104
خلوت سے ہو گیا ہوں میں بیزار کچھ کہو
کیوں جانے ہوگیا ہوں میں بیکار کچھ کہو
اس ہاتھ میں قلم کے سوا اور کچھ نہیں
کیوں ہے تمہارے ہاتھ میں ہتھیار کچھ کہو
یہ نگری تو ہے اندھوں کی ، بہروں کی، گونگوں کی
پر تم لگے ہو صاحبِ اسرار کچھ کہو
اس ملک میں ضمیر ملے گا ٹکے کے بھاؤ
"تم بھی اگر ہو اس کے خریدار کچھ کہو”
تم ہی کہو کہاں پہ ملے گا مجھے خدا
ہر سمت ہے یہاں پہ تو دربار کچھ کہو
لگتا نہیں ہے دل بھی چمن کی بہار میں
تم بھی ہوئے ہو خوشبو سے سرشار؟ کچھ کہو
ہم زیب لکھ رہے تھے زمانے کے یہ ستم
اپنے ہی کہنے لگ گئے غدار کچھ کہو
محمد شاہ زیب احمد
