پاکستانی بھی کیا باکمال قوم ہے کہ یہاں کام، کوئی صنعت، کوئی کاروبار کوئی نیا خیال کوئی سہولت پیدا ہو تو اس کا نکتہ عروج فراڈ اور دھوکہ دہی پہ جا کھلتا ہے۔ دور کیا جائیے اب اس آن لائن کاروبار کو ہی دیکھ لیجیے جس کی رسی دراز ہو چکی ہے اور اس کو کھینچنے کے لیے نہ کوئی قانون ہے نہ کوئی رکاوٹ، اندھا دھند یہ کاروبار پھیلتا چلا جا رہا ہے یعنی تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔
ذرا بتلائیے کہ اپ آن لائن شاپنگ کیوں کرتے ہیں بھلا؟ دراصل اپ خود کو زحمت سے بچانا چاہتے ہیں۔
اپ گھر میں آن لائن سجے بازار پہ اعتبار کرتے ہیں، اسے اول حس لامسا کے درجے سے نیچے اتر کر بصارت اور سماعت پہ اعتبار کر کے مصنوعات کی خریداری کرتے ہیں۔ پہلا رسک اعتبار کا ہے کہ اپ نے چیز کو چھو کر براہ راست نہیں دیکھا۔ دوسرا خسارہ جو آپ کے حصے میں آتا ہے اگر چہ اپ نسبتاً مہنگی چیز خریدتے ہیں، اس پہ ڈلیوری چارجز برداشت کرتے ہیں لیکن آپ کو بھاؤ تاؤ کرنے کے موقع سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ آخر کیوں؟
سب سے بڑی سہولت جو آپ تصور کرتے ہیں کہ میرے حصے میں آئی ہے وہ یہ کہ میں نے اپنا قیمتی وقت بچا لیا چلو اچھا ہوا مجھے بازار پھرنے کی کوفت سے نجات ملی میں نے اپنا ایندھن اور توانائی بچالی۔
اور دوسری سہولت یہ کہ آن لائن بعض ایسی چیزیں دستیاب ہیں جن کو عام مارکیٹ میں ڈھونڈنا، کارے دارد۔ جی صاحب اگر ایسا ہو جائے تو یہ سودا ہرگز مہنگا نہیں۔
مگر بھلا ہو ہمارے پاکستانی ”زرخیز“ دماغوں کا جو ہر اچھے بھلے آئیڈیا کو فلاپ کرنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ جانے ہم کس عجیب وحشت و جنون میں مبتلا ہیں دور کیا جائیے یہ الیکٹرک بسوں کے بارے میں عبرت ناک حالات جو سننے کو مل رہے ہیں کچھ عرصہ بعد ہماری یہ پبلک پراپرٹی محض اس لیے دیدہ عبرت بنا دی جائے گی کہ ان گاڑیوں پہ ایک ایسی حکومت کا، جو کچھ لوگوں کی ناپسندیدہ ہے، کا نشان آویزاں ہے۔
خیر بات ہو رہی تھی آن لائن شاپ کیپر کی دراز رسی کی۔ تو ہوتا یہ ہے کہ آپ کے سارے خواب منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ بیل بجتی ہے کبھی فون کی کبھی گیٹ کی، اتنی رقم کا پارسل ہے رقم لے آئیے۔ اکثر اوقات تلخی ہوتی ہے اس بات پہ کہ آپ کو پیکٹ کھولنے نہیں دیا جاتا۔ کیوں جناب کیا آپ کو ڈر ہے کہ اس پہاڑ کو کھودنے سے کہیں اندر سے چوہا نہ نکل آئے؟ یہ کس بازار کا اصول ہے کہ اپ چیز دیکھے بغیر چیک کیے بغیر پیسے تھما دیں؟
دو تین دفعہ اس رویے پہ رائیڈرز کی شکایت کی ان کا کہنا ہوتا ہے کہ ہمیں کمپنی کی طرف سے بلکہ سب سے بڑی کمپنی کی طرف سے اجازت نہیں ملی اور کمپنی کہتی ہے ان کا اپنا گھپلا ہے۔ بیچ میں کون پستا ہے۔ بیچارہ کسٹمر۔ میرے جیسا آپ جیسا۔ اچھا ایک اور لطف کی بات ان رائیڈرز کے پاس کبھی چینج نہیں ہوتی۔ مطلوبہ رقم سے اوپر سو پچاس ان کی جیب میں چلے جاتے ہیں اس پہ ہم یہ سوچ کر صبر کر لیتے ہیں کہ چلو غریب آدمی ہے انھیں ٹپ کی مد میں یہ رقم چھوڑ دو۔ یہی غریب آدمی رونا روتا ہے کہ آپ غلط پارسل جب رقم کے بغیر واپس کر دیتے ہیں تو ہماری تنخواہ سے پیسے کٹ جاتے ہے۔ اگر ایسا ہے تو یہ کمپنی کی بدمعاشی ہے۔
آرڈر اور منافع آپ نے وصول کیا، اب مطلوبہ آرڈر آپ نے غلط بھیجا ہے اور جان بوجھ کر بھیجا ہے تو یہ نقصان رائیڈر کیوں اٹھائے۔ فراڈ کا طریقہ کار کیا ہوتا ہے کہ اپ نے ڈلیوری چارجز کو مناسب اور قابل برداشت بنانے کو آرڈر دو یا چار اشیاء کا کیا، اب پیکٹ کھولا تو اس میں سے صرف ایک چیز نکلی اور رقم اپ سے چاروں اشیاء کی مانگی جا رہی ہے۔ آرڈر اپ نے کچھ کیا، آ کچھ گیا۔ بعض اوقات غلطی سے آرڈر ریپیٹ ہوجاتا ہے۔ آپ کے سسٹم کی غلطی کسٹمر اور رائیڈر کیوں اس کی قیمت ادا کرے؟
رائیڈر صاحب فرماتے ہیں ”ہمیں ہدایت ہے کہ اپ پیسے لیں اور کسٹمر کو کہیں فلاں فلاں نمبر پہ رجوع کر کے فلاں سروس پہ پیکٹ جمع کروا دیں اور آرڈر صحیح کروا لیں۔ “ ان ”احکامات کو سن کر منہ سے بے اختیار اناللہ نکلتا ہے اور بھنا کر دل چاہتا ہے کہ کہیں میاں رکھو اپنی یہ آن لائن دکان اپنے پاس، ہم ان پیچیدگیوں میں پڑنے کو کیا آن لائن شاپنگ کرتے ہیں اور کیا ہماری آل اولاد اتنی ہی فرماں بردار ہے کہ ہماری چند سو یا ہزار کی شاپنگ کے لیے وہ یوں خوار ہوتی پھرے گی تو صاحب یہ ہے احوال اس آن لائن شاپنگ کی رسی دراز کا اور یوں لگتا ہے کہ عنقریب ہم کہتے پائے جائیں گے کہ بھیا یہ کمپنی نہیں چلے گی۔
سیمیں کرن
