435
سیاہ افق سے پرے شام دوں محبت میں
چراغ سا تجھے اک نام دوں محبت میں
عجب نہیں کہ مجھے ہو نشہ مسافت کا
میں ہر کسی کو یہی جام دوں محبت میں
مری گرفت میں آیا نہیں بدن کا لمس
اسے چراغ کی لَو نام دوں محبت میں
خدا کرے کہ تُو دل خود ہی پھیر لے مجھ سے
میں خود کو کیوں کوئی الزام دوں محبت میں
کوئی امید نہیں واپسی کی پھر بھی حسیب
اس انتظار کو کیا نام دوں محبت میں
حسیب بشر
