خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےاے دل تیرے فسانے
اردو افسانےاردو تحاریرانور جمال انور

اے دل تیرے فسانے

ایک اردو افسانہ از انور جمال انور

از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 3, 2020 0 تبصرے 342 مناظر
343

گذشتہ سات برسوں سے اس کا نمبر میرے سیل فون میں سیو تھا مگر اس سے بات نہ ہوتی تھی کئی بار میں نے اس کا نمبر ڈائل کر کے کاٹ دیا کہ کیا فائدہ ، وہی ہائے ہیلو ، خيریت ، آپ کیسے ہیں ، میں ٹھیک ہوں ، کاروبار بھی ٹھیک ھے ، بچے بھی ٹھیک ، بھابھی بھی ٹھیک ، سب ٹھیک ،،،، شاید یہی سب سوچ کر وہ بھی مجھے کال نہیں کرتا تھا ،،،

آج اس کی کال آئی تو خيال آیا ضرور کوئی اہم بات ہوگی ،،، کال رسیو کی تو اس نے کہا ،، ابھی ابھی میرا اس سے سامنا ہوا ھے ، بازار میں آئی تھی ، اسے دیکھ کر میں ہنس دیا ،،

اس نے ابھی یہاں تک ہی کہا تھا کہ میرے برق رفتار ذہن کے میموری کارڈ نے پرانی فائيلیں اپ لوڈ کرنا شروع کر دیں ،،، اگلے چند سیکنڈوں میں مجھے یاد آگيا کہ وہ کس کا ذکر کر رہا ھے .

تم نے بشرا کو دیکھا ؟ میں نے پوچھا

ہاں ! وہی وہی ،، اسے جب بھی دیکھتا ہوں مجھے تمہاری یاد آ جاتی ھے ،، اس بار تو اس نے پوچھ بھی لیا ،، سعید بھائی ، کیوں ہنس رہے ہو ؟ اب میں اسے کیسے بتاتا کہ تمہیں دیکھ کر مجھے کراچی والے دوست کا خیال آ جاتا ھے ،،،

میں نے کہا ،، یار تم بتا بھی دیتے تو اسے کیا پتہ چلتا ، وہ میرے بارے میں کچھ جانتی ہی نہیں ،،

ہاں جبھی تو میں ٹال گيا ،،، سعید بولا ،،پھر وہی رسمی ہائے ہیلو کے بعد اس نے فون بند کر دیا ،،

رات کو سونے سے پہلے یادوں کے دریچے سے بشرا کا چہرہ جھانکا اور اس نے گمشدہ دنوں کے احساس کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ، تیکھے نقوش والا نکیلا کٹیلا سا دل میں چبھ جانے والا وہ اس کا چہرہ ،،، گھر سے آدھا کلو میٹر دور اس کے ابے کی مٹھائيوں کی دکان تھی ،،، وہ بارہ بجے دن میں ابے کا کھانا لے کر روز گھر سے نکلتی اور میں اس کا پیچھا شروع کر دیتا مگر اس قدر احتیاط سے کہ اسے خبر نہ ہو ،،، کچی عمر تھی ، ڈر لگتا تھا کہ اگر اسے پتہ چلا تو اپنے ابے سے شکایت کر دے گی یا شکایت نہ بھی کرے تو یہ ضرور سوچے گی کہ یہ برا لڑکا ھے ،،،،،
ان دنوں کسی لڑکی کا پیچھا کرنا بہت معیوب مانا جاتا تھا لیکن خاموش محبت کا پودا تناور درخت بھی بن جائے تو پھل کب دیتا ھے ،،، نہ اس پر پھول لگتے ہیں نہ ہی وہ سایا دینے کے قابل ہوتا ھے ،،،
اس کے باوجود میں اسے چھپ چھپ کر دیکھتا رہا ،،، جب وہ سامنے سے گزر جاتی تو میں بھاگ کر دوسری گلی سے ہوتا ہوا ایک بار پھر اس مقام پر جا پہنچتا جہاں سے اس کا دیدار نصیب ہو ،،، ان دنوں محبتیں معصوم ہوتی تھیں خالی دیدار کر لینا ہی بڑا دلفریب ہوتا تھا ،، سارا دن خماری سی رہتی ، سرشاری کا احساس روح تک میں اتر جاتا ،،

سعید کہتا تھا یکطرفہ محبت لعنت ہوتی ھے ، تو اتنا ہی شرمیلا ھے تو میں اس سے تیرے بارے بات کرتا ہوں چلو وہ محبت کا جواب محبت سے نہ دے مگر اسے علم تو ہو کہ کوئی روز اس کا پیچھا کرتا ھے ،، اسے چاہتا ھے ،،،، میں اسے سختی سے منع کر دیا کرتا اور وہ ہنس ہنس کر مذاق اڑاتا ،،،،

اگلے روز میں نے سعید کو فون کیا ،، یار میں عید کی چھٹیوں میں شیخوپورہ آ رہا ہوں تم کسی طرح میری اس سے ملاقات کرا دینا ،،،،
سعید پھر ہنسنے لگا ،.،، اسے ہنسنے کی بیماری ہے ؛ کہنے لگا اب کیا فائدہ ،،بیس بائس سال پرانی بات ھے اب تو تیرے بھی تین چار بچے ہیں اور اس کے بھی ،،میں نے کہا یار اور کچھ نہیں تو کم از کم اسے علم ہی ہو جاے کہ کو ئی تھا ،،،،،،،،،

سعید نے ہنس کر کہا ،، اچھا تو آ پھر دیکھتے ہیں

جانے کس طرح سعید نے اس کے شوہر کو دائیں بائيں کیا ہو گا وہ مجھے لے کر اس کے گھر پہنچا تو اسے دیکھ کر ایک بار پھر مجھے شرمیلے پن کا دورہ پڑا اور میری زبان تالو سے چپک گئی ،گو کہ اب وہ پہلے جیسی خوبصورت نہیں رہی تھی مگر چہرہ تو وہی تھا نا ،،، نکیلا کٹیلا سا ، دل میں چبھ جانے والا
بالآخر سعید نے ہی اسے بتانا شروع کیا کہ یہ صاحب کون ہیں اور کس صفائی سے ہر روز تمہیں دکان اور دکان سے گھر تک چھوڑنے جاتے تھے

ممکن ھے وہ یہ سب سن کر حیران ہو رہی ہو ، میں اس کی طرف زیادہ دیکھ بھی نہیں رہا تھا ،،

باہر نکل کر سعید نے مجھے بہت ڈانٹا ،، ابے تیرے جیسے جھینپو کو کسی سے پیار کرنے کا حق ہی نہیں ہونا چاہئیے لڑکیاں اظہار چاہتی ہیں اتنی خاموشی کو کوئی پسند نہیں کرتا

میں پچھتانے لگا کہ کراچی سے یہاں تک آيا ہی کیوں تھا ،کیا ملا مجھے بشرا کے سامنے کچھ جتا کر ،،وہ میری طرف سے لا علم تھی تو لا علم ہی رہتی

جس دن میری واپسی تھی سعید ریلوے اسٹیشن پر میرے ساتھ تھا جب ٹرین چلنے لگی تو آخری لمحوں میں اس نے مجھے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ ایسا بشرا نے ہی کہا تھا کہ جب ٹرین چلنے لگے تو میں یہ تمہیں دوں

شاید بشرا نے خط لکھا تھا – اسے کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ریل گاڑی سرپٹ دوڑنے لگی بشرا اور سعید بہت پیچھے رہ گئے اور تب میں نے اسے کھول لیا اس میں میرا دسویں کلاس کا وہ آئڈینٹی کارڈ تھا جو اسکول کی طرف سے ملتا ھے کارڈ پر بیس بائیس سال پہلے کی میری تصویر بھی چسپاں تھی ،،،
بشرا نے ایک چھوٹے سے کاغذ پر لکھا تھا ،، یہ آپ کا کارڈ ایک دن راستے میں گر گیا تھا

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • موذی
  • کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے ؟
  • رضو باجی
  • بیوہ کا راز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رحمتِ خداوندی کے پھول
پچھلی پوسٹ
سوچ کی لہریں

متعلقہ پوسٹس

تاریخ کے وارث – تیسری قسط

جنوری 17, 2025

چالاک عورت

اکتوبر 9, 2022

غیر منظم منصوبہ بندیاں!

جنوری 29, 2021

نِکّی

جنوری 15, 2020

فیض اور کلاسیکی غزل

مئی 27, 2024

محبت، روح اور بنکاک – پانچ سال بعد

جنوری 1, 2025

شیشہ گھاٹ

جون 15, 2020

شو شو

جنوری 25, 2019

اصغر اعظم

مئی 10, 2020

چند تصویرِبُتاں

دسمبر 15, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

ترقی کا ابلیسی ناچ

نومبر 14, 2021

ننھے بچوں کو موبائل دیں

مارچ 4, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں