خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباتعلیم، ہنر اور روزگار
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

تعلیم، ہنر اور روزگار

از سائیٹ ایڈمن نومبر 18, 2025
از سائیٹ ایڈمن نومبر 18, 2025 0 تبصرے 75 مناظر
76

تعلیم، ہنر اور روزگار: نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں
ہمارے معاشرے میں تعلیم ہمیشہ سے ترقی، شعور اور شخصیت سازی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ مگر پچھلے چند برسوں میں اعلیٰ تعلیم کے نظام میں جو بے ترتیبی پیدا ہوئی ہے اس نے نوجوانوں کی زندگیوں میں ایک نئی الجھن پیدا کر دی ہے۔ یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہر سال ہزاروں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ ظاہری طور پر یہ منظر خوش کن لگتا ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ڈگریوں کی فراوانی نے معیار کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے اور روزگار کی منڈی میں غیر متوازن صورت حال پیدا کر دی ہے۔

ہمارے ملک کی یونیورسٹیاں علم سے زیادہ اس دوڑ میں شامل دکھائی دیتی ہیں کہ کون زیادہ ڈگریاں تقسیم کر سکتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد تربیت، ہنر اور کردار سازی ہے مگر یہ مقصدeducation پیچھے رہ گیا ہے۔ طلبہ کلاس روم سے تو نکلتے ہیں لیکن عملی دنیا کے چیلنجوں کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کے پاس کاغذی اہلیت موجود ہے مگر وہ ہنر اور عملی مہارتوں سے محروم رہ جاتے ہیں جو آج کی جدید معیشت اور مارکیٹ کی ضروریات کے لیے لازمی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں عملی تربیت کے مواقع محدود ہیں۔ بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں ہمارے ہاں انٹرن شپ، پروجیکٹس، کمیونیکیشن اسکلز اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کا فقدان نمایاں ہے۔

اس کے برعکس معاشرے میں ہنرمند افراد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ والدین اور طلبہ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ اب ڈگری کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ ہنر کو ثانوی اور غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ٹیکنیکل ادارے خالی پڑتے جا رہے ہیں اور مارکیٹ جدید ہنر سے محروم لوگوں کو پیدا کر رہی ہے۔ ملک کا وہ طبقہ جو ہاتھوں کے ہنر سے معیشت کی بنیاد بنتا ہے وہ کم ہوتا جا رہا ہے اور اس کے معاشی اثرات وقت کے ساتھ مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔

جب ڈگری یافتہ نوجوان عملی دنیا میں روزگار تلاش کرتے ہیں تو انہیں ایک تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مارکیٹ میں اس قدر نوجوان موجود ہیں کہ ایک نشست کے لیے بیسیوں امیدوار کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تنخواہیں کم اور مواقع محدود ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ بے روزگاری کا بڑھنا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی بحران بھی ہے۔ گھر والے توقعات کے بوجھ کے ساتھ نوجوان کو دیکھتے ہیں جبکہ نوجوان خود کو ناکامی کے دہانے پر محسوس کرنے لگتا ہے۔ مایوسی کے بڑھنے سے نوجوان جرائم، چوری چکاری اور منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان تو اتنی گہری مایوسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ زندگی کو ختم کرنے جیسے انتہائی قدم کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب رہا ہے۔

ریاست، معاشرہ اور تعلیمی ادارے اگر بروقت سمت درست نہ کریں تو یہ مسئلہ آنے والے برسوں میں ایک بڑے بحران کا روپ اختیار کر لے گا۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنائے۔ صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ ہونا چاہیے تاکہ یونیورسٹیاں طلبہ کو وہ مہارتیں سکھائیں جن کی مارکیٹ کو واقعی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کے لیے ایسے پلیٹ فارم فراہم کرنے ہوں گے جو انہیں عملی تربیت دیں اور انہیں جدید ہنر سکھا کر روزگار کے قابل بنائیں۔ اسی طرح انٹرن شپ پروگرام، سٹارٹ اپ کلچر اور فری لانسنگ کی تربیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

نوجوانوں کو بھی اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ یہ سوچ بدلنی ہوگی کہ کامیابی صرف ڈگری کے نام پر حاصل ہوتی ہے۔ اصل کامیابی اس ہنر اور قابلیت کا نام ہے جو انسان کو زندگی میں خود مختار اور مضبوط بناتی ہے۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اس بدلتی دنیا میں وہی نوجوان آگے بڑھ سکتا ہے جو سیکھنے کی لگن رکھتا ہو، محنت کرنے کے لیے تیار ہو اور مارکیٹ کی ضروریات کو سمجھتا ہو۔ نوجوان اگر مسلسل سیکھتے رہیں تو ان کے لیے کامیابی کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ ہمیں معاشرے میں یہ سوچ پیدا کرنی ہوگی کہ ہنر مند کو باوقار مقام دیا جائے۔ جب معاشرہ ہنر کی قدر کرے گا تو نوجوان خود بخود اس سمت آئیں گے۔

آخر میں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نئے گریجویٹس کا مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ قوم کے مستقبل کا سوال ہے کیونکہ نوجوان ہی وہ سرمایہ ہیں جو ملک کی ترقی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس سرمایہ کی حفاظت، پرورش اور رہنمائی ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے تعلیم اور ہنر کے درمیان توازن قائم کر لیا تو نہ صرف بے روزگاری کم ہوگی بلکہ نوجوان اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا کر معاشرے کی ترقی میں کردار ادا کریں گے۔ یہی قدم ہماری قوم کو مضبوط بنائے گا اور اسے وہ سمت دے گا جس کی اسے شدید ضرورت ہے۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سرنگ
  • گرے بلیک لسٹ کی دلدل اور پاکستان
  • کہیں دیوار، کہیں چھت، کہیں در
  • بے دم سا ترا لے کے میں احسان پڑا ہوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دکھوں میں سرپرستی آپ نے کی
پچھلی پوسٹ
رشید حسرتؔ

متعلقہ پوسٹس

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

معاصر اُردو غزل میں شاہد ذکی کی تازہ کاری

ستمبر 29, 2021

عقل داڑھ

جنوری 20, 2020

پیغام ضروری کبھی الہام ضروری

نومبر 8, 2025

خوراک غم کو کر لیا جینے کے واسطے

مارچ 15, 2020

ہجرلازم ہے اب زندگی کے لیے

مئی 20, 2020

سفید گھوڑا

مئی 7, 2023

خود سے جب بے زاری ہو

اپریل 6, 2020

انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے نکلے

اگست 25, 2025

سینے میں ہجرِ یار کے گھاؤ کے باوجود

نومبر 8, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان کہاں ہے؟

اپریل 9, 2023

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

کشمیریوں کی منفرد ثقافت اور روایات!

فروری 5, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں