101
مری محبت بھی نیلگوں ہے
میں اس کو دوں گی گلاب نیلا
چمکتے عارض گھٹا سے گیسو
ہٹا دیا ہے نقاب نیلا
فلک سے آگے پلک سے آگے
نظر میں رکھا شہاب نیلا
ہے نغمہ آہنگ زندگی بھی
ہے ساز موج رباب نیلا
ہرے سمندر کے پاس جاؤں
تو وہ بھی نکلے سراب نیلا
جو لال لفظوں سے خط لکھا تھا
مجھے ملا ہے جواب نیلا
ہیں زخم سارے ہی نیلے نیلے
ہے یہ محبت عذاب نیلا
رفاقتوں کے سفر سے بوجھل
میں لکھ رہی ہوں نصاب نیلا
نیل احمد
