خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباخدا کا حُسن ِ انتخاب
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی مضامینعابد ضمیر ہاشمی

خدا کا حُسن ِ انتخاب

از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2021
از سائیٹ ایڈمن نومبر 26, 2021 0 تبصرے 64 مناظر
65

خدا کا حُسن ِ انتخاب‘ انتخابِ لاجواب!

جس طرح گلزارِ ہستی میں پیہم عنبر فشانی میں مصروف گلِ تر اپنی عطر بیزی کے منابع سے‘ثمر ِ نورس اپنی حلاوت کے ذخیرے سے‘بُور لدے چھتنار اپنی گھنی چھاؤں کی اداؤ ں سے‘دریا اپنی طغیانی سے‘حسنِ بے پروا اپنی حشر سامانی سے‘اُٹھتی جوانی اپنی طبع کی جولانی سے‘سمندر اپنی گہرائی سے‘کلام ِ نرم و نازک اپنی ہمہ گیر گرفت و گیرائی سے‘ شعلہ اپنی تمازت سے‘گفتار اور رفتار اپنے معیار اور نزاکت سے‘کردار اپنے وقار سے‘جذبات و احساسات مستقبل کے خدشات اور اپنی بے کراں قوت و ہیبت سے‘ نو خیز کونپلیں اپنی روئیدگی سے‘ سمے کا سم کے اپنے ثمر سے‘قوتِ عشق اپنی نمو سے‘ سادگی اپنے در پئے پندار حیلہ جُو سے‘ گنبد نیلو فری کے نیچے طیور کی اُڑان گھات میں بیٹھے صیاد کی مچان سے‘خلوص و دردمندی اپنی خُو سے‘حریت ِ ضمیر اپنے خمیر سے،موثر تدبیر سوچنے والے نوشت تقدیر سے‘ایثار و عجز و انکسار کی راہ اپنانے والے جذبہ بے اختیار کی پیکار سے‘ حسن و رومان کی داستان جی کے زیاں سے‘جبر کی ہیبت صبر کی قوت سے‘ظالم کی واہ مظلوم کی آہ سے‘چام کے دام چلانے والے مظلومو ں کے ضمیر کی للکار سے اور تاریخ سے سبق نہ سیکھنے والے فراعنہ جاہ و حشمت کے طومار سے وابستہ حقائق کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اسی طرح ہم اپنے نبی سرور کونین ﷺ شان‘ مقام‘ تقدس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ہمارے نبی رحمت العالمین ﷺ ہیں۔ جنہیں جن و انس ہی نہیں بلکہ ہر شے اعتراف کرتی ہے۔ ہم غیروں کے پیچھے بھاگ رہے‘ لیکن وہ غیر ہو کر بھی وہ ہمارے نبی ﷺ کی شان اقدس کے متعرف ہیں۔
روسی فلاسفر کاؤنٹ ٹالسٹانی کہتا ہے:
”محمد ﷺ عظیم الشان مصلحین میں سے ہیں، جنہوں نے اتحاد امت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ ان کے فخر کے لیے یہی کافی ہے کہ انہوں نے وحشی انسانوں کو نورِ حق کی جانب ہدایت کی اور ان کو اتحاد، صلح پسندی اور پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے والا بنا دیا اور ان کے لیے ترقی و تہذیب کے راستے کھول دیئے اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنا بڑا کام صرف ایک فرد واحد کی ذات سے ظہور پذیر ہوا“۔

فرانس کے عظیم جرنیل نپولین بوناپارٹ نے حضور کریمﷺ کی ذات کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے:”محمدﷺ دراصل اصل سالارِ اعظم تھے۔ آپؐ نے اہلِ عرب کو درس اتحاد دیا۔ ان کے آپس کے تنازعات و مناقشات ختم کیے۔ تھوڑی ہی مدت میں آپﷺ کی امت نے نصف دنیا کو فتح کر لیا۔ ۱۵ سال کے قلیل عرصے میں لوگوں کی کثیر تعداد نے جھوٹے دیوتاؤں کی پرستش سے توبہ کر لی۔ مٹی کی بنی ہوئی دیویاں مٹی میں ملا دی گئیں‘ بُت خانوں میں رکھی ہوئی مورتیوں کو توڑ دیا گیا۔ حیرت انگیز کارنامہ تھا آنحضرتﷺ کی تعلیم کا کہ یہ سب کچھ صرف پندرہ ہی سال کے عرصے میں ہو گیا۔ جبکہ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام پندرہ سو سال میں اپنی امتوں کو صحیح راہ پر لانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے۔ حضرت محمدﷺ عظیم انسان تھے۔جب آپؐ دنیا میں تشریف لائے اس وقت اہلِ عرب صدیوں سے خانہ جنگی میں مبتلا تھے۔ دُنیا کی اسٹیج پر دیگر قوموں نے جو عظمت و شہرت حاصل کی اس قوم نے بھی اس طرح ابتلاء و مصائب کے دور سے گزر کر عظمت حاصل کی اور اس نے اپنی روح اور نفس کو تمام آلائشوں سے پاک کر کے تقدس و پاکیزگی کا جوہر حاصل کیا“۔
موھن چند کرم داس گاندھی آنحضرتﷺ کے بارے میں کہتے ہیں:”اسلام نے تمام دنیا سے خراج تحسین وصول کیا۔ جب مغرب پر تاریکی اور جہالت کی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ اس وقت مشرق سے ایک ستارہ نمودار ہوا۔ ایک روشن ستارہ جس کی روشنی سے ظلمت کدے منور ہو گئے۔ اسلام دین باطل نہیں ہے، ہندوؤں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ بھی میری طرح اس کی تعظیم کرنا سیکھ جائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام نے بزورِ شمشیر سرفرازی اور سربلندی حاصل نہیں کی بلکہ اس کی بنیادنبی کا خلوص، خودی پر آپؐ کا غلبہ، وعدوں کا پاس، غلام، دوست اور احباب سے یکساں محبت۔ آپؐ کی جرات اور بے خوفی اللہ اور خود پر یقین جیسے اوصاف۔ لہٰذا یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ اس کی فتوحات میں یہی اوصاف حمیدہ شامل ہیں اور یہی وہ اوصاف ہیں جن کی مدد سے مسلمان تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود پیش قدمی کرتے چلے گئے“۔
موتی لال نہرو کہتے ہیں:”سچی توحید نے مسلمانوں کے اندر خوف و جرات‘بے باکی اور شجاعت و بسالت پیدا کر دی اور عزم و ارادوں میں پختگی اس درجہ پیدا کردی کہ پہاڑوں کو اپنی بلندی اور مضبوطی ہیچ نظر آنے لگی۔ سمندروں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ توحید کی ایسی تعلیم آپ ﷺنے مسلمانوں کو دی جس سے ہر قسم کے توہمات کی جڑیں کھوکھلی ہو گئیں۔ ہر قسم کا خوف دلوں سے نکل گیا اور یہ سب کس کے سبب تھا۔ اس شخصیت کے جس کو مسلمانوں نے نبی آخر الزماں کہا اور دوسروں نے اس کو بنی نوع انسان کا ایک عظیم رہنما جانا“۔
یورپ کا مشہور عالم ٹامس کارلائل حضورﷺ کی صداقت کا ان الفاظ میں اظہار کرتا ہے۔”صحرائے عرب کی یہ عظیم شخصیت جنہیں دُنیا ”محمدﷺ“ کے نام سے جانتی ہے پاکیزہ روح‘شفاف قلب و بلند نظری اور مقدس خیالات رکھتا تھا۔ جن کو خدا ہی نے حق و صداقت کی اشاعت کے لیے پیدا کیا۔ ہستی کا بھید ان پر کھل گیا تھا۔ آپ ﷺکا کلام خود خدا کی آواز تھا“۔
ایک ہندو پروفیسر راما کرشنا راؤ آنحضرتﷺ کو اس طرح خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے:”آنحضرتﷺ کے کُل تک تو پہنچنا مشکل ہے البتہ یہ محمدﷺجرنیل ہیں‘ یہ محمدﷺبادشاہ ہیں‘ سپہ سالار ہیں‘ تاجر ہیں‘داعی ہیں‘فلاسفر ہیں‘مدبر ہیں‘خطیب ہیں‘مصلح ہیں‘ یتیموں کی پناہ گاہ ہیں، عورتوں کے نجات دہندہ ہیں‘ جج ہیں‘ولی ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ اور عظیم الشان کردار ایک ہی شخصیت کے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی کے لیے آپؐ کی حیثیت مثالی ہے“۔
سر ولیم میود اپنی کتاب لائف آف محمدﷺمیں لکھنا ہے:”ہمیں بلا تکلف اس حقیقت کا اعتراف کر لینا چاہیے کہ تعلیم نبویﷺنے ان تاریک توہمات کو ہمیشہ کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے باہر نکال دیا جو صدیوں سے اس ملک پر چھائے ہوئے تھے‘ بُت پرستی نابود ہو گئی‘ توحید اور خدا کی بے پناہ رحمت کا تصور محمدﷺ کے متبعین کے دلوں میں گہرائیوں اور زندگی کے اعماق میں جاگزیں ہو گئی‘ معاشرتی اصلاحات کی بھی کوئی کمی نہ رہی۔ ایمان کے دائرہ میں برادرانہ محبت‘ یتیموں کی پرورش‘غلاموں سے احسان و مروت جیسے جوہر نمودار ہو گئے۔ امتناع شراب میں جو کامیابی اسلام نے حاصل کی اور کسی مذہب کو نصیب نہیں ہوئی“۔
ایس مار گولیوتھ رقم طراز ہے:”آنحضرتﷺ کی درد مندی کا دائرہ انسان ہی تک محدود نہ تھا بلکہ انہوں نے جانوروں پر بھی ظلم و ستم توڑنے کو بہت بُرا کہا ہے“۔مسٹر ایڈورڈ مونٹے کہتے ہیں:”آپﷺ نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کے لیے جو اسوہ حسنہ پیش کیا ہے وہ آپﷺ کو انسانیت کا محسن اوّل قرار دیتا ہے“۔
جوزف جے نوٹن رقم طراز ہیں:”حضرت محمدﷺ کا مذہب مطلق العنان روس کے لیے بھی اتنا ہی موزوں ہے جتنا جمہوریت پسند متحدہ امریکا کے لیے وہ مناسب و مفید ہے۔اسلام ایک عالمگیر حکومت کی نشاندہی کرتا ہے اور اسلام کی کتاب قرآن کا موضوع زندگی ہے اور اس میں پوری انسانی زندگی کو سمیٹ دیا گیا ہے“۔
مشہور فرانسیسی مورخ موسیو سیدیو نبی کریمؐ کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں:”محمدﷺیوں تو محض اُمی تھے۔ مگر عقل و رائے میں یگانہ روزگار تھے۔ ہمیشہ خندہ پیشانی سے پیش آتے اور اکثر خاموش رہتے۔ طبیعت کے حلیم‘ خلق کے نیک‘ اکثر اللہ سبحانہ تعالیٰ کاذکر کیا کرتے۔ لغویات کبھی زبان سے نہ نکالتے۔ مساکین کو دوست رکھتے۔ کبھی فقیر کو فقر کے سبب سے حقیر نہ جانتے۔ نہ کسی بادشاہ سے اس کی بادشاہی کے سبب سے خوف کھاتے تھے“۔
جارج برناڈ شاہ لکھتا ہے:”میں نے رسول اکرمﷺ کے دین کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ یہ الزام بے بنیاد ہے کہ آپ ﷺعیسائیوں کے دشمن تھے۔ میں نے اس حیرت انگیز شخصیت کی سوانح مبارک کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ میری رائے میں آپ ﷺ پورے بنی نوع انسان کے محافظ تھے“۔
ڈاکٹر جی ویل نے حضور اکرمﷺ کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے:”بے شک حضرت محمدﷺ نے گمراہوں کے لیے ایک بہترین راہ ہدایت قائم کی اور یقینا آپﷺ کی زندگی نہایت پاک صاف تھی۔ آپﷺ کا لباس اور آپﷺکی غذا بہت سادہ تھی۔ آپﷺکے مزاج میں بالکل تمکنت نہ تھی یہاں تک کہ وہ اپنے متبعین کو تعظیم و تکریم کے رسمی آداب سے منع فرماتے تھے۔ آپﷺؐ نے اپنے غلام سے کبھی وہ خدمت نہ لی جس کو آپﷺخود کر سکتے تھے۔ آپﷺبازار جا کر خود ضرورت کی چیزیں خریدتے‘ اپنے کپڑوں میں پیوند لگاتے‘ خود بکریوں کا دودھ دوہتے اور ہر وقت ہر شخص سے ملنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ آپﷺبیماروں کی عیادت کرتے تھے اور ہر شخص سے مہربانی کا برتاؤ فرماتے تھے۔ آپﷺؐ کی خوش اخلاقی‘ فیاضی اور رحم دلی محدود نہ تھی۔ غرض آپﷺقوم کی اصلاح کی فکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے آپﷺکے پاس بے شمار تحائف آتے تھے لیکن بوقت وفات آپﷺؐ نے صرف چند معمولی چیزیں چھوڑیں اور ان کو بھی مسلمانوں کا حق سمجھتے تھے“۔
ریمنڈ لیروگ آنخضرتﷺ کو اس طرح خراج عقیدت پیش کرتا ہے: ”نبی عربیﷺ اس معاشرتی اور بین الاقوامی انقلاب کے بانی ہیں جس کا سراغ اس سے قبل تاریخ میں نہیں ملتا۔ انہوں نے ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جسے تمام کرہ ارض پر پھیلنا تھا اور جس میں سوائے عدل اور احسان کے اور کسی قانون کو نہیں ہونا تھا۔ ان کی تعلیم تمام انسانوں کی مساوات‘باہمی تعاون اور عالمگیر اخوت تھی“۔
لیفٹیننٹ کرنل سالیکس کہتے ہیں:”حضرت محمدﷺ کے حالات زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی انصاف پسند شخص ان کی اولوالعزمی‘ اخلاقی جرات‘نہایت خلوصِ نیت‘سادگی اور رحم و کرم کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر انہی صفات کے ساتھ استقلال و عزم و حق پسندی اور معاملہ فہمی کی قابلیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ آپﷺے اپنی سادگی، لطف و کرم اور اخلاق کو بلا خیال و مرتبہ قائم رکھا۔ اس کے علاوہ شروع سے آخر تک وہ اپنے آپ کو ایک بندہ خدا اور پیغمبر خدا بتلاتے رہے‘حالانکہ وہ اس سے زیادہ کا دعویٰ کر کے اس میں کامیاب ہو سکتے تھے“۔
ڈاکٹر مائیکل مارٹ نے اپنی کتاب“The Hundred”میں تاریخ کی100 ایسی شخصیتوں کا ذکر کیا جنہوں نے دُنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ اس عیسائی نے100 ہستیوں میں سب سے پہلے نمبر پر نبی آخر الزمانﷺ کا مبارک تذکرہ کیا۔ وہ لکھتا ہے:کہ میں نے ان سو آدمیوں کا تذکرہ کیا جنہوں نے تاریخ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ان میں سب سے پہلے محمدﷺ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس سے بعض لوگ حیران ہوں گے لیکن اس کی میرے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود ہے۔ کائنات میں جتنی بھی ہستیاں آئیں اگر ان کے حالات پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں اپنے بچپن سے لڑکپن میں کسی نہ کسی استاد کے سامنے بیٹھے تعلیم پاتے نظر آتے ہیں‘ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان تمام ہستیوں نے پہلے مروجہ تعلیم حاصل کی اور پھر اس کو بنیاد بنا کر انہوں نے زندگیوں میں کچھ اچھے کام کر دکھائے لیکن دُنیا میں فقط ایک ہستی ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی زندگی کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو پوری زندگی کسی کے سامنے شاگرد بن کر بیٹھی نظر نہیں آتی۔ وہ ہستی محمدﷺہیں۔ یہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے دُنیا سے علم نہیں پایا بلکہ دُنیا کو ایسا علم دیا کہ جیسا علم نہ پہلے کسی نے دیا اور نہ بعد میں کوئی دے گا۔ لہٰذا اس بات پر میرے دِل نے چاہا کہ جس شخصیت نے ایسی علمی خدمات سرانجام دی ہوں میں غیر مذہب کا آدمی ہونے کے باوجود ان کو تاریخ کی سب سے اعلیٰ شخصیات میں پہلا درجہ مانتا ہوں۔یہ وہ مختصر ترین آراء ہیں۔ ہم کدھر جارہے یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تپسیّا
  • اردو میں ادبی تاریخ کی روایت
  • عشبہ تعبیر
  • تقسیم ہند اور کشمیر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سارا جرم تمھارا ہے
پچھلی پوسٹ
درد دل کو مرے نمو کرکے

متعلقہ پوسٹس

کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا

نومبر 11, 2025

بفیض ِ شوق محبت ترا فسانہ کُھلا

نومبر 30, 2019

سنو ناں بابا 

فروری 13, 2020

جی میں پہلے سی تب وتاب نہیں

جنوری 14, 2021

اپنی صحبت میں دن گزرتا ہے

مئی 14, 2020

غزہ اور گمشدہ اُمتِ مسلمہ!

اکتوبر 20, 2023

نہ غموں کو تازہ بنا

جولائی 6, 2025

میری روداد ہے کہ آئینہ

نومبر 18, 2020

گھر کا پتہ

جنوری 24, 2020

جسم تیرا لیکن ۔ مرضی پروردگار کی

فروری 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رسمِ الفت کی پیار کی باتیں

جولائی 24, 2020

‫‫خمیازہ

جنوری 27, 2020

ملے تھے دشت کئی قہقہہ لگاتے...

اکتوبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں