104
روشنی پر کبھی بہاروں پر
نام لکھا ترا ستاروں پر
پانیوں میں وہ رقص کرتی تھی
آگ بہتی رہی کناروں پر
ابھی اترا ہی تھا جہاز کوئی
جم گٸ تھی نظر قطاروں پر
دل کی رمزیں نہيں سمجھ سکتے
جان دیتے ہیں جو ہزاروں پر
اس قدر تیز چلتا ہے لاہور
کوئی رُکتا نہیں اشاروں پر
بارشیں لاٸیں گی نیا موسم
تتلیاں بیٹھیں گی اناروں پر
آپ کے نام کا دیا بن کر
کوئی جلتا رہا مزاروں پر
تجدیدقیصر
