114
میرے وطن کی جان تھے عبدالقدیر خان
میرے وطن کی شان تھے عبدالقدیر خان
میرے وطن کو ایٹمی قُوّت بنا دیا
میرے وطن کا مان تھے عبدالقدیر خان
دُشمن کی کیا مجال جو دیکھے وہ اِس طرف
مضبوط سائبان تھے عبدالقدیر خان
دُشمن سے بچنے کا بھی وہ سامان کر گئے
ایسی کڑی کمان تھے عبدالقدیر خان
تعبیر بن گئے ہیں وہ قائد کے خواب کی
مِلّت کے پاسبان تھے عبدالقدیر خان
دُشمن کو زیربار کِیا اِس طرح کہ بس
مِثلِ فلک اُٹھان تھے عبدالقدیر خان
“شہناز” وطن کو کِیا محفُوظ اُنہوں نے
یُوں فخرِ پاکستان تھے عبدالقدیر خان
شہناز رضوی
