531
دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں
اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں
ڈوبتی جاتی ہیں مٹی میں بدن کی کشتیاں
دیکھنے میں یہ زمیں کوئی سمندر بھی نہیں
جتنے ہنگامے تھے سوکھی ٹہنیوں سے جھڑ گئے
پیڑ پر پھل بھی نہیں آنگن میں پتھر بھی نہیں
خشک ٹہنی پر پرندہ ہے کہ پتا ہے عدیمؔ
آشیانہ بھی نہیں جس کا کوئی پر بھی نہیں
جتنی پیاری ہیں مری دھرتی کو زنجیریں عدیمؔ
اتنا پیارا تو کسی دلہن کو زیور بھی نہیں
عدیم ہاشمی
