111
سفر یہ زیست کا کرنا ہمیں محال ہوا
لہو لہو ہوا دل درد بے مثال ہوا
ہوا جو درد تو سینے کو تھام کے اپنے
کنارے بیٹھ گئے آج یہ دھمال ہوا
ہوا بھی سرد تھی کچھ لوگ بھی تھے سرد یہاں
سبب تھا یہ ہی جو زخموں سے دل نڈھال ہوا
گلہ کریں بھی تو کس سے بتا دلِ ناداں
خطائیں اپنی ہیں جو آج یہ زوال ہوا
بڑی عجیب سی تھی داستانِ غم انکی
سنی جو ہم نے تو دل کا خراب حال ہوا
پریشاں دیکھ کے دنیا کو اپنا دکھ بھولے
خدا کا شکر کہ ہر زخم اندمال ہوا
بغیر دکھ کے نہیں شازیہ کوئی جگ میں
ملے جو ان سے تو یکدم ہمیں خیال ہوا
شازیہ طارق
