288
یاد تیری مرے تن من میں اترآتی ہے
جیسے تنہائی کسی بن میں اتر آتی ہے
جسم اکثر اسے تکلیف ہی دیتا ہے مگر
روح پھر بھی اسی برتن میں اتر آتی ہے
میری تنہائی میں بٹوارے کا باعث ہے وہی
ایک چڑیا مرے آنگن میں اترآتی ہے
جسم پر بوند شرارے کی طرح پڑتی ہے
یعنی اک آگ بھی ساون میں اتر آتی ہے
میرے اطراف وہ تنہائی ہے جس کے باعث
شامِ غم عالمِ گلشن میں اتر آتی ہے
ربط آئینے سے ہے اور نہ دیے سے میرا
کوئی وحشت ہے کہ دامن میں اتر آتی ہے
ساتھ میں انجم و مہتاب ہیں تو پھر کیسے
یہ سیاہی رخِ روشن میں اتر آتی ہے
وہ کوئی روپ ہے ہے یا دھوپ ہے کوئی اسعد
روشنی جس کی مرے تن میں اتر آتی ہے
