117
پودوں کا مسئلہ تو فقط دیکھ بھال ہے
پوچھو نہ جو گلاب فروشوں کا حال ہے
منصب تو خیر زخم کا یوں بھی نہیں پتہ
بس شکر کر رہا ہوں اذیت بحال ہے
افسوس کا سراغ ہے جس کے مزاج پر
تصویر میں وہ رنگ زیادہ نڈھال ہے
گریے کا اکتفا سے تعارف کرائیے
پانی میں اس بھنور کا ابھی پہلا سال ہے
جیسے کسی بزرگ سے غصے میں بات چیت
یہ آئینے میں شرم نہیں ہے ، ملال ہے
کیا عمر ہے جو گزری گزاری نہیں ہوئی
اس خواب میں تو پلکیں جھپکنا محال ہے
لیکن ، بھلا رہا ہوں مرا حوصلہ تو دیکھ
لیکن ، میں بھول جاؤں مری کیا مجال ہے
سورج نہیں ہے اور ہے دن بھی چڑھا ہوا
میں بھی یہاں چراغ نہیں ہوں ، کمال ہے
ہم خوش ہیں اک خیال ِ خداۓ خیال سے
ویسے ضمیر قیس ترا کیا خیال ہے ؟
ضمیر قیس
