138
دن چھپا اور غم کے سائے ڈھلے
آرزو کے نئے چراغ جلے
ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا
آئے دنیا ہمارے ساتھ چلے
لب پہ ہچکی بھی ہے تبسم بھی
جانے ہم کس سے مل رہے ہیں گلے
دل کے ان حوصلوں کا حال نہ پوچھ
جو ترے دامن کرم میں پلے
کون یاد آ گیا اذاں کے وقت
بجھتا جاتا ہے دل چراغ جلے
مصلحت سرنگوں خرد خاموش
عشق کے آگے کس کی دال گلے
قابل اجمیری
