خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےبجلی پہلوان
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

بجلی پہلوان

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 385 مناظر
386

بجلی پہلوان

بجلی پہلوان کے متعلق بہت سے قصے مشہور ہیں‘ کہتے ہیں کہ وہ برق رفتار تھا۔ بجلی کی مانند اپنے دشمنوں پر گرتا تھا اور انھیں بھسم کر دیتا تھا لیکن جب میں نے اسے مغل بازار میں دیکھا تو وہ مجھے بے ضرر کدّو کے مانند نظر آیا‘ بڑا پھسپھس سا‘ توند باہر نکلی ہوئی‘ بند بند ڈھیلے‘ گال لٹکے ہوئے‘ البتہ اس کا رنگ سُرخ و سفید تھا۔ وہ مغل بازار میں ایک بزاز کی دُکان پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا‘ میں نے اُس کو غور سے دیکھا‘ مجھے اس میں کوئی غنڈہ پن نظر نہ آیا‘ حالانکہ اُس کے متعلق مشہور یہی تھا کہ ہندوؤں کا وہ سب سے بڑا غنڈہ ہے۔ وہ غنڈہ ہو ہی نہیں سکتا تھا‘ اس لیے کہ اُس کے خدوخال اُس کی نفی کرتے تھے۔ میں تھوڑی دیر سامنے والی کتابوں کی دکان کے پاس کھڑا اُس کو دیکھتا رہا۔ اتنے میں ایک مسلمان عورت جو بڑی مفلس دکھائی دیتی تھی‘ بزاز کی دکان کے پاس پہنچی‘ بجلی پہلوان سے اس نے کہا

’’مجھے بجلی پہلوان سے ملنا ہے‘‘

بجلی پہلوان نے ہاتھ جوڑ کر اسے پرنام کیا

’’ماتا‘ میں ہی بجلی پہلوان ہوں‘‘

اس عورت نے اُس کو سلام کیا

’’خدا تمھیں سلامت رکھے۔ میں نے سنا ہے کہ تم بڑے دیالو ہو

’’بجلی نے بڑی انکساری سے کہا :

’’ماتا ‘ دیالوپرمیشور ہے۔ میں کیا دیا کر سکتا ہوں‘ لیکن مجھے بتاؤ کہ میں کیا سیوا کر سکتا ہوں‘‘

’’بیٹا‘ مجھے اپنی جوان لڑکی کا بیاہ کرنا ہے۔ تم اگر میری کچھ مدد کر سکو تو میں ساری عمر تمھیں دعائیں دوں گی‘‘

بجلی نے اُس عورت سے پوچھا:

’’کتنے روپوں میں کام چل جائے گا‘‘

عورت نے جواب دیا : بیٹا! تم خود ہی سمجھ لو۔ میں تو ایک بھکارن بن کر تمہارے پاس آئی ہوں‘‘

بجلی نے کہا بھکارن منہ سے نہ کہو۔ میرا فرض ہے کہ میں تمہاری مدد کروں‘‘

اس کے بعد اس نے بزاز سے جو تھان تہہ کر رہا تھا کہا

’’لالہ جی۔ دو ہزار روپے نکالیے‘‘

لالہ جی نے دو ہزار رُوپے فوراً اپنی صندوقچی سے نکالے اور گن کر بجلی کو دے دیے۔ یہ روپے اُس نے اس عورت کو پیش کر دیے۔

’’ماتا۔ بھگوان کرے کہ تمہاری بیٹی کے بھاگ اچھے ہوں‘‘

وہ عورت چند لمحات کے لیے نوٹ ہاتھ میں لیے بُت بنی کھڑی رہی۔ غالباً اُس کو اتنے روپے ایک دم مل جانے کی توقع ہی نہیں تھی۔ جب وہ سنبھلی تو اُس نے بجلی پہلوان پر دُعاؤں کی بوچھاڑ کر دی‘ میں نے دیکھا کہ پہلوان بڑی اُلجھن محسوس کر رہا تھا‘ آخر اُس نے اس عورت سے کہا :

’’ماتا ‘ مجھے شرمندہ نہ کرو۔ جاؤ‘ اپنی بیٹی کے دان، جہیز کا انتظام کرو۔ اس کو میری اشیر باد دینا‘‘

میں سوچ رہا تھا کہ یہ کس قسم کا غنڈہ اور بدمعاش ہے جو دو ہزار روپے ایک ایسی عورت کو جو مسلمان ہے اور جسے وہ جانتا بھی نہیں (دو ہزار روپے) پکڑا دیتا ہے لیکن بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ بڑا مخیّر ہے‘ ہر مہینے ہزاروں روپے دان کے طور پر دیتا ہے۔ مجھے چونکہ اس کی شخصیت سے دلچسپی پیدا ہو گئی تھی‘ اس لیے میں نے کافی چھان بین کے بعد بجلی پہلوان کے متعلق کئی معلومات حاصل کیں۔ مغل بازار کی اکثر دکانیں اُس کی تھیں‘ حلوائی کی دکان ہے‘ بزاز کی دُکان ہے‘ شربت بیچنے والا ہے‘ شیشے فروخت کرنے والا ہے‘ پنساری ہے۔ غرضیکہ اِس سرے سے اُس سرے تک جہاں وہ بزاز کی دُکان میں بیٹھا تھا اُس نے ایک

’’لائن آف کمیونیکیشن‘‘

قائم کر رکھی تھی تاکہ اگر پولس چھاپہ مارنے کی غرض سے آئے تو اسے فوراً اطلاع مل جائے۔ دراصل اُس کی دو بیٹھکوں میں جو بزاز کی دُکان کے بالکل سامنے تھیں‘ بہت بھاری جوا ہوتا تھا‘ ہر روز ہزاروں روپے نال کی صورت میں اُسے وصول ہو جاتے تھے۔ وہ خود جوا نہیں کھیلتا تھا‘ نہ شراب پیتا تھا مگر اس کی بیٹھکوں میں شراب ہر وقت مل سکتی تھی‘ اس سے بھی اس کی آمدن کافی تھی۔ شہر کے جتنے بڑے بڑے غنڈے تھے‘ ان کو اُس نے ہفتہ مقرر کر رکھا تھا‘ یعنی ہفتہ وار انھیں ان کے مرتبے کے مطابق تنخواہ مل جاتی تھی۔ میرا خیال ہے اس نے یہ سلسلہ بطور حفظ ماتقدم شروع کیا تھا کہ وہ غنڈے بڑی خطرناک قسم کے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ یہ غنڈے سب کے سب مسلمان تھے زیادہ تر ہاتھی دروازے کے۔ ہر ہفتے بجلی پہلوان کے پاس جاتے اور اپنی تنخواہ صول کر لیتے۔ وہ ان کو کبھی نااُمید نہ لوٹاتا۔ اس لیے کہ اس کے پاس روپیہ عام تھا۔ میں نے سُنا کہ ایک دن وہ بزاز کی دکان پر حسبِ معمول بیٹھا تھا کہ ایک ہندو بنیا جو کافی مالدار تھا‘ اُس کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی

’’پہلوان جی! میرا لڑکا خراب ہو گیا ہے۔ اس کو ٹھیک کر دیجیے۔ پہلوان نے مسکرا کر اس سے کہا

’’میرے دو لڑکے ہیں۔ بہت شریف ‘ لوگ مجھے غنڈہ اور بدمعاش کہتے ہیں لیکن میں نے انھیں اس طرح پالا پوسا ہے کہ وہ کوئی بُری حرکت کر ہی نہیں سکتے۔ مہاشہ جی یہ آپ کا قصور ہے‘ آپ کے بڑے لڑکے کا نہیں‘‘

بنیے نے ہاتھ جوڑ کر کہا

’’پہلوان جی۔ میں نے بھی اس کو اچھی طرح پالا پوسا ہے‘ پر اُس نے اب چوری چوری بہت بُرے کام شروع کر دیے ہیں‘‘

بجلی نے اپنا فیصلہ سنا دیا

’’اس کی شادی کر دو‘‘

اس واقعے کو دس روز گزرے تھے کہ بجلی پہلوان ایک نوجوان لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو گیا حالانکہ اس سے اس قسم کی کوئی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔ لڑکی کی عمر سولہ سترہ برس کے لگ بھگ ہو گی اور بجلی پچاس سے اُوپر ہو گا۔ آدمی بااثر اور مالدار تھا۔ لڑکی کے والدین راضی ہو گئے‘ چنانچہ شادی ہو گئی۔ اس نے شہر کے باہر ایک عالی شان کوٹھی بنائی تھی‘ دولہن کو وہ جب اس میں لے کر گیا تو اُسے محسوس ہوا کہ تمام جھالر اور فانوس ماند پڑ گئے ہیں۔ لڑکی بہت خوبصورت تھی‘ پہلی رات بجلی پہلوان نے کسرت کرنا چاہی مگر نہ کر سکا۔ اس لیے کہ اس کے دماغ میں اپنی پہلی بیوی کا خیال کروٹیں لے رہا تھا‘اس کے دو جوان لڑکے تھے جو اسی کوٹھی کے ایک کمرے میں سو رہے تھے یا جاگ رہے تھے۔ اس نے اپنی پہلی بیوی کو کہیں باہر بھیج دیا تھا ‘ اس کو اس کا قطعاً علم نہیں تھا کہ اس کے پتی نے دوسری شادی کر لی ہے۔ بجلی پہلوان سوچتا تھا کہ اسے اور کچھ نہیں تو اپنی پہلی بیوی کو مطلع کر دینا چاہیے تھا۔ ساری رات نئی نویلی دولہن جس کی عمر سولہ سترہ برس کے قریب تھی‘ چوڑے چکلے پلنگ پر بیٹھی بجلی پہلوان کی اوٹ پٹانگ باتیں سنتی رہی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ شادی کیا ہے‘ کیا اسے ہر روز اسی قسم کی باتیں سننا ہوں گی۔

’’کل میں تمہارے لیے دس ہزار کے زیور اور لاؤں گا‘‘

’’تم بڑی سندر ہو‘‘

’’برفی کھاؤ گی یا پیڑے‘‘

’’یہ سارا شہر سمجھو کہ تمہارا ہے‘‘

’’یہ کوٹھی میں تمہارے نام لکھ دُوں گا‘‘

کتنے نوکر چاہئیں تمھیں۔ مجھے بتا دو ایک منٹ میں انتظام ہو جائے گا۔

’’میرے دو جوان لڑکے ہیں‘ بہت شریف۔ تم ان سے جو کام لینا چاہو لے سکتی ہو‘ وہ تمہارا حکم مانیں گے‘‘

دولہن ہر روز اسی قسم کی باتیں سنتی رہی‘ حتٰی کہ چھ مہینے گزر گئے‘ بجلی پہلوان دن بدن اُس کی محبت میں غرق ہوتا گیا‘ وہ اس کے تیکھے تیکھے نقش دیکھتا تو اپنی ساری پہلوانی بھول جاتا۔ اس کی پہلی بیوی بدشکل تھی۔ ان معنوں میں کہ اس میں کوئی کشش نہیں تھی‘ وہ ایک عام کھترانی تھی جو ایک بچہ جننے کے بعد ہی بوڑھی ہو جاتی ہے لیکن اس کی یہ دوسری بیوی بڑی ٹھوس تھی‘ دس بچے پیدا کرنے کے بعد بھی وہ ثابت و سالم رہ سکتی تھی۔ بجلی پہلوان کا ایک وید دوست تھا اس کے پاس وہ کئی دنوں سے جا رہا تھا اُس نے بجلی کو یقین دلایا کہ اب کسی قسم کے تردّد کی ضرورت نہیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پہلوان خوش تھا۔ وید کے ہاں سے آتے ہوئے اس نے کئی سکیمیں تیار کیں‘ راستے میں مٹھائی خریدی‘ سونے کے دو بڑے بڑے خوشنما کڑے لیے ‘ بارہ قمیصوں اور بارہ شلواروں کے لیے بہترین کپڑا قیمت ادا کیے بغیر حاصل کیا۔ اس لیے کہ وہ لوگ جو دُکان کے مالک تھے اس سے مرعوب تھے اور قیمت لینے سے انکاری تھے۔ شام کو سات بجے وہ گھر پہنچا ‘ آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے اپنے کمرے میں گیا‘ دیکھا تو وہاں اس کی دوسری بیوی نہیں تھی‘ اس نے سوچا شاید غسل خانے میں ہو گی چنانچہ اس نے اپنا بوجھ‘ میرا مطلب ہے وہ تھان وغیرہ پلنگ پر رکھ کر غسل خانے کا رخ کیا ‘ مگر وہ خالی تھا۔ بجلی پہلوان بڑا متحیر ہوا کہ اس کی بیوی کہاں گئی۔ طرح طرح کے خیالات اس کے دماغ میں آئے مگر وہ کوئی نتیجہ برآمد نہ کر سکا اس نے دیدکی دی ہوئی گولیاں کھائیں اور پلنگ پر بیٹھ گیا کہ اس کی بیوی آ جائے گی آخر اسے جانا کہاں ہے؟ وہ گولیاں کھا کر پلنگ پر بیٹھا قمیصوں کے کپڑوں کو اُنگلیوں میں مسل مسل کر دیکھ رہا تھا کہ اسے اپنی بیوی کی ہنسی کی آواز سنائی دی وہ چونکا اُٹھ کر اُس کمرے میں گیا جو اُس نے اپنے بڑے لڑکے کو دے رکھا تھا اندر سے اس کی بیوی اور اس کے بیٹے کی ہنسی کی آواز نکل رہی تھی۔ اُس نے دستک دی۔ لیکن دروازہ نہ کھلا پھر بڑے زور سے چلانا شروع کیا کہ دروازہ کھولو۔ اس وقت اس کا خون کھول رہا تھا۔ دروازہ پھر بھی نہ کھلا۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کمرے کے اندر اس کی بیوی اور اس کے بڑے لڑکے نے سانس لینا بھی بند کر دیا ہے۔ بجلی پہلوان نے بڑے کمرے میں جاکر گورمکھی زُبان میں ایک رقعہ لکھا جس کی عبارت اُردو میں کچھ یوں ہوسکتی ہے‘‘

یہ کوٹھی اب تمہاری ہے۔ میری بیوی بھی اب تمہاری بیوی ہے خوش رہو۔ ۔ تمہارے لیے کچھ تحفے لایا تھا۔ وہ یہاں چھوڑے جارہا ہوں۔ یہ رقعہ لکھ اس نے ساٹن کے تھان کے ساتھ ٹانک دیا۔ (۲۷ مئی ۵۴ ؁ء)

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میلاد االنبیؐ کی خوشی
  • برابری کا مقدمہ
  • شبِ معراج
  • جمود فکر پر تازیانہ برساتے اختصارئیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ایکٹریس کی آنکھ
پچھلی پوسٹ
باسط

متعلقہ پوسٹس

احسان علی

جنوری 17, 2020

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

طوائف اور جگر مرادآبادی

اپریل 24, 2017

کسٹم کا مشاعرہ

دسمبر 14, 2019

کتابی باتیں اور عملی لوگ!

جنوری 14, 2021

ہمیں مزید تبدیلی نہیں چاہیے

جنوری 2, 2022

رازوں کی شام

دسمبر 15, 2024

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ

اگست 30, 2025

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

اب اور تب

جنوری 25, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کتاب کا خلاصہ

جنوری 15, 2020

صحرائے گوبی کا طلسم

مئی 3, 2020

یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے...

مئی 25, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں