104
سفر میں تھوڑا سا جادو کا کھیل ہو جائے
میں جو لکیر بھی کھینچوں وہ ریل ہو جائے
نظر کا تیر تو پتھر میں ڈھل چکا کب کا
بس اب وہ آنکھ اٹھے اور غلیل ہو جائے
شکستہ شہر میں مٹی کے مرد و زن رکھ دوں
اسی بہانے ذرا ریل پیل ہو جائے
ربڑ کے پھول بنائے تو مسئلہ ہوگا
کہیں خفا نہ یہ جنگل کی بیل ہو جائے
شجر نے عرض گزاری تو یہ بھی ممکن ہے
گناہ گار پرندے کو جیل ہو جائے
جسے میں دیکھ کے خوش ہو رہا ہوں جنگل میں
اگر وہ لڑکی اچانک چڑیل ہو جائے
عاطف کمال رانا
