خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020 0 تبصرے 60 مناظر
61

کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

نماز ،زکوٰۃ ، روزہ، حج ، صدقات اور قربانی کے علاوہ اسلامی تہواروں کے اجتماعات اسلامی معاشرتی زندگی کی انمول حکمتوں سے لبریز ہیں۔ انکے ذریعے روز مرہ زندگی میں جسمانی پاکیزگی اورصفائی کے علاوہ سلیقے، میانہ روی، تحمل وبرداشت،صبر،ایثار، عاجزی،اطاعت، مثبت سوچ اور انسانی ہمدردی کا درس دیا گیا ہے۔اسلامی تعلیمات کے احکامات کی روشنی اور فطرت انسانی کے رویوں کیخلاف اگر کوئی شخص مثبت کردار کی بجائے دقیانوسی پن اور انتہا پسندی کا رویہ اپناتا ہے تو وہ نہ صرف خود مصائب وآلام کو دعوت دیتا ہے بلکہ معاشرے کے عدم استحکام کا بھی باعث بنتا ہے۔
یہ معاشرہ افراد کا معاشرہ ہے اور تمام افراد کی سوچ، خیالات، رویے،جذبات، علم، فہم وفراست، شعور، ادراک، عمل، طریقہ ، صلاحیتیں، قوت فیصلہ ایک جیسے نہیں ہوسکتے مگر منفی سوچ اپنانے والے افراد کے رویوں کے سبب پورے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے جس کو قرآن پاک نے فتنہ اور فساد کا نام دیا ہے۔کامیاب زندگی کے لئے اپنی سوچ تعمیری رکھنا ضروری ہے ، کیونکہ تعمیری سوچ اور مثبت رویہ سر اسر خیرکا باعث ہے ۔اپنی صفوں میں مثالی اتحاد و اتفاق پیدا کرلیں تو غیر اسلامی معاشرے بھی اسلامی معاشروں کی تقلید شروع کردیں گے۔ جن افراد اور معاشروں میں رویوں کا فقدان پایا جاتا ہے افراتفری اور خانہ جنگی انکے اندر موجزن رہتی ہے تو دوسری طرف بد قسمتی، تباہی و بربادی اور مفلوک الحالی ایسے معاشروں کا مقدر بنتی ہے۔
بغص، کینہ اور اس قسم کے دیگر خیالات انسانی صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے بھی نہایت نقصاندہ ہیں۔مبثت سوچ کس قدر انسانی زندگی کا دھار پلٹ سکتی ؛ایک دفعہ رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام تشریف فرما تھے، ایک صحابی آئے اور تھوڑی دیر بعد چلے گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا ، دُنیا میں جس نے چلتا پھرتا جنتی دیکھنا ہے اسے دیکھ لیں ، تین دن ایسا ہوتا رہا، تو صحابہ کرام تجسس میں اُن کے گھر تک گئے ، واپس آکر عرض ِبحضور ﷺ کی کہ ؛ ہمیں تو ان میں کوئی ایسا معمول نہیں نظر آیا جو ہم سے زیادہ ہو ، فرمایا کہ اس میں یہ بات ہے کہ جب بھی سوچتا ہے مثبت سوچتا ہے ۔ یہ ہے اسلامی فضلیت ، آج سائنس تحقیق بھی اس بات کی معترف ہے کہ سوچ کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہے ۔
امریکا سے تعلق رکھنے والی شاعرہ امیلی ڈکنسن نے کہا تھا، ’اس جہان میں کچھ ایسا نہیں جو لفظوں سے زیادہ طاقتور ہو۔ بعض اوقات میں ایک لفظ لکھتی ہوں اور اسے تکتے رہتی ہوں یہاں تک کہ وہ چمکنے لگتا ہے‘۔ لفظوں کی طاقت اور ان کا اثر ایک حقیقت ہے، لفظوں میں زندگی ہوتی ہے۔ ان کا ایک مزاج ہوتا ہے اور یہ جس کے کانوں سے ٹکرائیں، نظروں سے گزریں اپنا اثر چھوڑے بنا نہیں رہتے۔جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی گئی انسانی عظمت اور کمالات افشا ہوتے گئے۔ تحقیقات نے ثابت کیا کہ انسان پر بھی اُس کے ماحول، حالات اور سوچ کے بہت گہرے اثرات ہوتے ہیں۔
انسانی سوچ نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرانداز ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرات دوسرے لوگوں پر بھی ہوتے ہیں۔ اچھی اور مثبت سوچ کے حامل افراد کے جسم میں سے مثبت لہریں نکلتی ہیں جو آس پاس کے ماحول، افراد اور چیزوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ جبکہ منفی سوچ، خیبت، اضطراب، حسد،
ایک اندازے کے مطابق یہ مثبت یا منفی شعائیں 8 میٹر تک کے علاقے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ انسانی رویوں کا مشاہدہ کیا جائے تو بھی یہ بات سامنے آتی ہی کہ جو افراد مثبت سوچ اور خیالات کے حامل ہوتے ہیں اُن کی ذاتی زندگی نہایت خوشگوار اور قابل رشک ہوتی ہے۔ وہ زندگی زیادہ اچھے انداز میں جیتے ہیں، اُن کی صحت بہتر رہتی ہے، ان کے رشتوں میں زیادہ پائیداری ہوتی ہے اور وہ ہر مشکل، پریشانی پر جلد قابو پالیتے ہیں۔کامیاب زندگی، مثبت سوچوں اور رویوں ،جب کہ ناکام زندگی منفی سوچوں اور رویوں کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سوچ انسانی ذہن پر اس حد تک اثر انداز ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی قسمت خود بنا سکتا ہے۔ زندگی کا ہر منظر سوچ سے جنم لیتا ہے اور سوچ پر ہی ختم ہوتا ہے۔ ایک منفی سوچ کا حامل شخص منفی عمل کو جنم دیتا ہے جبکہ مثبت سوچ کا حامل شخص تعمیری فعل انجام دیتا ہے۔
ہماری زندگی پر ہماری سوچ اور خیالات مستقل طور پر اثر انداز ہوتے ہیں، شیکسپیئر نے کہا تھا کہ ’’ہم وہ نہیں ہوتے جو کرتے ہیں بلکہ ہم وہ ہوتے ہیں جو سوچتے ہیں۔‘‘ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ آپ کوئی کام کر سکتے ہیں تو آپ کر سکیں گے اور اگر آپ سوچتے ہیں کہ آپ نہیں کر سکتے تو کچھ بھی کر لیں آپ وہ کام نہیں کر سکیں گے۔
مثبت اور منفی خیالات انسان کے ذہن میں ہر وقت آتے رہتے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ انسانی ذہن پر ہر لمحہ سوچوں کا غلبہ رہتا ہے اور انسان کی زندگی کے بیشتر زاویے اس کی ذہنی سوچ سے جنم لیتے ہیں۔ اسی سوچ و فکر سے انسانی جذبات کی آبیاری ہوتی ہے اور ان جذبات کی بنیاد پر ہی انسان کا ہر عمل ہمارے سامنے آتا ہے۔ سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریہ سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجو اور جستجو سے کامیابی جنم لیتی ہے۔ ہمارے ذہن کے سوچنے کا انداز دو طرح کا ہوتا ہے۔
ایک منفی اور دوسرا مثبت۔ مثبت سوچ ہمیشہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ منفی سوچ ناکامی اور نامرادی کی طرف دھکیلتی ہے اور زندگی کی چمک دمک کو تاریکی کی سیاہیوں میں بدل دیتی ہے۔ وہ سوچ جو آپ کو یا آپ سے جڑے لوگوں کو خوشی یا فائدہ دے مثبت سوچ ہے، اور وہ سوچ جو آپ کو یا آپ سے جڑے لوگوں کو پریشانی یا نقصان پہنچائے وہ منفی یا غلط سوچ ہے۔
مثبت سوچ یا عمل سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے ترقی ہو، بلندی کی جانب پیش قدمی ہو، منزل کا حصول ہو، بہتری ہو، فلاح و بہبود ہو، تعمیر ہو۔ اس کے برعکس منفی عمل سے مراد ہر وہ فعل ہے جس میں حقیقی نقصان ہو، تنزلی ہو، منزل سے دوری ہو۔مثبت اور منفی عمل ہماری سوچ پر منحصر ہوتا ہے یعنی منفی یا مثبت خیالات کے ذریعے ہی انسان سے مختلف عمل سرزد ہوتے ہیں۔ مثبت سوچ سے انسان کے اندر مثبت رویہ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ذہن میں خیالات کا پیدا ہونا قدرتی عمل ہے مگر ان خیالات کو عملی جامہ پہنانا تو انسان کے اپنے اختیارمیں ہوتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مثبت سوچ ہی کسی فرد کی شخصیت کو ابھارنے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مثبت سوچ کامیابی کی وہ سیڑھی ہے جس پر قدم رکھنے والا انسان کامیابی کی منزل پا لیتا ہے۔ مثبت طرز فکر وعمل کا انجام کامیابی اور منفی کا انجام ناکامی ہے خواہ اس کا تعلق دُنیا سے ہو یا آخرت سے ہو۔یقیناً کامیاب لوگ کسی فوق العقل چیز پر یقین کرنے کی بجائے اپنے اعمال پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے افعال کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ہر وقت مثبت سوچتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں اور دوسروں پر اعتبار کرتے ہیں۔ غلطی ہو جائے تو بہت جلد معذرت کر لیتے ہیں۔
پس ثابت ہوا کہ مثبت سوچ زندگی کا رخ موڑ سکتی ہے اور غم و اندوہ کے پہاڑ تلے دبے ہونے کے باوجود نیا جوش اور ولولہ دیں۔ ہمت و جذبہ، بلند خیالی اورمستقل مزاجی سے ناممکنات کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سوچ کو مثبت رکھتے ہوئے پوری امانت داری سے محنت کریں اور پھر نتائج اس ذات باری تعالیٰ پرچھوڑ دیں جو پتھر کے اندر رہنے والے کیڑے کو بھی رزق پہنچاتا ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہمیں مزید تبدیلی نہیں چاہیے
  • فضول بحث۔۔۔خطرۂ ایمان
  • ذہن کی پٹاری سے ہاؤ و ہُو نکلتا ہے
  • مصالحے اور صحت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
19جولائی: الحاق ِ پاکستان
پچھلی پوسٹ
نظام عدل

متعلقہ پوسٹس

مکاں کے ہوتے ہوئے بھی جو لامکاں کوئی ہے

مئی 15, 2020

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020

کل بزم کہکشاں میں ستاروں کی بھیڑ تھی

اگست 20, 2020

نم ہوا خود نہ کوئی موج

مارچ 8, 2025

خونی تھوک

نومبر 22, 2019

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

اگست 25, 2025

آخر کورونا چاہتا کیا ہے؟

جون 10, 2020

دُعا

نومبر 7, 2020

جو ہے وہ غُبار سا بچا ہے

اکتوبر 25, 2025

جرمِ حق گوئی میں صدیوں سے

مارچ 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ستارے سے ستارا مل رہا ہے

مارچ 26, 2020

مشرقی جمال

دسمبر 3, 2024

پھر وہی کنج قفس

جون 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں