102
تجھ سے یوں دوستی نبھاٶں گی
اب کبھی لوٹ کر نہ آٶں گی
تو نے چاہی ہے میری بربادی
اب میں آباد ہو نہ پاٶں گی
دیکھ سب کچھ ہی سہہ لیا میں نے
تو نے سوچا تھا ٹوٹ جاؤں گی
دل میں اشکوں کا ایک دریا ہے
ان میں یادیں تری بہاٶں گی
یاد کر کے مجھے تو روۓ گا
میں تجھے اس طرح بھلاٶں گی
اب ترے نام پر نہ دھڑکے گا
دل کو میں بے حسی سکھاٶں گی
جاہ و حشمت کی آرزو کب ہے
میں فقط آبرو بچاؤں گی
راستے میں رہی سدا حاٸل
اب یہ دیوار ، در بناٶں گی
شب کے تاروں سے روشنی لے کر
اک چراغِ سحر جلاٶں گی
عاصمہ فراز
