خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا19جولائی: الحاق ِ پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020 0 تبصرے 113 مناظر
114

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

سبھی جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ہے۔اسی پس منظر میں 19جولائی کو ہرسال دُنیا بھر کے کشمیری اور تمام انسان دوست حلقے”یوم الحاقِ پاکستان”کے طورپرمناتے ہیں۔ کیونکہ 1947ء میں اسی روز کشمیر کے سبھی طبقات کی بھاری اکثریت نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔مگر دہلی سرکارنے گذشتہ73برسوں سے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی انسانی حق یعنی اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔اب تو جبری کرفیو، نانا کی نعش پر معصوم لاش بھی انسانیت کو شرما رہی ہے۔
73برس قبل 19 جولائی1947کو جموں کشمیر کی عوامی قیادت نے تاریخی فیصلے کا اعلان کیا تھا کہ کشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگا اِسی اعتبار سے 19 جولائی کا دن آزادی ٗ کشمیر کی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے،1947 ء میں اسی دن کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی یہ تاریخی قرارداد جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کی امنگوں اور خواہشوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ ہی نہیں بلکہ پاکستان سے الحاق کی تحریک کو جاری وساری رکھنے کے لئے ہر کشمیری عہد کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل کشمیر کی آزادی اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونے تک اپنی سعی و جدوجہد جاری رکھنے کے عزمِ صمیم سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، بھارتی مظالم کے حقائق سے کئی عالمی تنظیمیں پردہ چاک کر چکی، جس میں ممتاز مغربی محقق اور تاریخ دان‘مفکر دانشور مسٹر ولیم بیکرنے ’کشمیر وادی ٗ موت‘ نامی اپنی یادداشتوں میں انتہائی غیر جانبداری سے اُن تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھایا، انسانیت نواز تاریخ دانوں میں مسٹر ولیم بیکر کا نام ہمیشہ سنہری لفظوں سے یاد رکھا جائے گا، فلسطین سے کشمیر تک اُنہوں نے ہر استبدادی ظالم وسفاک عالمی سامراج کی سازشوں کو بے نقاب کیا جو کہیں فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کی صورت میں اُنہیں نظرآئیں جو اُنہوں نے تاریخ کے صفحات میں محفوظ کردیا مسٹر ولیم بیکر نے جون 1947 کے ’لندن پلان‘ میں ’انگریزہندو گٹھ جوڑ‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے لندن پلان کے تحت غیر منقسم ہند کی مسلم اکثریتی علاقوں کی ریاستوں کے مسلم باشندوں کی مرضی ومنشاء کے خلاف اُن ریاستوں کے ہندو مہاراجوں نے زبردستی غیر منصفانہ اقدامات کاسہارا لے اِن ریاستوں کو بھارت میں شامل کیا جومسلمان اکثریتی آبادی کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف کل بھی تھی۔
مسٹر ولیم بیکر لکھتے ہیں ’1989 سے عالمی انسانی حقو ق کی کئی تنظیموں کے ہمراہ اُنہوں نے مقبوضہ وادی کا کئی بار دورہ کیا، ہر بار پہلے سے زیادہ بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں حالات کو ابتر پایا، یہی نہیں‘بلکہ اُس وقت بقول مسٹر بیکر کے میں نے خود معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں اُس صحافی کو‘ دانشور‘ یا انسانی حقوق کے کارکن کو جو زمینی حالات کی ممکنہ ’سچائی‘ کو وادی سے باہر نکل کر بیان کرنے پر اصرار کرتا پایا جاتا تھا تو اُسے کشمیر میں تعینات بھارتی سیکورٹی فورسنز فوراً غائب کرادیتی ہیں انہوں نے اپنی یاداشت میں لکھا ہے کہ’میرے کئی دوست غائب ہوئے اور میں اُن کے لئے کچھ نہ کرسکا‘چاہے مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ ہو یا فلسطینی مسئلہ دونوں میں کئی باتیں مثلا ریاستی سطح پر کی جانے والی ظلم وستم کی مشترک پائی ہیں کشمیر بھی اور فلسطین بھی غیر ملکی اور غیر قومی استبدادی پنجے میں اپنی ملی وثقافتی آزادی لینے کے لئے جیسا آج مچل رہا ہے،نجانے کب تک اُن کے لئے یہ غیر انسانی اندوہناک حالات اُن پر یونہی وارد رہیں گے؟ نجانے فلسطینی عوام اپنی سرزمین کب حاصل کرپائیں؟ نجانے کب صبحِ آزادی کا وہ چمکتا ہوا سورج کشمیری مسلمان بھی دیکھ پائیں؟‘ ہر انسان کی بنیادی آزادی اُس کا پیدائشی حق ہوتا ہے‘
آج73 برس بعد دُنیایہ دیکھ رہی ہے کہ مسٹر ولیم بیکر نے جیسا کچھ بیان کیا تاریخِ انسانیت کی سچائی کا اُن کا کہا ہوا ہرا یک لفظ ایسی سچائی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا بھارتی قابض فوج کے ریاستی ظلم و ستم کا اختتام نجانے کب ہوگا‘ اب وقت آگیا ہے دنیائےِ اسلام کے ممالک مثلاً شام‘ عراق‘ لیبیا‘ افغانستان کے عوام بھی فلسطینی اور کشمیری عوام کی طرح عالمی بہیمانہ عزائم کی حامل استبدادی ذہنیت رکھنے والی قوتوں سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بھرپور پنجہ آزمائی کررہے ہیں کشمیر میں انسانی لہو کی بارش‘ انتشار اور تصادم کی ہولناک تباہیاں‘ انسانی قدروں کی وحشیانہ بے قدریاں‘ جگہ جگہ مغربی‘ اسرائیلی‘ امریکی اور بھارتی سامراج کی معاشی وسماجی مفادات کی سازشیں اور محکوم مسلمانوں کے خون کی ارزانی کا سلسلہ کبھی نہ کبھی تو روکے گا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اکتوبر1948 میں بھارتی درخواست پر پہلے کشمیر میں جاری پاک بھارت جنگ رکوائی‘ سیز فائر ہوا دو قراردادیں منظور ہوئیں، جن کا متن یہی تھا کہ کشمیر میں جنگی حالات کا ماحول بہتر ہوتے ہی وہاں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو حق استصوابِ رائے دیدیا جائے گا اِس سے قبل جموں و کشمیر سے بھارتی فوج نکل جائے گی،بھارت کے پہلے وزیر اعظم نہرو نے کئی بار عالمی فورموں پر وعدہ کیا تھا کہ ”کشمیر کا تنازعہ کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہوگاجو چاہیں گے ویسا ہی ہوگا وہ پاکستان سے جا ملیں بھارت کو اعتراض نہ ہوگا،چونکہ ا قوام متحدہ کی سلامتی نے بھی ایک رائے شماری کے ذریعے اُنہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے“ نہرو کے یہ اہم وعدے عالمی ریکارڈ کا حصہ ہیں، بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے خون سے بھارتی فوج کو کب تک یونہی ہولیاں کھیلنے کی اجازت دی جائے؟ یہ سوال جو ہر کشمیری پوچھ رہا ہے۔ شہدا ء کی جلائی ہوئی آزادی کی مشعلوں میں اپنا تازہ لہو اُسی سرعت سے اپنی زمین کے حصول کے لئے نذر کررہے ہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردوں، قوانین کی دھجیاں اُڑتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دِی م ساتھ ہی غیر قانونی ڈومیسائل جاری کر دیے، مگر بے حس عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی‘کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے انسانی مسئلہ نے فکرِ انسانی کو ہر عہد میں اپنے احاطہ دامنِ خیال سے کبھی علیحدہ نہیں ہونے دیا،ممتاز عالمی شہرتِ یافتہ جرمنی مفکر مسٹررسل نے کہا تھا ”جب ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر ہندوستانی حکومت کا بین الاقوامی معاملات میں بلند بانگ آئیڈ یلزم دم توڑ دیتا ہے، تو ہم جیسوں کے لئے مایوسی کے احساسات سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے“

بھارت میں یقیناًآج عالمی شہرتِ یافتہ دانشور برٹرینڈرسل کے کہے گئے یہ تاریخی شائستہ الفاظ کسی غیر جانبدار‘ غیر متعصب‘انصاف پسند اور اعتدال پسند روشن خیال بھارتی دانشوروں کے ذہنوں سے اگر محو ہوگئے ہوں یا متشدد تنظیم آر ایس ایس کے جنونیوں کے بلوؤں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ اعلانیہ یہ سب نہ کہنا چاہتے ہوں تو رابن رافیل کو تو ہر کوئی ممتاز بھارتی صحافی جانتا ہو گا جو1993 میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ رہے ہیں اُنہوں نے ایک موقع پر کہا تھا ’مجھے قطعی طور پر یہ کہہ کر واضح کرنے دیجئے کہ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعہ میں کسی بھی قسم کی حتمی معاملہ بندی میں ہر صورت کشمیر کے لوگوں ہی سے سب کو رجوع کر ناچاہیئے ہمارا یقین ہے کہ اِس موقع پر اُس وقت تک کوئی قدم پائیدار اور پختہ تصور نہیں کہلایا جاسکتا۔
جب تک کشمیر کے عوام راضی نہیں ہوتے، کشمیرکا پاکستان کے ساتھ ’یومِ الحاق‘ کا یہ جاری سلسلہ ہر سال 19 جولائی کو منانے کی اصولی روایت اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے کسی بھی صورت انحراف نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کا یہ اُصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ قرار دادیں، کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیتی ہیں۔ پھر یہ کہ بھارت خود عالمی اور عوامی فورمز پر کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی حمایت کرتا رہا ہے، سو، اب وقت آگیا ہے کہ اُنھیں اُن کا قانونی حق دیا جائے۔ ہمیں بہ حیثیت مُلک اور بہ حیثیت عوام اس تنازعے کے اُسی حل کی حمایت کرنی چاہیے، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔ورنہ خطہ کا امن قائم رہے ممکن نہیں، کیونکہ ”ظلم رہے اور امن بھی ہو‘کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سینیٹر عرفان صدیقی: ایک عہد کا اختتام
  • غم کا فسانہ
  • توبۃ النصوح – فصل ہشتم
  • فلک کے پار اڑانوں کی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لاک ڈاؤن اور حکومتی لاپرواہی
پچھلی پوسٹ
کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

متعلقہ پوسٹس

بسترِ گُل

مئی 27, 2025

طارق عزیز سے ڈاکٹر عامر لیاقت تک

اگست 30, 2020

تعلیم اور روزگار کا ربط

ستمبر 20, 2025

الف لیلہ کی ایک رات

مئی 20, 2020

غم_ زندگی نے ستایا بہت ہے

نومبر 14, 2025

پاکستانی نوجوان

اکتوبر 2, 2025

میرا تو رب مہربان ہے

اکتوبر 23, 2020

پیار جو اک حسین سپنا تھا

جون 27, 2025

خورشٹ

جنوری 31, 2020

اک یہ آواز ہی کانوں کے رہٹ میں پہنچی

جون 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سید سلمان گیلانی

فروری 26, 2026

فاصلہ یوں تو مری جان

فروری 26, 2025

ہر نوکِ خار حسبِ تمنّائے عشق...

اپریل 25, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں