424
یہ ہم جو ہجر میں اس کا خیال باندھتے ہیں
ہوا کی شاخ سے بوئے وصال باندھتے ہیں
ہمارے بس میں کہاں زیست کو سخن کرنا
یہ قافیہ فقط اہل کمال باندھتے ہیں
یہ عہد جیب تراشاں کو اب ہوا معلوم
یہاں کے لوگ گرہ میں سوال باندھتے ہیں
وہ خوب جانتے ہیں ہم دعا نہادوں کو
ہمارے ساتھ بوقت زوال باندھتے ہیں
سبھی کو شوق اسیری ہے اپنی اپنی جگہ
وہ ہم کو اور ہم ان کا خیال باندھتے ہیں
تمہیں پتہ ہو کہ ہم ساحلوں کے پروردہ
محبتوں میں بھی مضبوط جال باندھتے ہیں
پھر اس کے بعد کہیں بھی وہ جا نہیں سکتا
جسے بھی باندھتے ہیں ہم کمال باندھتے ہیں
عباس تابش
