خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباریوڑ سے قوم بننے کا سفر!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

ریوڑ سے قوم بننے کا سفر!

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2022
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2022 0 تبصرے 55 مناظر
56

پاکستان کی تخلیق کا بنیادی نقطہ کلمہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ تھا جس پر برِ صغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے لبیک کہا اور تحریک پاکستان کا وجود عمل میں آگیا ۔ یہ کلمہ حق جو مسلمانوں کی میراث ہے پاکستان کے حصول کا نظریہ بھی رہا ۔ تحریک پاکستان کی کامیابی کے لئے بے تحاشہ بے دریغ قربانیاں دی گئیں پھر کہیں جاکر پاک سرزمین کا وجود دنیا کے تقشے پر پاکستان بن کر ابھرا ۔ دشمنوں کیلئے پاکستان کا وجود پہلے دن سے ہی ناگواری کا سبب رہا ہے لیکن مسلمانوں کا عزم اور قائدِاعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت دشمنوں کو خوفزدہ کئے ہوئے تھی جس کے باعث وہ تکمیل پاکستان کو روکنے سے قاصر رہے ۔ جیسے پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا انہوں نے اپنے کارندے آلہ کار ہم پاکستانیوں کی صفوں میں بھیج دئیے ۔ جن کا نا کوئی دین تھا، نا کوئی ایمان تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کسی مخصوص سرزمین سے تعلق نہیں رکھتے تھے یقینا ان کا سب کچھ پر تعیش زندگیوں کا حصول تھاجو دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں میسر ہوسکتی ہے ۔ ان اسلام دشمنوں نے پاکستان سے دشمنی کو بھر پور نبھایا اور اپنے ہم نواءوں کی خوب تربیت کی اور طرح طرح سے انکی تیاریاں کروائیں ۔
دشمنان پاکستان درحقیقت دشمنان ِ اسلام ہیں اور یہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب رہے ۔ یہ بدل بدل کر نفاق کے بیج بوتے رہے جن میں سب سے پہلے فرقہ واریت کا بیج بویا گیا اور عبادت گاہوں کو لہو لہان کروایا گیا جہاں تک ممکن ہوسکا اس بیج کی آبیاری کی جاتی رہی قوم کو کمزور کرنے میں یہ عمل انتہائی کارگر ثابت ہوا ۔ دوسرا اہم بیج تھا لسانیت کا جس نے زبان کی بنیاد پر قوم تو تقسیم کیا اور ایک منظم قوم( جس کی یکجہتی اور ایکتا کی بدولت ایک خطہ زمین کو آزاد کرایا گیا تھا) قومیتوں میں بٹ کر ملک کی کمزوری کا سبب بننے لگی ۔ ایک اہم بیج طبقاتی تفریق کا بویا گیا جہاں دولت نے اپنا کردار ادا کرنا تھا جس کے لئے بدعنوانی کو فروغ دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک طرف حرام اور حلال کی جگہ نظریہ ضرورت نے لے لی اور جو امیر تھا وہ امیر تر ، جو غریب تھا غریب تر ہوتا چلا گیا ۔ دہشت گردی کی جنگ کا بیج بھی خوب بویا گیا جس کے نتیجے میں ناصرف ہمارے فوجی جوانوں نے اپنی زندگیا ں قربان کی بلکہ ہمارے بچے بھی اس کی زد میں خوب آئے ، ایک ایسا بھی وقت تھا جب قوم خوف و ہراس کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہوتی چلی جارہی تھی ۔ یہ وہ وجوہات تھیں کے جن کی بدولت ہمارا تعلیمی نظام ایک منظم طریقے سے تبا ہ و بربادکردیا گیا اور ملک میں اہلیت (میرٹ) کا قتل ِ عام کیا جانے لگا، خودکشیوں کے سلسلے چل نکلے ۔ ابھی ہم بطور قوم اپنی بقاء کے سمندر میں واپس ابھرنے کیلئے ہاتھ پیر مار ہی رہے تھے کہ سماجی ابلاغ کے طوفان کی زد میں آگئے ۔ گوکہ کورونا نامی ایک جروثومے نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن ہر ملک اپنی اپنی سطح پر اس سے نبردآزما ہوا ، لیکن پاکستان نے بہت خوبی سے اللہ کی مدد سے دنیا میں سب سے بہترین طریقے سے اس کا مقابلہ کیا لیکن اسکے باوجود بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔ ایک طرف پاکستانی قوم کو دووقت کی روٹی کے حصول کی جدوجہد درپیش تو دوسری طرف مذکورہ بالا گھمبیر مسائل کے گرداب کا مسلسل سامنا رہا ہے ۔ یہ ایسا گرداب رہا کہ جس نے ایک طرف تو قوم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو معذور کردیا اور دوسری طرف جو بچ گئے تھے انکی سوچ پر مختلف طریقوں سے قبضہ کرلیا گیا ۔ غرض یہ کہ دشمن اپنی تمام تر کوششوں میں بھرپور کامیاب ہوتا رہا ۔ یہ پاکستان ہے جو اللہ رب العزت کی عطاء ہے ورنہ کوئی اور ملک ہوتا تو اتنے مصائب کے بعد دنیا کے نقشے سے کب کا زائل ہوچکا ہوتا ۔ لیکن مذکورہ عوامل نے قومی تشخص پرایسی کاری ضربیں لگائیں گئیں کے قوم کی قومیتوں میں تقسیم حتمی ہوکر رہ گئی ۔ اس کا فائدہ اٹھانے والوں نے جو درپردہ یا انجانے میں کسی کے آلہ کار بنے بیٹھے رہے ۔ اس کا سب سے بڑا قومی نقصان یہ ہوا یا پاکستان کو یہ نقصان پہنچا کہ سب سیاسی ہوگئے ، یعنی کوئی کسی کام کا نہیں رہا ، سب سیاست کی نظر ہوگیا ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ملک کے وہ ادارے جو منافع بخش ہوا کرتے تھے دیکھتے ہی دیکھتے تباہ و برباد ہوگئے ، نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی کے انہیں بند کردیا جائے لیکن انہیں سرکاری خزانے پر بطور بوجھ اٹھا لیا گیا جو ملکی رہی سہی معیشت کا بیڑا غرق کرنے کیلئے کافی رہا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان تو ایٹمی طاقت ہے ،جو دنیا میں عالمی اداروں کی جاری کردہ فہرست کیمطابق دینا میں صرف آٹھ ممالک ہیں ۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے جن میں زرخیز زمین سے لیکر قدرتی مدنیات اور سمندر جیسی نعمتیں شامل ہیں ۔ جی ہاں ! پاکستان ایک معجزاتی مملکت ہے ۔ جس کا منہ بولتا ثبوت یہی ہے کہ اس ملک کو کھانے والوں نے ہر طرح سے کھایا ہے لیکن یہ ملک اپنی جگہ اپنے اندر بسنے والوں کو پال پوس رہا ہے ۔

پاکستان طرز حکومت کبھی بھی پاکستان کے لئے سازگار نہیں رہا ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے گویا پاکستان کو اپنے آباءو اجداد کی جاگیر سمجھ لیا اور باہمی تعاون سے ملک کی حکمرانی کا ہار ایک دوسرے کے گلے میں ڈالنا شروع کردیا ۔ اس طرح سے پاکستان میں سیاست بھی ایک انتہائی منافع بخش پیشہ بن گیا اور اکثریت نے تو اسے خاندانی پیشہ بنا لیا ہے ۔ یہ لوگ اتنے منظم ہوگئے کہ ملک کے سیاسی دھارے میں کسی نئے کو برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ ایسے حکمران بنتے چلے گئے جن کے اقتدار میں عوام کو سوائے دلاسوں کے اور کچھ نا مل سکا ۔ یوں تو لاتعداد سیاسی اور مذہبی جماعتیں ، الیکشن کمیشن پاکستان کی فہرستوں میں موجود ہیں ، جن میں سے اکثریت انکی ہے جو صرف اور صرف انتخابات کے دنوں میں منظرِ عام پردیکھائی دیتے ہیں ۔ پاکستان تحریک انصاف نامی سیاسی جماعت کی تقریبا ً چھبیس سال قبل داغ بیل ڈالی گئی اس جماعت کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کوئی لسانی جماعت نہیں تھی اور نا ہی اس جماعت کا منشور کسی مخصوص طبقے کیلئے تھا غرض یہ کہ اس جماعت کیلئے سوائے عوام کو انصاف فراہم کیا جانا چاہئے کا نعرہ کافی تھا جسے بظاہر کوئی اہمیت نہیں دی گئی، لیکن اس جماعت کی سب سے اہم اور خاص بات یہ تھی کہ اس کے سربراہ و قائد دنیائے کرکٹ کی جانی اور مانی شخصیت عمران خان صاحب تھے اسکے ساتھ یہ خاصہ بھی آپ کے ساتھ ہے کہ پاکستان میں پہلا کینسر کا ایسا ہسپتال بنایا جہاں دنیا کی بہترین سہولیات موجود ہیں ۔ خان صاب فطری طور پر جدوجہد کرنے والے اور اس جدوجہد کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کے عادی ہیں ، اس جماعت کی مقبولیت میں پہلے دن سے ہی اضافہ ہونا شروع ہوگیا تھا ،دوسری طرف جہاں دیدہ سیاست دانوں کا خیال تھا کہ یہ ایک کرکٹر ہے اسے سیاست کی الف ب کا کیا پتہ عوام تو ہمارے متوالے ہیں یہ ہمارے لئے کیا مشکل کھڑی کرے گا اور ہم کہیں نہیں جانے والے، انکا یہ دعوی بھی غلط نہیں تھا کہ پاکستانی قوم کسی ریوڑ کی طرح ہے اور اس ریوڑ کو کیسے ہانکنا ہے ہم سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور حقیقت اس سے مختلف نہیں تھی ۔ پھر قدرت نے ایک بار پھر عمران خان صاحب کی نیک نیتی کا ساتھ دیا اور بین الاقوامی ادارے نے دنیا بھر میں موجود بدعنوانوں کے ناموں کا اعلان کردیا جس میں ہمارے ملک کے بھی نامی گرامی سیاستدان شامل تھے گویہ تحریک انصاف میں جیسے ایک نہیں روح پھونک دی گئی ہو ۔ بس پھر کیا تھا تحریک انصاف کی عوام میں غیر معمولی مقبولیت بڑھنا شروع ہوگئی ۔ عمران خان صاحب اور انکے ساتھیوں نے جلسے جلوسوں میں عوام میں بیداری کیلئے اور اپنے حق کیلئے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنا شروع کردی ، یہ ایک کٹھن مرحلہ تھا ، اس امر سے ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ پاکستانی سیاست ہمیشہ سے شخصیت پرستی کے گرد گھومتی رہی ہے اس حصار کو توڑنا آسان نہیں رہا ۔ قوم میں انکے حق پر قابض لوگوں کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور عوام کو یقین دلانا آسان نہیں تھا لیکن یہ بھی کسی معجزے سے کم نہیں تھا (یاد رکھیں پاکستان ایک معجزاتی مملکت ہے)عوام کو سمجھ آگئی کے انکی زبوں حالی اور انکے سیاسی رہنمائی کی خوش حالی کے پیچھے کون سے عوامل ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۸۱۰۲ میں پاکستان تحریک انصاف نے مخلوط حکومت تشکیل دی اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ۔ خان صاحب نے اب وہ اصلاحات ترتیب دینی تھیں کہ جن سے آئندہ بدعنوانی کے سوراخوں سے رساءوکو بند کیا جائے ۔ ایک بہت بڑا مسلۃ جو عالم اسلام کو درپیش تھا وہ تھا اسلاموفوبیہ کا کہ دنیا جہاں میں مسلمانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جارہا تھا اور تو اور ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخیوں کے سلسلے بڑھتے ہی جارہے تھے ، عالم اسلام کا یہ گھمبیر ہوتا ہوا مسلۃ عمران خان صاحب نے تن تنہا لڑا اور خوب لڑا ساتھ ہی عمران خان نے کشمیر اور فلسطین کے مسلئے پر افغانستان کے مسلئے پر دنیا کی آنکھیں کھولیں اور باور کرایا کہ مسلمانوں کے انکے حقوق دئے جائیں ۔ عمران خان نے دنیا پر یہ واضح کرنا چاہ کے پاکستان ایک خود مختار سیاست ہے جو اپنے فیصلے خودکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جسکا م ثبوت امریکہ کو بہت سارے معاملات میں باز رکھنے کو کہا گیا اور بھارت سے برابری کی بنیاد پر بات کرنے کی بات کی گئی ۔ ان وجوہات کو سابقہ حلیفوں نے اپنے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھ لیا کہ یہ ہماری خطے میں کی جانے والی سال ہا سال کی کوششوں پر پانی پھیر دینے کی کوشش کررہا ہے ۔ پھر کیا ہوا کہ ایک بار پھر انکے اندرونی آلہ کار متحرک ہوئے اور بغیر ملک کے مفاد کو خاطر میں رکھے ہوئے تمام نامی گرامی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے حکومت کو گرانے کی مہم کو عملی جامہ پہنایا جس کی تقریباً اداروں کی حمایت واضح دیکھی گئی ، اور اسطرح سے عمران خان صاحب وزیراعظم سے سابق وزیر اعظم ہوگئے، یہاں آگ لگانے والوں کے ارمانوں پر بھی برف پڑ گئی ۔ یہ جعل سازوں کی فتح کا دن تھا لیکن یہ تو تحریک ِ انصاف کے نئے جنم کا دن ثابت ہوا ، عوامی ردِ عمل نے حکومت میں آنے والوں کیلئے ایک ایک لمحہ دوبھر کردیا ،خان صاحب ایک بار پھرمقبولیت کے آسمان کو چھونے لگے پاکستانیوں سمیت ساری دنیا میں مقیم پاکستانی سڑکوں پر آچکے ہیں ، عوام میں اور بہت سارے اشرافیہ نے رنگ برنگی عینکیں اتار دی ہیں ، اب چپ نہیں رہا جارہا ۔ سب سے پہلے پشاور میں جلسے کی تاریخ میں ایک بڑے جلسے کا اضافہ کیا پھر کراچی کا رخ کیا اور کراچی نے حسب سابق عمران خان کو دل سے تسلیم کیا جب آپ یہ مضمون دیکھ رہے ہونگے تو جلسہ لاہور میں ہوچکا ہوگا اور لاہوری پچھلے جلسوں کی تاریخ گم کرنے میں کامیاب ہوچکے ہونگے ۔ عوام نے عمران خان سے اظہار یکجہتی کابہترین مظاہر ہ کیا ہے ،بظاہر ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی عوام ریوڑ سے قوم بن چکی ہے اور اپنے قومی لیڈر کی بقاء کیلئے جو کے قومی بقاء بن چکی ہے سڑکوں پر نکل چکی ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اس قومی بقاء کیلئے نکلنے والوں سے کیسے نمٹے گی ، جو وقت انتخابات سے قبل باقی بچا ہے اسے گزارنا بہت مشکل دیکھائی دے رہا ہے اس وقت تمام مسائل کا حل عام انتخابات کے علاوہ اور کچھ نہیں اورووٹ ہی یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون سیاسی لیڈر ہے اور کون قومی لیڈر ہے ۔

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • لوٹ کر آۓ نہیں چھوڑ کے
  • فریب دیتی رہی ہیں محبتیں کیا کیا
  • رحمت عزیز چترالی صاحب ایک عاشق رسول ﷺ!
  • رَہروِ تفتہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لہجہ نجانے کیوں ذرا بھیگا لگا مجھے
پچھلی پوسٹ
برکات ماہ رمضان

متعلقہ پوسٹس

اسرائیل اوردنیا کو لاحق خطرات؟

جون 20, 2025

پیاری بیٹی حوریہ ایمان کے نام

نومبر 7, 2020

تعلیم کا آفتاب نصف صدی کی بلندی پر

نومبر 11, 2025

لنگرخانوں سے کارخانوں کا سفر!

مارچ 11, 2021

حیات ایسے گزاری جارہی ہے

اکتوبر 24, 2025

میں نے بدل کے دیکھ لیا ہے مزاج تک

نومبر 8, 2025

لاڈلی کا کارنامہ

اگست 7, 2022

ایک اہم بات جو کہنے جا رہا ہوں

دسمبر 27, 2025

علامہ حسن رضابریلوی کی نعتیہ شاعری​

دسمبر 4, 2019

خدا کو اک طرف

دسمبر 26, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

رزم۔ حق میں وہ اکیلا بھی ہے لشکر...

جولائی 1, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اردو شاعری

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ...

جولائی 16, 2026

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا...

جولائی 15, 2026

کلام خاص نوجوانوں کے لیے

جولائی 12, 2026

وہ بچپن کا دور جب ہم کھیلا کرتے...

جولائی 9, 2026

تجھے مجھ سے جدائی کی اجازت ہے

جولائی 9, 2026

اردو افسانے

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

اردو کالمز

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

قلم کا سفر

جولائی 14, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

عورت

جولائی 7, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • احادیث سے زندگی آسان بنائیں

    جولائی 19, 2026
  • ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

    جولائی 19, 2026
  • پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

    جولائی 16, 2026
  • لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

    جولائی 15, 2026
  • پنجرے سے پرواز

    جولائی 14, 2026
  • قلم کا سفر

    جولائی 14, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مجھ کو روکا گیا

جون 27, 2025

کوئی ہو جس کو مرا انتظار...

نومبر 9, 2025

ہالی ووڈ کا فریب – دوسری...

جنوری 19, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں