خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا19جولائی: الحاق ِ پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020
از سائیٹ ایڈمن جولائی 19, 2020 0 تبصرے 91 مناظر
92

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

سبھی جانتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی جاری ہے۔اسی پس منظر میں 19جولائی کو ہرسال دُنیا بھر کے کشمیری اور تمام انسان دوست حلقے”یوم الحاقِ پاکستان”کے طورپرمناتے ہیں۔ کیونکہ 1947ء میں اسی روز کشمیر کے سبھی طبقات کی بھاری اکثریت نے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔مگر دہلی سرکارنے گذشتہ73برسوں سے کشمیری عوام کو ان کا بنیادی انسانی حق یعنی اپنی مرضی سے اپنی زندگی گزارنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔اب تو جبری کرفیو، نانا کی نعش پر معصوم لاش بھی انسانیت کو شرما رہی ہے۔
73برس قبل 19 جولائی1947کو جموں کشمیر کی عوامی قیادت نے تاریخی فیصلے کا اعلان کیا تھا کہ کشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگا اِسی اعتبار سے 19 جولائی کا دن آزادی ٗ کشمیر کی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے،1947 ء میں اسی دن کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں کی کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی یہ تاریخی قرارداد جموں و کشمیر کے عوام کی اکثریت کی امنگوں اور خواہشوں کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ ہی نہیں بلکہ پاکستان سے الحاق کی تحریک کو جاری وساری رکھنے کے لئے ہر کشمیری عہد کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور وسائل کشمیر کی آزادی اور کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ہونے تک اپنی سعی و جدوجہد جاری رکھنے کے عزمِ صمیم سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، بھارتی مظالم کے حقائق سے کئی عالمی تنظیمیں پردہ چاک کر چکی، جس میں ممتاز مغربی محقق اور تاریخ دان‘مفکر دانشور مسٹر ولیم بیکرنے ’کشمیر وادی ٗ موت‘ نامی اپنی یادداشتوں میں انتہائی غیر جانبداری سے اُن تاریخی حقائق سے پردہ اُٹھایا، انسانیت نواز تاریخ دانوں میں مسٹر ولیم بیکر کا نام ہمیشہ سنہری لفظوں سے یاد رکھا جائے گا، فلسطین سے کشمیر تک اُنہوں نے ہر استبدادی ظالم وسفاک عالمی سامراج کی سازشوں کو بے نقاب کیا جو کہیں فلسطین میں مسلمانوں پر ظلم وزیادتی کی صورت میں اُنہیں نظرآئیں جو اُنہوں نے تاریخ کے صفحات میں محفوظ کردیا مسٹر ولیم بیکر نے جون 1947 کے ’لندن پلان‘ میں ’انگریزہندو گٹھ جوڑ‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے لندن پلان کے تحت غیر منقسم ہند کی مسلم اکثریتی علاقوں کی ریاستوں کے مسلم باشندوں کی مرضی ومنشاء کے خلاف اُن ریاستوں کے ہندو مہاراجوں نے زبردستی غیر منصفانہ اقدامات کاسہارا لے اِن ریاستوں کو بھارت میں شامل کیا جومسلمان اکثریتی آبادی کے ساتھ کھلی ناانصافی کے مترادف کل بھی تھی۔
مسٹر ولیم بیکر لکھتے ہیں ’1989 سے عالمی انسانی حقو ق کی کئی تنظیموں کے ہمراہ اُنہوں نے مقبوضہ وادی کا کئی بار دورہ کیا، ہر بار پہلے سے زیادہ بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں حالات کو ابتر پایا، یہی نہیں‘بلکہ اُس وقت بقول مسٹر بیکر کے میں نے خود معتبر ذرائع سے سنا ہے کہ مقبوضہ وادی میں اُس صحافی کو‘ دانشور‘ یا انسانی حقوق کے کارکن کو جو زمینی حالات کی ممکنہ ’سچائی‘ کو وادی سے باہر نکل کر بیان کرنے پر اصرار کرتا پایا جاتا تھا تو اُسے کشمیر میں تعینات بھارتی سیکورٹی فورسنز فوراً غائب کرادیتی ہیں انہوں نے اپنی یاداشت میں لکھا ہے کہ’میرے کئی دوست غائب ہوئے اور میں اُن کے لئے کچھ نہ کرسکا‘چاہے مقبوضہ کشمیر کا تنازعہ ہو یا فلسطینی مسئلہ دونوں میں کئی باتیں مثلا ریاستی سطح پر کی جانے والی ظلم وستم کی مشترک پائی ہیں کشمیر بھی اور فلسطین بھی غیر ملکی اور غیر قومی استبدادی پنجے میں اپنی ملی وثقافتی آزادی لینے کے لئے جیسا آج مچل رہا ہے،نجانے کب تک اُن کے لئے یہ غیر انسانی اندوہناک حالات اُن پر یونہی وارد رہیں گے؟ نجانے فلسطینی عوام اپنی سرزمین کب حاصل کرپائیں؟ نجانے کب صبحِ آزادی کا وہ چمکتا ہوا سورج کشمیری مسلمان بھی دیکھ پائیں؟‘ ہر انسان کی بنیادی آزادی اُس کا پیدائشی حق ہوتا ہے‘
آج73 برس بعد دُنیایہ دیکھ رہی ہے کہ مسٹر ولیم بیکر نے جیسا کچھ بیان کیا تاریخِ انسانیت کی سچائی کا اُن کا کہا ہوا ہرا یک لفظ ایسی سچائی ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا بھارتی قابض فوج کے ریاستی ظلم و ستم کا اختتام نجانے کب ہوگا‘ اب وقت آگیا ہے دنیائےِ اسلام کے ممالک مثلاً شام‘ عراق‘ لیبیا‘ افغانستان کے عوام بھی فلسطینی اور کشمیری عوام کی طرح عالمی بہیمانہ عزائم کی حامل استبدادی ذہنیت رکھنے والی قوتوں سے اپنے آپ کو چھڑانے کے لئے بھرپور پنجہ آزمائی کررہے ہیں کشمیر میں انسانی لہو کی بارش‘ انتشار اور تصادم کی ہولناک تباہیاں‘ انسانی قدروں کی وحشیانہ بے قدریاں‘ جگہ جگہ مغربی‘ اسرائیلی‘ امریکی اور بھارتی سامراج کی معاشی وسماجی مفادات کی سازشیں اور محکوم مسلمانوں کے خون کی ارزانی کا سلسلہ کبھی نہ کبھی تو روکے گا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اکتوبر1948 میں بھارتی درخواست پر پہلے کشمیر میں جاری پاک بھارت جنگ رکوائی‘ سیز فائر ہوا دو قراردادیں منظور ہوئیں، جن کا متن یہی تھا کہ کشمیر میں جنگی حالات کا ماحول بہتر ہوتے ہی وہاں اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں کشمیریوں کو حق استصوابِ رائے دیدیا جائے گا اِس سے قبل جموں و کشمیر سے بھارتی فوج نکل جائے گی،بھارت کے پہلے وزیر اعظم نہرو نے کئی بار عالمی فورموں پر وعدہ کیا تھا کہ ”کشمیر کا تنازعہ کشمیری عوام کی مرضی کے بغیر نہیں ہوگاجو چاہیں گے ویسا ہی ہوگا وہ پاکستان سے جا ملیں بھارت کو اعتراض نہ ہوگا،چونکہ ا قوام متحدہ کی سلامتی نے بھی ایک رائے شماری کے ذریعے اُنہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا ہے“ نہرو کے یہ اہم وعدے عالمی ریکارڈ کا حصہ ہیں، بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کے خون سے بھارتی فوج کو کب تک یونہی ہولیاں کھیلنے کی اجازت دی جائے؟ یہ سوال جو ہر کشمیری پوچھ رہا ہے۔ شہدا ء کی جلائی ہوئی آزادی کی مشعلوں میں اپنا تازہ لہو اُسی سرعت سے اپنی زمین کے حصول کے لئے نذر کررہے ہیں، بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردوں، قوانین کی دھجیاں اُڑتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دِی م ساتھ ہی غیر قانونی ڈومیسائل جاری کر دیے، مگر بے حس عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی‘کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے انسانی مسئلہ نے فکرِ انسانی کو ہر عہد میں اپنے احاطہ دامنِ خیال سے کبھی علیحدہ نہیں ہونے دیا،ممتاز عالمی شہرتِ یافتہ جرمنی مفکر مسٹررسل نے کہا تھا ”جب ہم دیکھتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے پر ہندوستانی حکومت کا بین الاقوامی معاملات میں بلند بانگ آئیڈ یلزم دم توڑ دیتا ہے، تو ہم جیسوں کے لئے مایوسی کے احساسات سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے“

بھارت میں یقیناًآج عالمی شہرتِ یافتہ دانشور برٹرینڈرسل کے کہے گئے یہ تاریخی شائستہ الفاظ کسی غیر جانبدار‘ غیر متعصب‘انصاف پسند اور اعتدال پسند روشن خیال بھارتی دانشوروں کے ذہنوں سے اگر محو ہوگئے ہوں یا متشدد تنظیم آر ایس ایس کے جنونیوں کے بلوؤں سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے وہ اعلانیہ یہ سب نہ کہنا چاہتے ہوں تو رابن رافیل کو تو ہر کوئی ممتاز بھارتی صحافی جانتا ہو گا جو1993 میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ رہے ہیں اُنہوں نے ایک موقع پر کہا تھا ’مجھے قطعی طور پر یہ کہہ کر واضح کرنے دیجئے کہ ہم اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کشمیر کے تنازعہ میں کسی بھی قسم کی حتمی معاملہ بندی میں ہر صورت کشمیر کے لوگوں ہی سے سب کو رجوع کر ناچاہیئے ہمارا یقین ہے کہ اِس موقع پر اُس وقت تک کوئی قدم پائیدار اور پختہ تصور نہیں کہلایا جاسکتا۔
جب تک کشمیر کے عوام راضی نہیں ہوتے، کشمیرکا پاکستان کے ساتھ ’یومِ الحاق‘ کا یہ جاری سلسلہ ہر سال 19 جولائی کو منانے کی اصولی روایت اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے کسی بھی صورت انحراف نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کا یہ اُصولی موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔ یہ قرار دادیں، کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیتی ہیں۔ پھر یہ کہ بھارت خود عالمی اور عوامی فورمز پر کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی حمایت کرتا رہا ہے، سو، اب وقت آگیا ہے کہ اُنھیں اُن کا قانونی حق دیا جائے۔ ہمیں بہ حیثیت مُلک اور بہ حیثیت عوام اس تنازعے کے اُسی حل کی حمایت کرنی چاہیے، جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔ورنہ خطہ کا امن قائم رہے ممکن نہیں، کیونکہ ”ظلم رہے اور امن بھی ہو‘کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جلدی
  • تعلیمی نظام کہاں جا رہا ہے؟
  • دست ربّ قدیر کی جانب
  • بجلی پہلوان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لاک ڈاؤن اور حکومتی لاپرواہی
پچھلی پوسٹ
کامیابی دراصل آپ کی ”سوچ ”ہے !

متعلقہ پوسٹس

مردہ آدمی کی تصویر

جون 9, 2020

تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں

مئی 18, 2020

ماں کی مامتا

مئی 20, 2020

پاکستان کے تعلیمی مسائل

جولائی 23, 2024

وعدہ پورا ہوا

مئی 24, 2024

اے دل تیرے فسانے

فروری 3, 2020

پاکستان کے لیے دو خوش خبریاں

فروری 20, 2025

کہانی ایک رات کی

جولائی 7, 2020

دل میں رہ جاتے ہیں سب لوگ

دسمبر 20, 2022

مولانا مجھے آپ سے شکایت ہے

ستمبر 9, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک ریڈیالوجسٹ دوست کے لئے

مئی 3, 2018

لگ رہا ہے اب اکیلے مجھ...

ستمبر 19, 2020

سیاہ شب کے مسافر

جون 10, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں