353
جگر کو خون کئے دل کو بے قرار ابھی
بھٹک رہے ہیں ترے عشق میں ہزار ابھی
اسی لئے تو یہ دنیا دھلی دھلی سی لگے
ترے فراق میں روئے ہیں زار زار ابھی
ادائے خار سے گلشن کی بڑھ گئی زینت
اگرچہ پھولوں کے دامن ہیں تار تار ابھی
سیاہ بخت فضاؤں میں دل ہوا بد ظن
تری زبان کے تیور ہیں آب دار ابھی
ابھی نہ نکلے گا حاصل ہماری باتوں کا
تمہارے سر پہ ہے سایہ کوئی سوار ابھی
یہ دیکھتے ہیں کہ کل رنگ صبح کیا ہوگا
کہ آفتاب کا عالمؔ ہے انتظار ابھی
افروز عالم
