449
پورے کا پورا آکاش گھما کر بازی دیکھی میں نے
کالے گھر میں سورج رکھ کے
تم نے شاید سوچا تھا میرے سب مہرے پٹ جائیں گے
میں نے ایک چراغ جلا کر
اپنا رستہ کھول لیا
تم نے ایک سمندر ہاتھ میں لے کر مجھ پر ڈھیل دیا
میں نے نوح کی کشتی کے اوپر رکھ دی
کال چلا تم نے اور میری جانب دیکھا
میں نے کال کو توڑ کے لمحہ لمحہ جینا سیکھ لیا
میری خودی کو تم نے چند چمتکاروں سے مارنا چاہا
میرے اک پیادے نے تیرا چاند کا مہرہ مار لیا
موت کو شہ دے کر تم نے سمجھا تھا اب تو مات ہوئی
میں نے جسم کا خول اتار کے سونپ دیا ۔۔۔اور روح بچا لی
پورے کا پورا آکاش گھما کر اب تم دیکھو بازی
گلزار
