104
بابا
بچپن سے آپ نے بھروسہ دیا
بیٹی کا احساس سے فخر کا غرور دیا
میں کہتی بچپن اور بڑھے ہو کر بابا
بس کھانسی سے آپ جتادینا آپ کا ساتھ ھے
یاد ہیں میٹرک کا امتحان بخار سے تپ رہی تھی
میرا بخار دیکھ کر کہا کوئی نہیں پڑھائی ضروری
بہن غصہ ہوگئی آپ بگاڈ رھے ہیں اسے
پڑھنا نہیں پھر کیا اس کو ناول ہی پڑھتے رہنا
بابا مسکرا کر کہتے یہ میری شیرنی
بس بابا آپ کی شیرنی کبھی کبھار بہت کمزور
ہوجاتی ھے
آپ کا یقین ہی لکھنے کے سفر کو جاری رکھا
بیٹا بیٹی کا فرق نہیں کیا کبھی آپ نے
جب آپ کا رخصت آخر شروع ہوا
بیٹوں بہوں بیٹیوں دامادوں دامادوں
نواسے اور پوتیان کون سب سے یتیم ہوا
سب کا درد ایک سا پرکھنا مشکل تھا
بھائی میرے سب خیال رکھتے میرا
بس بابا جان آپ سا کوئی نہیں میرا یہاں
خدیجہ آغا
