102
تیرا وعدہ جھوٹا نکلا
ہجر ہی آخر سچا نکلا
میرا آنا دل میں تیرے
تیز ہوا کا جھونکا نکلا
ہم نے خود کو برسوں دیکھا
صرف نظر کا دھوکہ نکلا
اندر کی خاموشی ٹوٹی
دل سے شور شرابہ نکلا
میں سمجھا تو دکھ بانٹے گا
تو بھی غم کا مارا نکلا
جس کے خوف سے بھاگ رہا تھا
وہ اپنا ہی سایہ نکلا
طارق جاوید
