526
عدم ذات
احمد ہمیش
کسی کے لئے کچھ نہیں ہوتا
کچھ ہوتا بھی ہے
تو وہ بھی اس لئے نہیں ہوتا
کہ کہیں ہونے یا نہ ہونے کی منزل نہیں
دنیا شروع سے ہی سے احمقوں کی کارگاہ رہی ہے
اس کارگاہ میں مٹی سے
یا کسی بھی دھات سے
حماقت گڑھی جاتی ہے
شائد کسی زمانے میں
ایک انتہائی فضول لفظ محبت ہوا کرتاتھا
مگر اُسے مُردہ پاکے
کوئے اور گدھ چٹ کر گئے
تب اس پہ شیطان اتنا خوش ہوا
کہ اُس نے اپنی سلطنت میں ناچنا شروع کیا
تو آج تک مسلسل ناچ ہی رہا ہے
آئندہ بھی اسی طرح
ناچتا ہی رہے گا
کیونکہ اب مور کی کلغی سر میں لگا کے
رقص کے متوالوں کو بیوقوف نہیں بناسکتا
زندگی کی ساری کھیتیاں سوکھ گئیں
توٹڈی دل اُنہیں چَٹ کرنے کےلیے
کیوں اتریں گے

2 تبصرے
Really enjoyed your poem , stay blessed and stay in touch
Thanks