109
فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں
تمہارا ساتھ نہ ہوتا تو مر گیا تھا میں
کسی کے دست ہنر نے مجھے سمیٹ لیا
وگرنہ پات کی صورت بکھر گیا تھا میں
وہ خوش جمال چمن سے گزر کے آیا تو
مہک اٹھے تھے گلاب اور نکھر گیا تھا میں
کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر
کسی کے ہجر میں رو رو کے بھر گیا تھا میں
احمد خیال
