107
پہلے صدمات بھی بھلانے ہیں
اور جنازے کئی اٹھانے ہیں
سوچ کر رب سے مفلسی مانگی
دوست احباب آزمانے ہیں
مسکرائیں گلے لگائیں اسے
زخم اتنے کہاں پرانے ہیں
حکم تھا خواب کے چراغ سبھی
آنکھ کے خون سے جلانے ہیں
کچھ پرندوں کو در بدر کر کے
کچھ ہرے پیڑ بھی گرانے ہیں
خود کو مرنے سے تو بچا نہ سکے
اب فقط حوصلے بچانے ہیں
آئنے سے الجھنا ہے ارشاد
شعر دیوار کو سنانے ہیں
ارشاد نیازی
