خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان کہاں ہے؟
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

پاکستان کہاں ہے؟

از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2023
از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2023 0 تبصرے 122 مناظر
123

ہم پاکستانی تاریخ کے اہم ترین دور میں زندہ ہیں ۔ اہمیت کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ کہ پاکستانیونے اپنی پہچان تلاش کرلی ہے اور اب اسے منوانے کے درپے ہیں ، دوسری طرف پورا عالمی منظرنامہ اپنی اہمیت کی داستان سنارہا ہے ۔ آج دنیا کسی نا کسی طرح سے ایک دوسرے سے کسی نا کسی وجہ سے جڑی ہوئی ہے ۔ کسی کے مفاد کسی کے ساتھ وابستہ ہیں اور کوئی اپنے مفاد کی خاطر اپنے پڑوسی ممالک سے بھی باز رہنے کی کوشش کررہا ہے ۔ تخریب کاری اور دہشت گردی نے اپنی شکل اس لئے بدل لی ہے کہ سماجی ابلاغ کچھ بھی چھپنے نہیں دے رہا اور ناہی کسی دباءو کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہے جبکہ ساری دنیا نے اس حوالے سے قوانین کا اطلاق کر رکھا ہے ۔ اس ڈھونگی دنیا میں اب تو سب کچھ صاف صاف دیکھائی دے رہا ہے ۔

پاکستان میں عام آدمی سے لے کر انتہائی خاص افراد تک سب ایک ہی نظریئے کے تحت پاکستان میں مقیم ہیں اور وہ یہ ہے کہ میں اپنا فائدہ کیسے حاصل کرسکتا ہوں ، دوسری طرف ہم پاکستانیو کا سب سے بہترین مشغلہ کرکٹ یا پھر سیاست پر گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو کرنا ہے اور کسی بھی عمل کیلئے اپنی عدم دستیابی کیلئے معذرت پیش کردینا ہے ۔ معلوم نہیں کب سے ہم پاکستانیوں کی زندگی ایک چکر میں گزر رہی ہے نا تو ہم پریشان ہورہے ہیں اور ناہی چکر ختم ہوکر دے رہا ہے البتہ یہ ضرور ہے چکر ہی چکر میں لوگ بدلتے جارہے ہیں (اس دارِ فانی سے کوچ کرنے کے بعد) ۔ افراد کی ایک قلیل تعداد جو اپنے مستقبل کیلئے بہت زیادہ حساس ہوتی ہے اور اپنی زندگی کو قیمتی سمجھتے ہوئے اس گردشی گرداب سے نکلنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں اور کسی حد تک کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ یہی لوگ عثمان خواجہ، حمزہ یوسف، سکندر رضا اور ان جیسے بہت سارے لوگ دنیا کے افق پر چمکتے دمکتے دیکھائی دیتے ہیں یہ اپنی قدر منوالیتے ہیں کیوں کے دنیا میں میرٹ(اہلیت ) کا نظام چلتا ہے ۔

ہم جس نظام کا حصہ ہیں یہاں کوئی بھی اہم نہیں ہے یا پھر سب ہی اہم ہیں مسلۃ یہ ہے کے کوئی کسی کی نہیں سنتا اور اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایک ادارہ دوسرے ادارے کی بات جو حکم کا درجہ رکھتی ہے مسترد کردیتا ہے ۔ یہ جاننے کیلئے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ہ میں اپنے کردار پر نظر ڈالنی ہوگی جب ہم عبادت کرتے ہیں تو اس کا خالص مقصد یہ ہوتا ہے کہ خالق کائنات کو راضی کرلیا جائے تاکہ ہم ان نعمتوں تک پہنچ سکیں کہ جن کی ہم کوشش نہیں کرتے ، ہم اپنی اولاد کیلئے اور اپنی ذاتیات سے منسلک دعائیں کرتے ہیں یہاں ہ میں یہ پتہ چلا کہ اپنے لئے ہم ہی اہم ہیں ، جبکہ ہمارے لئے ہمارے دین کا نفاذ ، ملک کا استحکام، معاشرے کا سدھار، معیشت کی بہتری ، اور اسی طرح کے دیگر امور بھی برابر کی اہمیت رکھتے ہیں جو ہماری دعاءوں میں شائد ہی شامل ہوتے ہیں اسی طرح ہم اپنے ارد گرد ہونے والے معاملات سے بے خبر اپنی راہ لئے چلے جاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہ میں کسی بھی طرح سے راستہ سہی اور سیدھا مل جائے ، ہماری راہ میں رکاوٹ نا ہو، آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب کبھی سڑک پر ٹریفک میں پھنس جانے کے بعد آپ ادھر ادھر سے نکلتے ہیں تو پلٹ کر دیکھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ یا ر ہم تو نکل گئے اور گاڑی کے رفتار بڑھاتے ہوئے نکل جاتے ہیں ، ایک طرف تو قطار میں لگنے سے بچنے کیلئے کسی بھی طرح کا اقدام اٹھانے کیلئے تیار رہتے ہیں لیکن اگر کہیں قطار میں لگ جائیں تو ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح سے جلد از جلد اپنا کام ہوجائے ۔ اس ساری گفتگو میں اہم ترین ہم تھے اور ہم سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ جب آپ کسی بھی چیز کا خیال نہیں کریں گے یا خیال کرنے والوں کی توجہ نہیں دلوائیں گے تو پھر چیز نے تو خراب ہونا ہی ہے پہلے تھوڑی اور پھر مکمل طور تباہ و برباد ہوجاتی ہے ۔

پاکستان کو کبھی بھی حقیقی جمہوری نظام میسر نہیں آسکاکبھی فوجی مارشل لاء لگے رہے تو دوسری طرف سیاسی مارشل لاء نے اقتدار کے مزلے لوٹے اور تاحال لوٹ رہے ہیں ۔ سیاسی مارشل لاء کو ہمارے ملک میں بطور جمہوریت عوام میں مشہور کیا گیا اور بدقسمتی سے عوام بھی ایسا ہی سمجھتی چلی آرہی ہے ۔ کسی بھی نظام کا جب عملی کام ہی بدل دیا جائے تو بھلا نام کو کیسے زندہ رکھا جاسکتا ہے ۔ جس کی روح سے سیاسی مارشل لاء کو باقاعدہ طور پر سمجھنے کی کوشش کریں توہ میں سمجھ آتا ہے کہ یہ تو ذاتی مفادات کے لئے بر سرپیکار ہونے کا نظام ہے ۔ یہاں تو سیاسی جماعتیں بھی افراد کے گرد بنتی پنپتی اور ختم ہوتی دیکھی گئی ہیں ۔ افراد اپنے مفادات کی بھینٹ کچھ بھی چڑھانے سے گریز نہیں کرتے ۔ ہماری تاریخ نظریہ ضرورت سے بھری پڑی ہے جس کی وجہ سے ادارے استحکام کھو بیٹھے ہیں اسی طرح سے انصاف کی باقاعدہ بولی لگتی دیکھی گئی ہیں ۔

ہم سب نے دیکھا ہے کہ ہم پہلے اپنے لئے ، پھر اپنے خاندان کیلئے، پھر اپنی زبان کیلئے، پھر اپنے علاقے کیلئے، پھر اپنے مسلک کیلئے اور پھر پتہ نہیں کب پاکستان کیلئے سوچنا شروع کرتے ہیں ۔ اس ڈگر پر ہ میں باقاعدہ اور منظم طریقے سے چلنے پر مجبور کیا گیا ہے تاکہ پاکستان اپنی تمام تک خوبیوں کیساتھ بس اپنے مکینوں کی نظروں اور توجہ سے محروم ہوجائے اور تباہی کی طرف پیش قدمی شروع کردے، یہ پیش قدمی جاری و ساری ہے زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ پاکستان کسی مخدوش عمارت کی طرح منہدم ہونے والا ہے لیکن ایک طاقت ہے کہ جس نے یہ عظیم سرزمین برِ صغیر کے مسلمانوں کو ایک کرنے کیلئے بنائی تھی ایک نظرئیے کو دوام بخشنے کیلئے بنائی تھی اور اپنے دین کے نفاذ کیلئے بنائی تھی ۔ ہماری سوچ کو داخلی معاملات میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ ہمارے اعلی تعلیم یافتہ لوگوں مقصد بھی صرف اچھی تنخواہ والی نوکری تک محدود ہوکر رہ گئی ہے یہ ان کی کامیابی ہے ۔ ہ میں مقصد حیات کیساتھ سامانِ حیات بھی میسر کیا گیا تھا لیکن ہم اپنی صفوں میں گھس بیٹھیوں کو پہچان نہیں سکے اور شائد تاحال پہچاننے سے قاصر ہیں ۔

آج ادارے اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑتے دیکھائی دے رہے ہیں ،جس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اداروں نے پاکستان کے استحکام کی خاطر کبھی اقدامات نہیں اٹھائے صرف اور صرف اپنی اپنی بقاء کیلئے آگے بڑھتے رہے جس کی وجہ سے پاکستان کو عظیم نقصان پہنچتا رہا ہے ۔ آج دشمن یقینا ہماری کمزور ہوتی سرحدوں کو دیکھ رہا ہے کیوں کے ہم تو صرف اپنے ادارے یا اپنے نجی گھر تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں ۔ آج پاکستان ہم پاکستانیو سے پوچھ رہا ہے کہ اس سرزمین پر سب انفرادی زندگیاں کیوں گزارنا چاہتے ہیں ، قومی تشخص کہاں رہ گیا ہے ، اس سرزمین پر اب پاکستان کہاں ہے ۔

 

شیخ خالد زاہد

 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  •  لالہ جی​
  • انا کے پیڑ
  • مہنگائی کا طوفان
  • خود یہ فاقہ کش و نادار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دشت میں دِکھتا آب تھوڑی ہیں
پچھلی پوسٹ
خیالوں کی ادھوری دیوی

متعلقہ پوسٹس

میرا پرچم فخر میرا، میری پہچان پاکستان

ستمبر 24, 2021

خام ہونے کے انتظار میں ہوں

اکتوبر 1, 2023

وضع اِنساں میں مخفی ہیں

جولائی 13, 2022

سر محمد اقبال

جنوری 25, 2020

ایران – امریکہ تعلقات کا تاریخی پس منظر

اپریل 26, 2026

جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا سمجھتا ہوں

جنوری 28, 2020

قلم

اکتوبر 31, 2020

دل کی دریافت ہے دراصل ولایت کا ہنر

جون 8, 2020

گنجینهٔ حسن

دسمبر 6, 2024

خدا کا حُسن ِ انتخاب

نومبر 26, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سچ کہوں خواب خواب ہے دنیا

جون 28, 2025

ٹھنڈا گوشت

اکتوبر 25, 2019

موبائل سے بڑھ کر کون

مئی 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں