خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےایکٹریس کی آنکھ
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ایکٹریس کی آنکھ

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 21, 2020 0 تبصرے 363 مناظر
364

ایکٹریس کی آنکھ

’’پاپوں کی گٹھڑی‘‘

کی شوٹنگ تمام شب ہوتی رہی تھی، رات کے تھکے ماندے ایکٹر لکڑی کے کمرے میں جو کمپنی کے ولن نے اپنے میک اپ کے لیے خاص طور پرتیار کرایا تھا اور جس میں فرصت کے وقت سب ایکٹر اور ایکٹرسیں سیٹھ کی مالی حالت پر تبصرہ کیا کرتے تھے، صوفوں اور کرسیوں پر اونگھ رہے تھے۔ اس چوبی کمرے کے ایک کونے میں میلی سی تپائی کے اوپر دس پندرہ چائے کی خالی پیالیاں اوندھی سیدھی پڑی تھیں جو شاید رات کو نیند کا غلبہ دُور کرنے کے لیے ان ایکٹروں نے پی تھیں۔ ان پیالوں پر سینکڑوں مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ کمرے کے باہر ان کی بھنبھناہٹ سُن کر کسی نووارد کو یہی معلوم ہوتا کہ اندر بجلی کا پنکھا چل رہا ہے۔ دراز قد وِلن جو شکل و صورت سے لاہور کا کوچوان معلوم ہوتا تھا، ریشمی سوٹ میں ملبوس صوفے پر دراز تھا۔ آنکھیں کھلی تھیں اور منہ بھی نیم وا تھا۔ مگر وہ سو رہا تھا۔ اسی طرح اس کے پاس ہی آرام کرسی پر ایک مونچھوں والا ادھیڑ عمر کا ایکٹر اونگھ رہا تھا۔ کھڑکی کے پاس ڈنڈے سے ٹیک لگائے ایک اور ایکٹر سونے کی کوشش میں مصروف تھا۔ کمپنی کے مکالمہ نویس یعنی منشی صاحب ہونٹوں میں بیڑی دبائے اور ٹانگیں، میک اپ ٹیبل پر رکھے، شاید وہ گیت بنانے میں مصروف تھے جو انھیں چار بجے سیٹھ صاحب کو دکھانا تھا۔

’’اُوئی،

’’اُوئی۔ ہائے۔ ہائے۔ ‘‘

دفعتاً یہ آواز باہر سے اس چوبی کمرے میں کھڑکیوں کے راستے اندر داخل ہُوئی۔ ولن صاحب جھٹ سے اُٹھ بیٹھے اور اپنی آنکھیں ملنے لگی۔ مونچھوں والے ایکٹر کے لمبے لمبے کان ایک ارتعاش کے ساتھ اس نسوانی آواز کو پہچاننے کے لیے تیار ہُوئے۔ منشی صاحب نے میک اپ ٹیبل پر سے اپنی ٹانگیں اُٹھالیں اور ولن صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنا شروع کردیا۔

’’اُوئی، اُوئی، اُوئی۔ ہائے۔ ہائے۔ ‘‘

اس پر، ولن، منشی اور دوسرے ایکٹر جو نیم غنودگی کی حالت میں تھے چونک پڑے، سب نے کاٹھ کے اس بکس نما کمرے سے اپنی گردنیں باہر نکالیں۔

’’ارے، کیا ہے بھئی۔ ‘‘

’’خیر تو ہے!‘‘

’’کیا ہُوا؟‘‘

’’اماں، یہ تو۔ دیوی ہیں!‘‘

’’کیا بات ہے! دیوی؟‘‘

جتنے منہ اتنی باتیں۔ کھڑکی میں سے نکلی ہُوئی ہر گردن بڑے اضطراب کے ساتھ متحرک ہُوئی اور ہر ایک کے منہ سے گھبراہٹ میں ہمدردی اور استفسار کے ملے جلے جذبات کا اظہار ہوا۔

’’ہائے، ہائے، ہائے۔ اُوئی۔ اُوئی!‘‘

۔ دیوی، کمپنی کی ہر دلعزیز ہیروئن کے چھوٹے سے منہ سے چیخیں نکلیں اور باہوں کو انتہائی کرب و اضطراب کے تحت ڈھیلا چھوڑ کر اس نے اپنے چپل پہنے پاؤں کو زور زور سے اسٹوڈیوکی پتھریلی زمین پر مارتے ہوئے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ ٹھمکا ٹھمکا بوٹا سا قد، گول گول گدرایا ہُوا ڈیل، کھلتی ہوئی گندمی رنگت خوب خوب کالی کالی تیکھی بھنویں، کھلی پیشانی پر گہرا کسوم کا ٹیکا۔ بال کالے بھونراسے جو سیدھی مانگ نکال کر پیچھے جوڑے کی صورت میں لپیٹ دے کرکنگھی کیے ہوئے تھے، ایسے معلوم ہوتے تھے، جیسے شہد کی بہت سی مکھیاں چھتے پربیٹھی ہُوئی ہیں۔ کنارے دار سفید سوتی ساڑھی میں لپٹی ہُوئی، چولی گجراتی تراش کی تھی، بغیر آستینوں کے، جن میں سے جوبن پھٹا پڑتا تھا، ساڑھی بمبئی کے طرز سے بندھی تھی۔ چاروں طرف میٹھا میٹھا جھول دیا ہوا تھا۔ گول گول کلائیاں جن میں کُھلی کُھلی جاپانی ریشمین چوڑیاں کھنکنا رہی تھیں۔ ان ریشمین چوڑیوں میں ملی ہوئی ادھر ادھر ولایتی سونے کی پتلی پتلی کنگنیاں جھم جھم کررہی تھیں، کان موزوں اور لویں بڑی خوبصورت کے ساتھ نیچے جھکی ہوئیں، جن میں ہیرے کے آویزے، شبنم کی دو تھراتی ہوئی بوندیں معلوم ہورہی تھیں۔ چیختی چلاتی، اور زمین کو چپل پہنے پیروں سے کوٹتی، دیوی نے داہنی آنکھ کو ننھے سے سفید رومال کے ساتھ ملنا شروع کردیا۔

’’ہائے میری آنکھ۔ ہائے میری آنکھ۔ ہائے!‘‘

کاٹھ کے بکس سے باہر نکلی ہوئی کچھ گردنیں اندر کو ہو گئیں اور جو باہر تھیں، پھر سے ہلنے لگیں۔

’’آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہے؟‘‘

’’یہاں کنکر بھی تو بیشمار ہیں۔ ہَوا میں اُڑتے پھرتے ہیں۔ ‘‘

’’یہاں جھاڑو بھی تو چھ مہینے کے بعد دی جاتی ہے۔ ‘‘

’’اندر آجاؤ، دیوی۔ ‘‘

’’ہاں، ہاں، آؤ۔ آنکھ کو اس طرح نہ ملو۔ ‘‘

’’ارے بابا۔ بولا نہ تکلیف ہو جائیگی۔ تم اندر تو آؤ۔ ‘‘

آنکھ ملتی ملتی، دیوی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھی۔ ولن نے لپک کر تپائی پر سے بڑی صفائی کے ساتھ ایک رومال میں چائے کی پیالیاں سمیٹ کر میک اپ ٹیبل کے آئینے کے پیچھے چھپا دیں اور اپنی پُرانی پتلون سے ٹیبل کو جھاڑپونچھ کر صاف کردیا۔ باقی ایکٹروں نے کرسیاں اپنی اپنی جگہ پر جما دیں اور بڑے سلیقے سے بیٹھ گئے۔ منشی صاحب نے پرانی ادھ جلی بیڑی پھینک کر جیب سے ایک سگرٹ نکال کر سلگانا شروع کردیا۔ دیوی اندر آئی۔ صوفے پرسے منشی صاحب اور ولن اُٹھ کھڑے ہُوئے۔ منشی صاحب نے بڑھ کر کہا۔

’’آؤ، دیوی یہاں بیٹھو۔ ‘‘

دروازے کے پاس بڑی بڑی سیاہ و سفید مونچھوں والے بزرگ بیٹھے تھے، ان کی مونچھوں کے لٹکے اور بڑھے ہوئے بال تھرتھرائے اور انھوں نے اپنی نشست پیش کرتے ہوئے گجراتی لہجہ میں کہا۔

’’ادھر بیسو۔ ‘‘

دیوی ان کی تھرتھراتی ہوئی مونچھوں کی طرف دھیان دیئے بغیر آنکھ ملتی اور ہائے ہائے کرتی آگے بڑھ گئی۔ ایک نوجوان نے جو ہیرو سے معلوم ہورہے تھے اور پھنسی پھنسی قمیض پہنے ہوئے تھے، جھٹ سے ایک چوکی نما کرسی سرکا کر آگے بڑھا دی اور دیوی نے اس پر بیٹھ کر اپنی ناک کے بانسے کو رومال سے رگڑنا شروع کردیا۔ سب کے چہرے پر دیوی کی تکلیف کے احساس نے ایک عجیب و غریب رنگ پیدا کردیا تھا۔ منشی صاحب کی قوتِ احساس چونکہ دوسرے مردوں سے زیادہ تھی، اس لیے چشمہ ہٹا کر انھوں نے اپنی آنکھ ملنا شروع کردی تھی۔ جس نوجوان نے کرسی پیش کی تھی، اس نے جُھک کر دیوی کی آنکھ کا ملاحظہ کیا اور بڑے مفکرانہ انداز میں کہا۔

’’آنکھ کی سرخی بتا رہی ہے کہ تکلیف ضرور ہے۔ ‘‘

ان کا لہجہ پھٹا ہوا تھا۔ آواز اتنی بلند تھی کہ کمرہ گونج اٹھا۔ یہ کہنا تھا کہ دیوی نے اور زور زور سے چلانا شرع کردیا اور سفید ساڑھی میں اس کی ٹانگیں اضطراب کا بے پناہ مظاہرہ کرنے لگیں۔ ولن صاحب آگے بڑھے اور بڑی ہمدردی کے ساتھ اپنی سخت کمر جُھکا کر دیوی سے پوچھا۔

’’جلن محسوس ہوتی ہے یا چُبھن!‘‘

ایک اور صاحب جو اپنے سولا ہیٹ سمیت کمرے میں ابھی ابھی تشریف لائے تھے، آگے بڑھ کے پوچھنے لگے۔

’’پپوٹوں کے نیچے رگڑ سی محسوس تو نہیں ہوتی۔ ‘‘

دیوی کی آنکھ سرخ ہورہی تھی۔ پپوٹے ملنے اور آنسوؤں کی نمی کے باعث مَیلے مَیلے نظر آرہے تھے۔ چتونوں میں سے لال لال ڈوروں کی جھلک چک میں سے غروبِ آفتاب کا سرخ سرخ منظر پیش کررہی تھی۔ داہنی آنکھ کی پلکیں نمی کے باعث بھاری اور گھنی ہو گئی تھیں، جس سے ان کی خوبصورتی میں چار چاند لگ گئے تھے۔ باہیں ڈھیلی کرکے دیوی نے دکھتی آنکھ کی پتلی نچاتے ہوئے کہا۔

’’آں۔ بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ہائے۔ اُوئی!‘‘

اور پھر سے آنکھ کوگیلے رومال سے ملنا شروع کردیا۔ سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے جو کونے میں بیٹھے تھے، بلند آواز میں کہا۔

’’اس طرح آنکھ نہ رگڑو، خالی پیلی کوئی اور تکلیف ہو جائے گا۔ ‘‘

’’ہاں، ہاں۔ ارے، تم پھر وہی کررہی ہو۔ ‘‘

پھٹی آواز والے نوجوان نے کہا۔ ولن جو فوراً ہی دیوی کی آنکھ کو ٹھیک حالت میں دیکھنا چاہتے تھے، بگڑ کر بولے۔

’’تم سب بیکار باتیں بنا رہے ہو۔ کسی سے ابھی تک یہ بھی نہیں ہوا کہ دوڑ کر ڈاکٹر کو بُلا لائے۔ اپنی آنکھ میں یہ تکلیف ہو توپتہ چلے۔ ‘‘

یہ کہہ کر انھوں نے مڑ کر کھڑکی میں سے باہر گردن نکالی اور زور زور سے پکارنا شروع کیا۔

’’ارے۔ کوئی ہے۔ کوئی ہے؟ گُلاب؟ گُلاب!‘‘

جب ان کی آواز صدابصحرا ثابت ہُوئی تو انھوں نے گردن اندر کو کرلی اور بڑبڑانا شروع کردیا۔

’’خدا جانے ہوٹل والے کا یہ چھوکرا کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ پڑا اونگھ رہا ہو گا اسٹوڈیو میں کسی تختے پر۔ مردُود نابکار۔ ‘‘

پھر فوراً ہی دُور اسٹوڈیو کے اس طرح گلاب کو دیکھ کر چلائے، جو انگلیوں میں چائے کی پیالیاں لٹکائے چلا آرہا ہے۔

’’ارے گلاب۔ گلاب!‘‘

گلاب بھاگتا ہُوا آیا اور کھڑکی کے سامنے پہنچ کر ٹھہر گیا۔ ولن صاحب نے گھبرائے ہوئے لہجہ میں اس سے کہا۔

’’دیکھو! ایک گلاس میں پانی لاؤ۔ جلدی سے۔ بھاگو!‘‘

گلاب نے کھڑے کھڑے اندر جھانکا، دیکھنے کے لیے کہ یہاں گڑ بڑ کیا ہے۔ اس پر ہیرو صاحب للکارے

’’ارے دیکھتا کیا ہے۔ لا، نا کلاس میں تھوڑا سا پانی۔ بھاگ کے جا، بھاگ کے!‘‘

گلاب سامنے، ٹین کی چھت والے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا۔ دیوی کی آنکھ میں چبھن اور بھی زیادہ بڑھ گئی اور اس کی بنارسی لنگڑے کی کیری ایسی ننھی منی ٹھوڑی روتے بچے کی طرح کانپنے لگی اور وہ اُٹھ کر درد کی شدت سے کراہتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔ دستی بٹوے سے ماچس کی ڈبیا کے برابر ایک آئینہ نکال کر اس نے اپنی دُکھتی آنکھ کو دیکھنا شروع کردیا۔ اتنے میں منشی صاحب بولے۔

’’گلاب سے کہہ دیا ہوتا۔ پانی میں تھوڑی سی برف بھی ڈالتا لائے!‘‘

’’ہاں، ہاں، سرد پانی اچھا رہے گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر ولن صاحب کھڑکی میں سے گردن باہر نکال کرچلائے۔

’’گلاب۔ ارے گلاب۔ پانی میں تھوڑی سی برف چھوڑ کے لانا۔ ‘‘

اس دوران میں ہیرو صاحب جو کچھ سوچ رہے تھے، کہنے لگے

’’میں بولتا ہوں کہ رومال کو سانس کی بھانپ سے گرم کرو اور اس سے آنکھ کو سینک دو۔ کیوں دادا؟‘‘

’’ایک دم ٹھیک رہے گا!‘‘

سیاہ و سفید مونچھوں والے صاحب نے سر کو اثبات میں بڑے زور سے ہلاتے ہُوئے کہا۔ ہیرو صاحب کھونٹیوں کی طرف بڑھے۔ اپنے کوٹ میں سے ایک سفید رومال نکال کر دیوی کو سانس کے ذریعے سے اس کو گرم کرنے کی ترکیب بتائی اور الگ ہو کرکھڑے ہو گئے۔ دیوی نے رومال لے لیا اور اسے منہ کے پاس لے جا کر گال پُھلا پُھلا کر سانس کی گرمی پہنچائی، آنکھ کو ٹکور دی مگر کچھ افاقہ نہیں ہوا۔

’’کچھ آرام آیا؟‘‘

سولاہیٹ والے صاحب نے دریافت کیا۔ دیوی نے رونی آواز میں جواب دیا۔

’’نہیں۔ نہیں۔ ابھی نہیں نکلا۔ میں مر گئی!۔ ‘‘

اتنے میں گلاب پانی کا گلاس لے کر آگیا۔ ہیرو اور ولن دوڑ کربڑھے اور دونوں نے مل کر دیوی کی آنکھ میں پانی چوایا۔ جب گلاس کا اپنی آنکھ کو غسل دینے میں ختم ہو گیا، تو دیوی پھر پانی جگہ پر بیٹھ گئی اور آنکھ جھپکانے لگی۔

’’کچھ افاقہ ہُوا۔ ‘‘

’’اب تکلیف تو نہیں ہے؟‘‘

’’کنکری نکل گئی ہو گی۔ ‘‘

’’بس تھوڑی دیر کے بعد آرام آجائے گا!‘‘

آنکھ دھل جانے پر پانی کی ٹھنڈک نے تھوڑی دیر کے لیے دیوی کی آنکھ میں چُبھن رفع کردی، مگر فوراً ہی پھر سے اس نے درد کے مارے چلانا شروع کردیا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

یہ کہتے ہوئے ایک صاحب باہر سے اندر آئے اور دروازے کے قریب کھڑے ہوکر معاملے کی اہمیت کو سمجھنا شروع کردیا۔ نووارد کُہنہ سال ہونے کے باوجود چُست و چالاک معلوم ہوتے تھے۔ مونچھیں سفید تھیں، جو بیڑی کے دھوئیں کے باعث سیاہی مائل زرد رنگت اختیار کر چکی تھیں، ان کے کھڑے ہونے کا انداز بتا رہا تھا کہ فوج میں رہ چکے ہیں۔ سیاہ رنگ کی ٹوپی سر پر ذرا اس طرف ترچھی پہنے ہُوئے تھے۔ پتلون اور کوٹ کا کپڑا معمولی اور خاکستری رنگ کا تھا۔ کولھوں اور رانوں کے اُوپر پتلون میں پڑے ہُوئے جھول اس بات پر چغلیاں کھا رہے تھے کہ ان کی ٹانگوں پر گوشت بہت کم ہے۔ کالر میں بندھی ہوئی میلی نکٹائی کچھ اس طرح نیچے لٹک رہی تھی کہ معلوم ہوتا تھا، وہ ان سے روٹھی ہُوئی ہے، پتلون کا کپڑا گھٹنوں پر کھچ کر آگے بڑھا ہُوا تھا، جو یہ بتا رہا تھا کہ وہ اس بے جان چیز سے بہت کڑا کام لیتے رہے ہیں، گال بڑھاپے کے باعث بہ پچکے ہوئے، آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہُوئیں، جو بار بار شانوں کی عجیب جنبش کے ساتھ سکیڑ لی جاتی تھیں۔ آپ نے کاندھوں کو جنبش دی اور ایک قدم آگے بڑھ کر کمرے میں بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا

’’کنکر پڑ گیا ہے کیا؟‘‘

اور اثبات میں جواب پا کر دیوی کی طرف بڑھے۔ ہیرو اور ولن کو ایک طرف ہٹنے کا اشارہ کرکے آپ نے کہا۔ ‘‘

پانی سے آرام نہیں آیا۔ خیر۔ رومال ہے کسی کے پاس؟‘‘

نصف درجن رومال ان کے ہاتھ میں دے دیئے گئے۔ بڑے ڈرامائی انداز میں آپ نے ان پیش کردہ رومالوں میں سے ایک منتخب کیا، اور اس کا ایک کنارہ پکڑ کر دیوی کو آنکھ پر سے ہاتھ ہٹالینے کا حکم دیا۔ جب دیوی نے ان کے حکم کی تعمیل کی، تو انھوں نے جیب میں سے مداری کے سے انداز میں ایک چرمی بٹوا نکالا اور اس میں سے اپنا چشمہ نکال کر کمال احتیاط سے ناک پر چڑھالیا۔ پھر چشمے کے شیشوں میں سے دیوی کی آنکھ کا دور ہی سے اکڑ کر معائنہ کیا۔ پھر دفعتاً فوٹو گرافر کی سی پھرتی دکھاتے ہوئے آپ نے اپنی ٹانگیں چوڑی کیں اور جب انھوں نے اپنی پتلی پتلی انگلیوں سے دیوی کے پپوٹوں کو وا کرنا چاہا تو ایسا معلوم ہُوا کہ وہ فوٹو لیتے وقت کیمرے کا لینس بند کررہے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مولوی عبدالحق اور اُردو زبان
  • آن لائن گیمز ۔ نسلوں کی تباہی
  • ایک بار الکشن میں
  • مشرقِ وسطیٰ کا بدلتا منظرنامہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یا رب نگاہ بد سے چمن کو بچائیو
پچھلی پوسٹ
بجلی پہلوان

متعلقہ پوسٹس

سوچ کی غلامی

اگست 24, 2025

پورے چاند کی رات

مارچ 22, 2020

یوم عہد وفا – 14 اگست

اگست 14, 2020

کیلیں

فروری 15, 2023

خوش طبعی یعنی مزاح کرنے کی شرعی حیثیت

ستمبر 15, 2023

برف باری سے پہلے

جنوری 12, 2020

کنگ پوش

جون 14, 2020

ہم کمزور نہیں ہیں !

جون 27, 2022

چڑیل

جولائی 2, 2018

ہجویاتِ سودا

اپریل 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

محروم چئیو کھبی نہیں مرتی

جنوری 1, 2022

مکافات عمل

جنوری 2, 2025

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں