392
راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہے
سر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے
آگ ہی آگ ہو سینے میں تو کیا پھول جھڑیں
شعلہ ہوتی ہے زباں لفظ شرر بنتا ہے
زندگی سوچ عذابوں میں گزاری ہے میاں
ایک دن میں کہاں انداز نظر بنتا ہے
مدعی تخت کے آتے ہیں چلے جاتے ہیں
شہر کا تاج کوئی خاک بسر بنتا ہے
عشق کی راہ کے معیار الگ ہوتے ہیں
اک جدا زائچۂ نفع و ضرر بنتا ہے
اپنا اظہار اسیر روش عام نہیں
جیسے کہہ دیں وہی معیار ہنر بنتا ہے
جلیل عالی
