344
خود کشی
بس اک لمحہ کا جھگڑا تھا
در و دیوار پر ایسے چھناکے سے گری آواز جیسے کانچ گرتا ہے
ہر اک شے میں گئیں اڑتی ہوئی، جلتی ہوئی کرچیں
نظر میں، بات میں، لہجے میں، سوچ اور سانس کے اندر
لہو ہونا تھا اک رشتے کا سو وہ ہو گیا اس دن!!
اسی آواز کے ٹکڑے اٹھا کے فرش سے اس شب
کسی نے کاٹ لیں نبضیں
نہ کی آواز تک کچھ بھی
کہ کوئی جاگ نہ جائے
