خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباسقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 16, 2019 0 تبصرے 449 مناظر
450

سقوطِ ڈھاکہ کا مقدمہ

سقوطِ ڈھاکہ پر ایک سیمینار میں بات کرتے ہوئے آغا شورش کاشمیری نے کہا تھا کہ

"سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ دار ان گنت ہیں، لیکن ان میں انگور کا پانی اور جنرل رانی نمایاں ہیں”

چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ پاکستان جنرل یحی خان ایک بدکردار اور بلانوش شخص تھا جس نے صدارتی محل کو شراب و کباب اور جنرل رانی جیسی پیشہ ور عورتوں کا اڈہ بنا رکھا تھا۔ مشرقی اور مغربی پاکستان ان دنوں بالترتیب شیخ مجیب الرحمٰن (مشرقی پاکستان) اور ذوالفقار علی بھٹو (مغربی پاکستان) کیساتھ ہم آواز تھے جبکہ یحیٰ خان اور اسکے ادارے کے مفادات عوامی لیڈران کی سوچ سے متصادم تھے۔

یحیٰ خان نے بندوق کی نالی پر ایوب خان سے 1962 کا آئین معطل کرایا اور مارشل لاء لگا کر مطلق العنانی کے مزے لُوٹ رہا تھا جبکہ مجیب الرحمن اور بھٹو کے ساتھ کھڑے لوگ عوامی حکمرانی (سیاسی نظام) کیلئے جدوجہد تیز کرتے چلے جا رہے تھے۔ حالات قابو سے باہر نہ نکل جائیں لہذا بہ امرِ مجبوری یحیٰ نے 30 مارچ 1970 کو لیگل فریم ورک آرڈر ملک میں نافذ کر دیا اور بددیانتی پر مبنی اس قانون کے تحت آئین ساز اسمبلی کیلئے انتخابات کروانے کا اعلان کر دیا۔ یہ LFO حقیقت میں یحیٰ خان کے حتمی کے تسلط کا منصوبہ تھا جسکی شرمناک شرائط کی مثال دنیا بھر میں دوسری نہیں ملتی۔ دستاویز کے مطابق LFO میں تبدیلی کا حق صرف یحیٰ خان کو حاصل تھا اور جمہوری طور پر منتخب ہوئی حکومت اسکے احکامات کی نہ صرف پابند تھی بلکہ آمر کے حکم کو چیلنج بھی نہیں کر سکتی تھی۔ بددیانتی کی حد تھی کہ متصادم تہذیبوں اور باہمی نفرت پر مشتمل اکائیوں کو صرف 120 دن میں آئین بنانے کا پابند کیا گیا جس میں ناکامی پر اسمبلی خودبخود تحلیل ہو جاتی۔ بالفرض اگر یہ اسمبلی باہمی تفرقات اور من و تُو سے اوپر اٹھ کر آئین بنا بھی لیتی تو حتمی اطلاق کیلئے وہ صدر کے اپروول کی پابند تھی۔ نامنظوری کی صورت میں اسمبلی آئین کو آمر کی منشاء مطابق ترامیم (نظر ثانی) کر کے دوبارہ اسکے آگے پیش کرتی جسے دوبارہ نامنظور کر کے وہ اسمبلیاں تحلیل کر سکتا تھا۔

بھُٹو صاحب نے سوشلسٹ منشور جبکہ شیخ مجیب نے 1970 کا الیکشن (قراردادِ لاہور 1966 کے منظور کردہ) 6 نکات پر لڑا جو درج ذیل تھے۔

١۔ 1940 کی قرار دادِ لاہور کیمطابق فیڈریشن کا قیام جس میں تمام صوبوں کی شمولیت رضاکارانہ ہوگی یعنی وہ جب چاہیں وفاق سے علیحدگی اختیار کر سکتے تھے۔
٢۔ وفاقی حکومت دفاع اور امورِ خارجہ کے علاوہ تمام اختیارات صوبوں کو تفویض کرے گی۔
٣۔ دونوں صوبوں میں الگ الگ کرنسی ہوگی اور ایک کرنسی کی صورت میں ایک صوبے کی آمدن دوسرے صوبے کو منتقل نہیں ہوگی۔
۴۔ ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا اختیار صوبوں کے پاس رہے گا اور وہ وفاق کو امور مملکت چلانے کیلئے صرف مخصوص رقم فراہم کریں گے۔
۵۔ غیر ممالک کیساتھ تجارت کرنے میں صوبے خود مختار ہوں گے۔
٦۔ دفاع کیلئے اپنی صوبوں کو علیحدہ سے ملیشیاء اور پیرا ملٹری فورسز بنانے کا اختیار ہوگا۔

یحیٰ نے اس LFO میں 1956 کے آئین سے قائم شدہ Parity یعنی دونوں حصوں کیلئے برابر نمائیندگی کو ختم کر کے بنگالیوں کے دیرینہ مطالبے تئیں 313 کے ایوان میں متناسب نمائیندگی کا اصول یعنی حصہ بالحاظ آبادی متعارف کروایا جس کے مطابق قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کو 169 جبکہ مغربی(موجودہ)

پاکستان کو 144 سیٹیں ملیں۔ مختلف وجوہات کی بناء پر صرف 300 نشستوں پر انتخابات عمل میں آئے جن میں مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 166 نشستیں جیت کر ڈالے گئے ووٹوں کا %39.2 اپنے نام کیا اور ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری۔ مشرقی پاکستان کی 310 صوبائی نشستوں میں سے 298 سیٹوں پر کامیابی بھی عوامی لیگ کے نام رہی۔ دوسری جانب بھُٹو صاحب مغربی پاکستان میں سخت مقابلے کے بعد قومی اسمبلی کی 81 سیٹیں جیت کر دوسرے نمبر پر رہے اور کُل ووٹوں کا %18.6 فیصد حاصل کیا۔ صوبائی انتخابات میں پنجاب اور سندھ میں پیپلز پارٹی جبکہ سرحد (موجودہ کےپی) اور بلوچستان میں مارکسسٹ پارٹی ANP نے فتح حاصل کی۔

مجیب الرحمٰن نے چونکہ الیکشن ہی قراردادِ لاہور 1966 کے چھ نکات پر لڑا تھا اور ملک کی تین چوتھائی نشستوں پر کامیاب ہوا تھا لہذا وہ اس پوزیشن میں تھا کہ انہی چھ نقات کی بنیاد پر آئین ساز اسمبلی سے آئین منظور کروا لے جبکہ بھٹو صاحب کا کہنا تھا کہ مجیب کے چھ نکات کو مغربی پاکستان میں ایک بھی نشست نہیں ملی لہذا آئین بناتے ہوئے مغربی پاکستان کے لوگوں کے موقف کو بھی سنا جائے۔ دونوں لیڈران میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے مگر شیخ مجیب چھ نکات سے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوا۔ بھٹو صاحب چھ میں سے ساڑھے پانچ نکات پر آمادہ تھے کہ پیرا ملٹری کی حد تک صوبائی اختیار میں کوئی مذائقہ نہیں تھا مگر الگ فوج بنانے پر انکو اعتراض تھا کیونکہ انکے بقول ایک مملکت میں دو فوجیں کیسے ہو سکتی تھیں؟ مگر مجیب الرحمٰن جو بنگالی عوام کے مسلسل استحصال کی پیداوار تھا نہ مانا۔ (وجہ یہ تھی کہ (1947 سے 1970 تک دوسرے اداروں کی طرح فوج میں بھی بنگالیوں کو پروموٹ نہیں کیا جاتا تھا اور ایوب دور تک اس بات کو یقینی بنا دیا گیا تھا کہ کوئی بنگالی فوج کے اعلی عہدوں تک نہ پہنچنے پائے)۔

اس سیاسی ابتری کا مرکزی آرکیٹیک وہی LFO تھا جس نے برابر نمائندگی ختم کر کے حصہ بقدرِ جُثہ کے نظام کے تحت 1970 کے انتخابات کروائے تھے کیونکہ بنانے والے اچھی طرح جانتے تھے کہ بنگالی پاکستان بننے کے کچھ ہی مہینوں کے اندر اپنے سیاسی نمائیندوں کو ذلیل کرنے پر تلملانے لگے، اور انکے آزاد پاکستان کے خواب سے دھواں اٹھنے لگا تھا۔مثلاً 1948 میں اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا تو پورا مشرقی پاکستان انگارہ بن گیا اور مطالبہ کرنے لگا کہ اردو بنگلہ دونوں کو قومی زبان قرار دیا جائے پر ہزاروں مظاہروں کے باوجود ہمارے حکمرانوں کے کانوں پر جُوں تک نہ رینگی۔ یہاں تک کہ 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالبِ علموں کے (مادری زبان کے حق میں) ایک احتجاجی مظاہرے پر گولی چلا کر ہمارے شیر جوانوں نے عبدالسلام، رفیق الدین احمد، صوفی الرحمن، عبدالبرکت اور عبدالجبار کو قتل کیا اور سینکڑوں دیگر کو زخمی کیا۔ ایسے ہزاروں زخموں کی موجودگی میں برابر نمائیندگی کے اصول کو ختم کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ بنگالی الیکشن جیت کر ایسا آئین بنائیں کہ جسے ریجیکٹ کر کے فوجی اسمبلیاں تحلیل کر دے تا کہ راوی فوج کی مُخلص کوشش اور سیاستدانوں کی نالائقی پر تا قیامت چین کی بنسی بجاتا رہے اور یہی LFO کا درپردہ مقصد تھا۔ افسوس ملک کے دو مقبول ترین لیڈروں سے طالع آزما جرنیلوں کی بچھائی ہوئی رسیاں نہ کٹ سکیں اور وہ آئین سازی کے معاملے میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔

دوسری طرف بدماشیہ کو یہ گمان تھا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی کی طرح وہ عوام کو پیروں تلے کچل کر سدا اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے رہیں گے۔ انہیں اللہ کی لاٹھی اُس وقت دکھائی دی جب وہ سر میں آن پڑی۔ مظلوموں کی آہ و بکا سنی گئی اور تاریخ کا پہیہ چل گیا اور ایسا چلا کہ دونوں اکائیوں کے درمیان ہمیشہ ہمیش کیلئے تفریق کی لکیر کھینچ گیا۔ دسمبر 3 سنہ 1971 کو بھارت نے مشرقی پاکستان میں اپنی فوجیں گھسا دیں اور بنگالی عوام کی معیت میں محض بارہ دنوں میں ڈھاکے پہنچ گئی۔ یحیٰ خان نے سرنڈر کا حکم جاری کیا اور بے شرم جرنیل امیر عبداللہ خان نیازی نے ہنستے مسکراتے پلٹن کے میدان میں 93 ہزار سپاہیوں کیساتھ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ آوارہ و بدچلن جنرل یحیٰ خان کی ڈھٹائی اور فریب کاری کا عالم یہ تھا کہ ہماری فوج 16 دسمبر 1971 کو اسکے اپنے حکم پر بھارت کے سامنے سرنڈر چکی تھی لیکن اگلے دن مغربی پاکستان کی اخبارات کی شہہ سرخی یہ تھی کہ۔۔۔

"ہم آخری سپاہی، آخری گولی تک لڑیں گے”

یہی نہیں جب بی بی سی نے ہمارے جرنیلوں کے کالے کرتوتوں کا پردہ فاش کیا اور لوگ جی ایچ کیو کے باہر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے لگے اور قریب تھا کہ اس قتنہ گھر کو آگ لگا دیں تو کہیں سے بھٹو صاحب نکل آئے اور چار گھنٹے ایک پھٹے پر کھڑے ہو کر مشتعل مظاہرین کو ٹھنڈا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔ بجائے اسکے کہ بدماشیہ تا عمر بھٹو کے پاوں دھو دھو کر پیتی الٹا احسان فراموشوں نے سقوطِ ڈھاکہ کا الزم بھٹو پر ہی دھر دیا حالانکہ یحیٰ جیسا مقتدر آمر اگر انتقالِ اقتدار کی بابت مُخلص ہوتا اور شیخ مجیب الرحمٰن کو اقتدار سونپ دیتا تو بھٹو صاحب کیا کر سکتے تھے؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کوکھ جلی
  • گل سے گلزار ہو بھی سکتی تھی
  • کہیں سکون نہیں ہے عذاب سے پہلے
  • رشتوں کے درمیان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنواڑی
پچھلی پوسٹ
اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

متعلقہ پوسٹس

تجھے گنوا کے میں تجھ سا تلاش کرتا ہوں

اپریل 26, 2020

تیر تلوار جو اب مجھ پہ اٹھائے ہوئے ہیں

جنوری 6, 2021

احترام رمضان

اپریل 11, 2021

دعا آثار شمعیں دے گیا ہے

اگست 23, 2020

کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

جولائی 19, 2020

سوچ کی لہریں

فروری 3, 2020

گھاس والی

دسمبر 9, 2019

غزل گائیکی کی 110 سال کی ہوشربا داستان

نومبر 6, 2017

خلوت سے ہو گیا ہوں

جون 27, 2025

تینوں دل چوں کڈ نئیں سکدی

اکتوبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

آخری سیلیوٹ

اکتوبر 29, 2019

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے...

نومبر 4, 2020

چلتے ہو تو سوات کو چلئے

مارچ 2, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں