خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیم کا مقصد: شعور یا روزگار؟

از سائیٹ ایڈمن نومبر 3, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 3, 2025 0 تبصرے 108 مناظر
109

تعلیم روزگار کے لیے نہیں ہے۔ تعلیم تو شعور اور بیداری کے لیے ہے۔ مگر یہ احساس آسانی سے نہیں آتا۔ برسوں کے تجربے، مشاہدے اور دھکّوں کے بعد جب انسان نظام کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو پہچانتا ہے، تب جا کر سمجھ میں آتا ہے کہ تعلیم کا اصل کام انسان کو سوچنے کے قابل بنانا ہے، نہ کہ محض نوکری کے قابل۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں بچہ بولنا شروع کرے تو والدین اس کے کان میں یہی جملہ ڈالتے ہیں: "بیٹا محنت سے پڑھو تاکہ بڑی نوکری ملے، اچھی زندگی گزرے۔” کسی نے کبھی یہ نہیں کہاeducation کہ "بیٹا پڑھو تاکہ تم اچھا انسان بنو، انصاف کو سمجھو، سچ بولنے کی ہمت پیدا کرو۔” تعلیم کا مقصد اخلاق، شعور اور انسانیت کی تعمیر تھا، مگر ہم نے اسے محض معاشی دوڑ کا ہتھیار بنا دیا۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے۔ تعلیم جب روزگار کے تابع ہو جائے تو علم کی روح مر جاتی ہے۔ طالب علم نصاب کو یاد تو کر لیتا ہے مگر زندگی کو نہیں سمجھتا۔ وہ نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے مگر بصیرت سے خالی رہتا ہے۔ اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں مگر اس کا ذہن اندھا ہوتا ہے۔

تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علم کبھی روزگار کا ذریعہ نہیں تھا۔ بغداد، قرطبہ اور سمرقند کے مدارس میں تعلیم کا مقصد انسان سازی تھا۔ وہاں سوال پوچھنے کو عبادت سمجھا جاتا تھا، سوچنے کو علم کا درجہ دیا جاتا تھا۔ علم وہ روشنی تھی جو ذہنوں کو آزاد کرتی تھی۔ مگر پھر تاریخ نے کروٹ لی۔ برصغیر پر نوآبادیاتی دور آیا، اور انگریزوں نے تعلیم کو ایک نیا مفہوم دیا ۔ ایسا مفہوم جس نے قوموں کے ذہن غلام بنا دیے۔

لارڈ میکالے کے نظامِ تعلیم نے ایک مخصوص ذہن تیار کیا: ایسا ذہن جو سوچتا نہیں، صرف حکم مانتا ہے۔ ایسے لوگ جو سوال نہیں کرتے، بس نوکری کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ یہی سوچ ہمارے اندر بس گئی۔ آج بھی ہمارا تعلیمی نظام اسی میکالے کے سانچے میں جکڑا ہوا ہے۔ ہم ذہن نہیں بناتے، کلرک بناتے ہیں۔ ہم تخلیق نہیں کرتے، نقل کرتے ہیں۔

یہ نظام محض اتفاق سے نہیں بنا۔ اسے ایسے ہی رہنے دیا گیا تاکہ شعور پیدا نہ ہو۔ کیونکہ شعور بیدار ہو جائے تو سوال اٹھتے ہیں، اور سوال اٹھیں تو طاقتوروں کی کرسی ہلتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نصاب میں تاریخ کو مسخ کر کے پڑھایا جاتا ہے، فلسفہ غائب ہے، تنقیدی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں، اور طلبہ کو سوال کرنے کے بجائے رٹنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اساتذہ پر بھی ظلم ہوا۔ وہ اس نظام کا سب سے مظلوم طبقہ ہیں۔ وہ جو علم کے امین تھے، خود غمِ روزگار کے اسیر بن گئے۔ ایک استاد جسے قوم ساز ہونا چاہیے تھا، وہ اپنے بچوں کے اسکول کی فیس جمع کرنے کے لیے پریشان ہے۔ جب ایک معلم خود معاشی مجبوری میں جکڑا ہو تو وہ اپنے شاگرد کو بلند سوچ کیسے دے سکتا ہے؟
اس کا قصور نہیں۔ اس کے حالات ایسے رکھے گئے کہ وہ سوچنے سے پہلے زندہ رہنے کی فکر کرے۔

اساتذہ کے ساتھ ساتھ نصاب کی حالت بھی مایوس کن ہے۔ نصاب کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ ذہن بند رہے، سوچ نہ پیدا ہو۔ ہمارے طلبہ کو صرف یاد کروایا جاتا ہے، سمجھایا نہیں جاتا۔ ہر سوال کا ایک "درست جواب” ہوتا ہے گویا دنیا کے تمام مسائل حل ہو چکے ہیں۔ حالانکہ علم تو اسی وقت جنم لیتا ہے جب انسان "غلط” جواب دینے سے نہیں ڈرتا۔

اسی نظام نے ہمارے ذہنوں سے سوال کرنے کی جرات چھین لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نوجوان تھوڑا سا مختلف سوچتا ہے تو اسے باغی یا بدتمیز کہا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی وہ ذہن ہیں جو معاشرے کو آگے لے کر جاتے ہیں۔

تعلیم کی یہ سطحی تعبیر نہ صرف شعور کو محدود کرتی ہے بلکہ اخلاقیات کو بھی کھا جاتی ہے۔ آج ہمارے ہاں پڑھے لکھے لوگ تو بہت ہیں، مگر کردار والے کم۔ علم نے دماغ بھر دیے ہیں مگر دل خالی چھوڑ دیے ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد انسان کی ذات کو روشن کرنا تھا، مگر ہم نے اسے محض ذریعہ معاش بنا دیا۔

تعلیم اگر انسان کے کردار، انصاف، محبت اور ذمہ داری کا احساس نہ جگائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔ ایک پڑھے لکھے بے ضمیر شخص سے زیادہ خطرناک کوئی نہیں۔ جب علم کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹ جائے تو وہ طاقت بن جاتا ہے، روشنی نہیں۔

ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہمارا تعلیمی نظام بیمار ہے۔ یہ طلبہ کو سوچنے نہیں دیتا، صرف چلنے کا حکم دیتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی اصلاح درکار ہے جو تعلیم کو دوبارہ انسانیت سے جوڑ دے۔ ہمیں نصاب میں فلسفہ، سماجی علوم، اور اخلاقی تربیت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

اساتذہ کو محض تدریس نہیں، تربیت بھی دینی ہوگی۔ انہیں صرف نصاب نہیں بلکہ زندگی سکھانے والا بنانا ہوگا۔ انہیں مالی تحفظ دینا ہوگا تاکہ وہ فکری آزادی سے پڑھا سکیں۔

اسی طرح امتحانات کے نظام کو بھی بدلنا ہوگا۔ امتحان یادداشت کا نہیں، فہم کا ہونا چاہیے۔ طالب علم سے یہ پوچھا جائے کہ وہ مسئلہ سمجھتا ہے یا نہیں، نہ کہ وہ کتاب کے الفاظ دہرا سکتا ہے یا نہیں۔

اگر ہم نے یہ قدم نہ اٹھائے تو آنے والی نسلیں بھی اسی اندھے راستے پر چلتی رہیں گی ۔ وہ راستہ جہاں علم تو ہے مگر شعور نہیں، ڈگری تو ہے مگر بصیرت نہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تعلیم کو روزگار کی غلامی سے آزاد کریں۔ تعلیم کا اصل مقصد ذہنوں کو آزاد کرنا ہے۔ ایک ایسا ذہن جو سوال کر سکے، جو انصاف کے لیے کھڑا ہو، جو انسان کی قدر پہچانے۔

تعلیم وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو چیرتا ہے، مگر اگر اسے نوکری کے دفتروں میں قید کر دیا جائے تو وہ چراغ بجھ جاتا ہے۔ ہمیں اس چراغ کو دوبارہ روشن کرنا ہے۔
اور شاید تب ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہمیں آخرکار سمجھ آ گی
تعلیم روزگار کے لیے نہیں تھی، شعور کے لیے تھی۔
تعلیم نوکری نہیں دیتی، روشنی دیتی ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • الوداع ماہ رمضاں
  • دیکھنے میں تو میں ایک ہوں
  • مس مالا
  • دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اک للکار سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 2)
پچھلی پوسٹ
کیوں بھیجا مجھے تو نے

متعلقہ پوسٹس

حرفِ ندارد

جنوری 7, 2020

بے قراری سی پیدا ہوئی من میں ہے

دسمبر 16, 2021

تو زیادہ میں سے باہر نہیں آیا کرتا

مئی 23, 2020

خواہش

اگست 6, 2020

رہنمائی کے لئے ہم نے سہارا باندھا

نومبر 27, 2021

خشت و گل

جون 9, 2020

بادشاہت کا خاتمہ

دسمبر 7, 2019

رب تعالیٰ سے تجارت

مارچ 28, 2026

ذہنی سکون کا سفر

دسمبر 6, 2024

عالاں

جنوری 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہزار شعر

مارچ 6, 2023

قبض اور بواسیر طب نبویﷺ کی...

اپریل 28, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں