خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریراردو میں ادبی تاریخ کی روایت
اردو تحاریرمقالات و مضامین

اردو میں ادبی تاریخ کی روایت

رضوان احمد کی ایک اردو تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 464 مناظر
465

 اردو کے نام ور نقاد اور دانش ور شمس الرحمن فاروقی

معروف نقاد اور محقق شمس الرحمن فاروقی نے بیس فروری کو تاریخی خدا بخش لائبریری میں ”اردو ادب کی نئی تاریخ کی ضرورت“ کے موضوع پر اپنا عالمانہ خطبہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے اردو میں ادبی تاریخ کی ترتیب کی کوئی اعلیٰ اور صالح روایت موجود نہیں رہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوشخص ڈیڑھ سو برس کی ذہنی غلامی سے آزاد ہو، وہی اردو ادب کی غیر جانب درانہ تاریخ لکھ سکتا ہے -انہوں نے اپنے لکچر کے آغاز میں کہا کہ پروفیسر رالف رسل نے ادب کی تاریخ لکھنے کے لیے تین نکات کی ضرورت بتائی ہے۔ پہلا انتخاب دوسرا اختصار اور تیسرا تاریخی اور سماجی پس منظر۔ لیکن وہ ان تینوں نکات کو رد کرتے ہیں کیوں کہ یہ کسی طرح بھی ادبی تاریخ لکھنے میں معاون نہیں ہو سکتے۔ اس لحاظ سے رسل صاحب نے جو قاعدے کلیے وضح کیے ہیں ان کا اردو ادب کی تاریخ تحریر کرنے پر اطلاق نہیں ہو تا۔

انہوں نے کہا کہ سب سے بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ ہم فورٹ و لیم کی کتابوں کو فخر سے سر پر اٹھائے پھرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتابیں انگریز افسروں کو اردو سکھانے کے لیے لکھوائی گئی تھیں۔ میر امن کی باغ و بہار کا ناقدین بار بار ذکر کرتے ہیں لیکن اس کی ادبی حیثیت مشکو ک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ رفیع الدین نے سنہ 1800ءمیں اردو میں قرآن کا ترجمہ کیا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ میں قرآن کا ہندی میں ترجمہ کر رہا ہوں تو در اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو کا اولین نام ہندی، ہندوی یا ریختہ تھا۔ ہندی زبان کا اس وقت تک کوئی وجود ہی نہیں تھا اور اردو کی بہت ہی پختہ ادبی روایات قائم ہو چکی تھیں جسے ہندی کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم لوگوں نے اس نام کو ترک کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس ورثے کو بھی چھوڑ دیاگیا۔ اس زمانے میں بنارس سے لے کر مرشد آباد تک ہندی یا ہندوی میں لکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ سورت میں تو چودھویں صدی میں اسی زبان یعنی ہندی، ہندوی یا اردو کا بول بالا تھا۔

شمس الرحمن فاروقی نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ اردو کبھی بھی سرکاری زبان رہی ہے یا سرکار دربار سے اس کی سرپرستی ہو تی رہی ہے کیوں کہ اس زمانے کے جتنے بھی دربار تھے سب کی زبان فارسی تھی۔ صرف ٹیپو سلطان نے اردو کو سرکاری زبان بنایا تھا لیکن اس کا عرصہ 8-9سال سے زیادہ نہیں رہا۔

جناب فاروقی نے کہا کہ سب سے بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ اردو میں ادبی تاریخ لکھنے کی روایت کی جو بنیاد رکھی گئی وہی کج تھی۔ اس سلسلہ کی پہلی کتاب محمد حسین آزاد کی ”آب حیات“ ہے لیکن ان کے ذہن میں یہ واضح ہی نہیں تھا کہ و ہ تذکرہ لکھ رہے ہیں یا تاریخ۔جب انہوں نے خود ہی لکھ دیا کہ وہ نام ور شعرا کے حالات لکھ رہے ہیں توا س سے ان کے ذہنی تعصبات صاف ظاہر ہو رہے ہیں کہ وہ جنہیں نام ور مان رہے ہیں وہی بڑے شاعر ہیں، باقی شعرا کسی شمار قطار میں نہیں ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی کیا بھی ہے۔ قائم چاند پوری جیسے باکمال شاعر کا ذکر ایک سطر میں حاشیہ میں کیا گیا ہے۔

” آب حیات “ کی اس خامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ محمد حسین آزاد کے سامنے ایک ایجنڈا تھا اور انہوں نے اسی ایجنڈے کے تحت وہ کتاب لکھی، اس طرح سے غلط روایت کی بنیاد پڑ گئی۔ آب حیات کی اس خامی نے اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر دیا۔ آزاد کے ذہن میں تعصبات بہت ہیں، انہوں نے اردو کے ہندو شعرا کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے علاوہ شاعرات کی بھی اردو میں بڑی مضبوط بنیاد تھی، مگر آزاد نے کسی شاعرہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔

فاروقی نے پروفیسر شارب ردولوی کی ادبی تاریخ کے اصول و نظریات کا بھی ذکر کیا۔ لیکن اس کے بارے میں بھی انہوں نے بتایا کہ ایک طرح کی تدریسی کتاب ہے اور اس میں ادب کی تاریخ لکھنے کے اصول واضح نہیں کیے گئے ہیں اور یہ اس کتاب کی بڑی خامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کی کتاب بھی صرف تدریسی کتاب ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ التبہ انہوں نے ڈاکٹر گیان چندر جین کی کتاب اردو کی ادبی تاریخیں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر جین نے اردو کی ادبی تاریخوں کا تفصیل سے جائزہ تو لیا ہے اور ان کی خامیاں بھی بیان کی ہیں لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا ہے کہ ادبی تاریخ لکھنے کا فلسفہ کیا ہے۔ اس کے واضح نکات کیا ہیں اور اس کی سائنسی تشکیل کس طرح سے کی جانی چاہیئے۔

شمس الرحمٰن فاروقی نے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تاریخی حوالے اور اصل مواد بھی پیش کیا گیا ہے، اس لیے اس کی ادبی اور تاریخی حیثیت ہے لیکن جمیل جالبی بھی اپنے ذہنی تحفظات کو بالائے طاق نہیں رکھ سکے ہیں۔ ہمارے ادبا اور ناقدین کی سب سے بڑی دشواری یہ ہے کہ وہ ذہن میں یہ مفروضہ رکھ کر چلتے ہیں کہ اردو میں بس دو ہی دبستان تھے، ایک لکھنئو اور دوسرا دہلی۔ حالانکہ جس زمانے کے ان دو دبستانوں کا ذکر کیا جاتا ہے اس وقت دکن میں ادب کی تخلیق ہو رہی تھی، بنگال کے مرشدآباد میں بھی اردو لکھنے پڑھنے والے تھے، عظیم آباد میں بھی اور گجرات کے سورت میں بھی اور ان سب کا کتابوں میں تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ اس کے باوجود صرف دبستان دہلی اور دبستان لکھنو کا ذکر کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔

بد قسمتی سے ادبی تاریخیں لکھنے والوں کے ذہن پر آج بھی لکھنویت یا دہلویت سوار ہے، اسی لیے وہ منصفانہ اور غیر جانب دارانہ تاریخ نہیں لکھ پاتے۔ اس کے لیے انہوں نے جامعات کے اردو اساتذہ کو ذمہ دار قرار دیا جو درسیات کی کتابوں تک محدود رہتے ہیں اور یہ درسی کتابیں اردو ادب کی تاریخ کو مسخ کر تی رہی ہیں اور اب بھی کر رہی ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اب تک ہمارے یہاں ادبی تاریخ لکھنے کی صالح روایت نہیں بن سکی ہے، جو ایک بڑا المیہ ہے۔

 

رضوان احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • وہ ایک مونگ پھلی
  • گاجر کا رس
  • عشق، محنت اور خواب
  • مہتاب خاں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ
پچھلی پوسٹ
مرثیہٴ حسین اور انقلاب

متعلقہ پوسٹس

جج صاحب سیاست میں

نومبر 15, 2025

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

ایک عجیب وحشت

جنوری 5, 2022

ایموجیز اور سیکسٹنگ

اگست 20, 2023

بیوہ کا راز

مئی 20, 2020

مسٹر حمیدہ

جنوری 17, 2020

مچھر

دسمبر 15, 2019

ہنرمند نسل کی تعمیر کیسے کی جائے؟

اکتوبر 13, 2025

مورنگا

مئی 14, 2023

زکوٰۃ

جنوری 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چچا چھکن نے ایک خط لکھا

اگست 22, 2022

من کا بھوت بنگلہ !

جون 27, 2022

ہرے رنگ کی گڑیا

جون 14, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں