعی اور مزاح کا وہ دلکش اندا جو تاریخ اسلام میں ہمیں کہیں نہیں ملتا یہ صرف اور صرف سرکار صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ہی ہمیں نظر آتا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں شریعت نے ہر جگہ ایک دائرہ کھینچا ہوا ہے جو کام اس دائرہ میں رہکر ہوگا وہ جائز ہوگا اور جو دائرے سے باہر نکل گیا وہ ناجائز ہوگا کبھی کبھی مزاح کرنا سنت بھی ہے اور ضروری بھی لیکن اسے بار بار کرنا یعنی طول دینا منع ہے امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :” لوگوں کی ایک بہت بڑی غلطی اور جرم یہ ہے انہوں نے مذاق کو پیشہ بنا لیا ہے ” اتفاقیہ طور پر حسبِ موقع مزاحیہ گفتگو کرلینا اور تفریحی اشعار کہہ سن لینا اگرچہ جائز ہے؛ لیکن اس کے لیے اہتمام سے اجتماع کرنا اوراس میں گھنٹوں لگانا کسی طرح بھی درست نہیں ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں اس تحریر کے ذریعے ہم نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ خوش طبعی یعنی مزاح کا کرنا کس حد تک جائز ہے اور شریعت کے اس کے متعلق کیا احکامات ہیں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے مزاح کرنا جائز ہے اور اس سے تجاوز کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے لہذہ سرکارصلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم کی حیات طیبہ کو سامنے رکھتے ہوئے مزاح کا استعمال نہ صرف خوشطبعی میں شمار ہوگا بلکہ سنت نبوی کی پیروی بھی ہوگی ۔
میرے واجب الاحترام پڑ ھنے والوں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سے ہر وہ کام لے جس میں اس کی رضا شامل ہو اور جو سنت نبوی کی پیروی کرتے ہوئے ہم ادا کریں ۔آپ بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالی مجھے حق بات لکھنے کی اور ہم سب کو اسے پڑھکر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے آمین آمین بجاء النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم ۔۔

 

محمد یوسف برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اداسی
  • ڈیجیٹل دُنیا میں ہمارا کاغذی قافلہ
  • میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
  • ترے فقیر کا تیور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
محمد یوسف برکاتی

اگلی پوسٹ
احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
پچھلی پوسٹ
مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

متعلقہ پوسٹس

جن و اِنسان و ملک کو ہے بھروسا تیرا

اکتوبر 28, 2020

گِلہ کرنے پہ بھی مَیں

نومبر 16, 2025

سہائے

نومبر 15, 2019

جے تیرا دیدار نہ ہُندا

نومبر 6, 2022

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

جولائی 12, 2023

شہادتِ مولا علیؓ اور پیغامِ عدل

مارچ 11, 2026

نادان ادھاری کا خط

اکتوبر 14, 2025

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

پت جھڑ کی آواز

جنوری 7, 2020

دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ

دسمبر 20, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سرودِعشق

مئی 20, 2020

شو شو

جنوری 25, 2019

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں