105
جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں
بات کرنے کا ہنر تھا مجھ میں
صبح ہوتے ہی سبھی نے دیکھا
کوئی تا حد نظر تھا مجھ میں
ماں بتاتی ہے کہ بچپن کے سمے
کسی آسیب کا ڈر تھا مجھ میں
جو بھی آیا کبھی واپس نہ گیا
ایسی چاہت کا بھنور تھا مجھ میں
میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ
اور صدیوں کا سفر تھا مجھ میں
احمد خیال
