926
سوچ آئی تیرے لہجے کی کڑواہٹ پر
پھر غور کیا ہو جانے والی اکتاہٹ پر
طمانچہے کی صورت دے ماری میں نے
باتیں،یادیں ،الفت،چاہت تیری گھبراہٹ پر
اس سے پہلے کے اٹھ کہ تم جا تے
دل تھا کہ بیٹھ گیا کرسی کی سرسراہٹ پر
بھاگ کر جاؤں گی من کی دہلیز پر اس لیے
کان لگا رکھے ہیں دروازے کی ہر آہٹ پر
باتیں کرتی ہوں تیری سرگوشیوں سے
اٹھتے ہیں کئ سوال میری مسکراہٹ پر
تیرا ہجر گھیرے رکھتا ہے تسلسل سے مجھے
خاک ہوا سوچنا تیرے وصل کی گدگداہٹ پر
ہجرت کر آیا تیرا درد میری طرف پھر تو
اضطراب ہے تجھ سے ملاقات کی ہچکچاہٹ پر
اس سے پہلے کے گلے لگاتی تہمینہ تجھ کو
قدم روک گئے،تیرے لفظ پرے جا ہٹ پر
تہمینہ مرزا
