خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمرثیہٴ حسین اور انقلاب
اردو تحاریرمقالات و مضامین

مرثیہٴ حسین اور انقلاب

رضوان احمد کا اردو مضمون

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 539 مناظر
540

مرثیے کے ذکر کے ساتھ ہی انیس اور دبیر کا خیال آتا ہے۔ ان شعرا نے مرثیے کے دامن کو اتنا مالا مال کر دیا تھا کہ ایسا لگتا تھا کہ اب کوئی اور شاعر ان دو تناور درختوں کی چھتنار چھاؤں میں پنپ نہیں پائے گا۔ لیکن جوش ملیح آبادی ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے اجتہاد کیا اور مرثیہ کو نئے افکار سے آشنا کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایام عزا میں جہاں قدما کے مرثیے کا ذکر آتا ہے، وہیں جوش کا مرثیہ حسین اور انقلاب بھی ضرور پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ جوش جلال او ر جمال کے شاعر ہیں۔ ان کی لفظیات میں جو ولولہ اور آہنگ ہے اس نے جوش کے مرثیے کی فکر کو حدت دی ہے۔در اصل کربلا کے المیہ کا احساس ایسا شدید اور جان لیوا ہے اس کا اندازہ اس شعر سے ہو تا ہے:

کہہ دوں تو دل سے خون کا چشمہ ابل پڑے
اور چپ رہوں تو منہ سے کلیجہ نکل پڑے

جو احساس اتنا شدید ہو اور جس کی فکر ایسی جان لیوا ہو اس کے تحت جب مرثیہ لکھا جائے گا تو وہاں جلال و جمال کے تجربات کا در آنا بالکل فطری بات ہے۔ جوش کی مرثیہ گوئی پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر شکیل الرحمن لکھتے ہیں:

”جوش ملیح آبادی نے کربلا کے واقعات میں اعلیٰ اور افضل اقدار کے حسن پر بھی نظر رکھی ہے اور شخصیتوں کے جلال و جمال کو بھی موضوع بنایا ہے۔ حسین ابن علی کی ذاتِ اعلیٰ اقدار کے حسن کا مرکز ہے۔ نیز ان کا ہر عمل زندگی کے جمال کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ ان کی خدمت میں سلام بھیجتے ہوئے کہتے ہیں:

ضمیر اہل وحشت اورذات اہل وحشت کو
بہم پیچیدہ و دست و گریباں کر دیا تو نے
جو دھندلا ہو چلا پہلا ورق منشورِ فطرت کا
تو اپنے خون دل کو زیبِ عنواں کر دیا تو نے
بنا کر شمعِ طور اپنے لہو کے گرم قطروں کو
دیارِ ذہنِ عالم میں چراغاں کر دیا تو نے
بقائے آسماں پر ایک ضیائے نو دمک اٹھی
زمیں پہ چاک جب اپنا گریباں کر دیا تو نے

جوش کو زبان پر زبردست قدر ت حاصل تھی، اس لیے مراثی میں بھی ان کا فن عروج پر نظر آتا ہے۔ یو ں تو جوش نے کئی مراثی لکھے ہیں لیکن ان کا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ ایک الگ انداز کا مرثیہ ہے۔ مراثی کا مقصد غمِ حسین میں ماتم کرنا ہو تا ہے، لیکن شہادت حسین کو جوش نے نئے معانی ا ور نئے زاویے عطا کیے ہیں۔ وہ آہ و بکا کی تلقین نہیں کرتے کیوں کہ ان کے خیال میں امام عالی مقام کی شہادت نے اسلام اور انسانیت کو جو سربلندی عطا کی ہے وہ سر بلندی ہی اس شہادت کا ماحصل ہے۔ بلکہ جوش تو ایسے شاعر ہیں جو ذاکر پر شدید طنز کرتے ہیں انہوں نے اپنی مشہور نظم ”ذاکر سے خطاب“ پر شدید طنز کرتے ہوئے اسے رونے رلانے کا کاروبار کرنے والا کہا ہے۔ بلکہ اس نظم میں جوش کا لہجہ اس قدر شدید اور تلخ ہو جاتا ہے کہ وہ ذاکر کو ماتم پسند اور افسردہ فطرت انسان جیسے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں جوش اپنا مرثیہ ”حسین اور انقلاب“ پیش کرتے ہیں جو 68بندوں پر مشتمل ہے۔ اس مرثیے کا آغاز حیات کی ناپیداری کے فسانے، آہ وفغاں اور تلخیِ حیات کی ہولناک داستان کے بیان سے ہو تا ہے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ کھینچتے ہیں اور آٹھویں بند تک یہی صورتِ حال ہے۔ نویں بند سے وہ مرثیہ کی تشکیل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

کیسے کوئی عزیز روایات چھوڑ دے
کچھ کھیل ہے کہ کہنہ حکایات چھوڑ دے
گھٹی میں تھے جو حل وہ خیالات چھوڑ دے
ماں کا مزاج باپ کے عادات چھوڑ دے
کس جی سے کوئی رشتہٴ اوہام چھوڑ دے
ورثے میں جو ملے ہیں وہ اصنام توڑ دے

کربلا کی شب کا معرکہ بھی جوش اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں یہاں جو استعارے اور تراکیب استعمال کرتے ہیں وہ ان کی اپنی انفرادیت ہیں:

بکھرے ہوئے ہوا میں وہ گیسو رسول کے
تاروں کی روشنی میں وہ آنسو بتول کے

اس شب میں حضرت امامِ عالی مقام کا جو بے مثل اور لاثانی کردار سامنے آتا ہے اسے جو ش کے الفاظ میں سنئےک:

وہ رات جب امام کی گونجی تھی یہ صدا
اے دوستان صادق و یاران با صفا
باقی نہیں رہا ہے کوئی اور مرحلہ
اب سامنا ہے موت کا اور صرف موت کا
آنے ہی پربلائیں ہیں اب تحت و فوق سے
جاناجو چاہتا ہے چلا جائے شوق سے

لیکن آخر وہ یارانِ با صفا حضرت امام حسین کے جاں نثار تھے وہ کن الفاظ میں عرض کرتے ہیں:

قرباں نہ ہو جو آ پ کے والا صفات پر
لعنت اس امن و عیش پر، تُف اس حیات پر
پتلے ہیں ہم حدید کے، پیکر ہیں سنگ کے
انساں نہیں، پہاڑ ہیں میدانِ جنگ کے

اور اس سیاہ رات کو جوش ملیح آبادی کن الفاظ میں تراشتے ہیں:

شبیر نے حیات کا عنواں بنا دیا
اس رات کو بھی ماہِ درخشاں بنا دیا

حضرت امام عالی مقام کائنات کے لیے ایک مثالی کردار کیوں ہیں اسے بھی جوش ملیح آبادی اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں:
حضرت حسین کو صاحبِ مزاجِ نبوت،وارثِ ضمیرِ رسالت، خلوتی شاہد قدرت، فخر مشیت، آئین جدید کا بانی، کارواں عزم کا رہبر، مینار عظمت، دلیل شرافت اور روح انقلاب کا پروردگار جیسے خطابات سے یادکرتے ہیں۔ ان کے اشعار کی والہانہ ادائیگی اور وارفتگی جوش کے مخصوص لب و لہجہ پر دال ہے:

ہاں وہ حسین، جس کا ابد آشنا ثبات
کہتا ہے گاہ گاہ حکیموں سے ہی یہ بات
یعنی درونِ پردہ صدرنگ کائنات
اک کار ساز ذہن ہے اک کار ساز ذات
سجدوں سے کھینچتا ہے جو مسجود کی طرف
تنہا جو اک اشارہ ہے معبود کی طرف
اور اس سے آگے بڑھ کر کہتے ہیں:

جس کی جبیں پہ کج ہے خود اپنے لہو کا تاج
جو مرگ و زندگی کا ہے اک طرفہ امتزاج
سردے دیا مگر نہ دیا ظلم کو خراج
جس کے لہو نے رکھ لی تمام انبیا کی لاج
سنتا نہ کوئی دہر میں صدق و صفا کی بات
جس مرد سر فروش نے رکھ لی خدا کی بات
حسین اور انقلاب ایک ایسا مرثیہ ہے جس میں نہ صرف عزم حسین اور روح انقلاب کار فرما ہے بلکہ جوش نے عزم حسینی کا ذکر کرکے روح عصر کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
پھر حق ہے آفتاب لب بام اے حسین
پھر بزم آب و گل میں ہے کہرام اے حسین
پھر زندگی ہے سست و سبک گام اے حسین
پھر حریت ہے مورد الزام اے حسین
ذوق فساد و ولولہ شر لیے ہوئے
پھر عصر نو کے شمر ہیں خنجر لیے ہوئے

اور اس سے آگے بڑھ کر مزید ولولہ انگیز انداز میں گویا ہوتے ہیں:

مجروح پھر ہے اجر و مساوات کا شعار
اس بیسویں صدی میں پھر طرفہ انتشار
پھر نائب یزید ہیں دنیا کے شہر یار
پھر کربلا ئے نو سے ہے نوع بشر دو چار
اے زندگی جلال شہ مشرقین دے
اس تازہ کربلا کو بھی عزم حسین دے
اور مرثیہ کا اختتام جوش اپنے مخصوص انداز میں کرتے ہیں:

عفریت ظلم کانپ رہا ہے اماں نہ پائے
دیو فساد ہانپ رہا ہے اماں نہ پائے
تلوار شمر عصر کے سینے میں بھونک دو
ہاں جھونک دو یزید کو دوزخ میں جھونک دو
الٹے رہو کچھ اور یوں ہی آستین کو
الٹی ہے آستین تو پلٹ دو زمین کو

اس مرثیہ میں جوش کا نظریہ بھی واضح طور پر سامنے آتا ہے جو مثبت فکر کی نشاندہی کرتا ہے۔ در اصل جوش حسینت اور یزیدیت کو دو استعاروں کی شکل میں دیکھتے ہیں جن کی ستیزہ کاری ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ حسین علیہ السلام کی ذات ابدی ہے اور وہ کسی مخصوص علاقہ، فرقہ اور ذات تک محدود نہیں ہیں بلکہ عالم انسانیت کے لیے ہیں۔ اسی لیے جوش کہتے ہیں:

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

 

شاعرِ انقلاب جوش ملیح آبادی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فلسطین اور امت مسلمہ!
  • انجام وہ ہی ہوگا جو ذوالفقار علی بھٹو کا ہوا تھا
  • تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات
  • پاکستان کا دوٹوک موقف
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اردو میں ادبی تاریخ کی روایت
پچھلی پوسٹ
خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی پر

متعلقہ پوسٹس

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

نومبر 17, 2020

شادی کی بریانی

مئی 9, 2020

زندگی کی فلاسفی

جنوری 5, 2022

بابرکت مہینہ رمضان المبارک

مارچ 29, 2024

کمہارن

دسمبر 31, 2021

پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس

دسمبر 6, 2025

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

جمالیاتی اظہار کی روح

دسمبر 7, 2024

ڈیجیٹل دور میں زہریلی رائے کا کاروبار

اکتوبر 18, 2025

شوگر سے آگاہی، راز اور مکمل چھٹکارا

ستمبر 17, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قرآن اور انسانی نفسیات

نومبر 5, 2025

ناقابلِ شکست بندھن

دسمبر 15, 2024

ذرا ہور اوپر

دسمبر 30, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں