خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباحشر کا میدان
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریر

حشر کا میدان

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2024
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 31, 2024 0 تبصرے 78 مناظر
79

آج اس نے بڑی لگن سے اپنے چھوٹے سے صحن میں جھاڑو ماری تھی ۔ہلکا ہلکا پانی کا ترکاو کیا۔کمرے کو صاف کیا ۔ایک بڑا پلنگ ،چھوٹا شیشہ اور ایک صندوق کے سوا کیا رکھاتھا مگر انھیں بھی خوب صاف کیا ۔گھڑے کو بھر کے رکھا ۔پو پھٹنے ہی والی تھی ۔چودرائن سے لسی بھی لے آئی تھی ۔دو روٹیوں کا آٹا پڑا تھا ۔اسے گوندھا اور ساتھ والوں کے تندور سے پکا کر چنگیر میں رکھیں ۔محمد بخش کی روٹی پر تھوڑا سا مکھن رکھا جو چودرائن نے لسی میں ڈال دیا تھا ۔محمد بخشا ہاتھ منہ دھو لے ۔ناشتہ تیار ہے ۔اس نے لسی جگ میں ڈالتے ہوئے اسے پکارا ۔محمد بخش جاگ ہی رہا تھا فوراً اٹھ گیا ۔
وہ جلدی جلدی گڈوی دھونے لگی ۔”لے آ زلیخا
اچھا اچھا
اس نے جھٹ روٹی اور لسی کا گلاس اس کے سامنے رکھا
"یہ کیا زلیخاں ؟ایک پکا لیتی سارا آٹا ختم کر دیا ہو گا "تو کیا ہوا محمد بخشا اور آ جائے گا آج "اس نے چنگیر سے روٹی کا نوالہ بنا کر اسے دیا
کہاں سے آ جائے گا؟
بھول جاتا ہے نا تو سرکار جو مفت آٹا دے رہی ہے نا وہ آج ہی تو لینے جانا ہے ”
اچھا اچھا لا پھر پیٹ بھر کے تو کھاؤں ۔اس کی آواز میں شرساری آ گئی ۔
یہ چھوٹا سا ویڑا اتنا صاف کیا تو نے
گھڑا بھرا پھر لسی بھی لے آئی میں بھی کہوں زلیخاں اتنی خوش تو سجاول کے آنے ہر ہوتی تھی کہیں آج ؟
بس کر دے محمد بخشا بس
اس نے روٹی چنگیر میں رکھ دی
زلیخاں نے محمد بخش کے آنسو نہیں دیکھے تھے یا وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔مگر وہ تو اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔وہ ماں تھی جس کو رب نے خاص طور پر اولاد کے لئے انوکھا بنایا ہے ۔بیٹا ناراض ہو جائے تو بھی روتی ہے خوش ہو تو پڑھ پڑھ کر پھونکتی رہتی ہے اللہ سوہنڑے میرے بچے کو ہر طرح کی نظر سے بچا لینا
سجاول مر جاتا تو شاید اسے صبر آ جاتا مگر اسے تو دنیا کی روشنیاں نگل گئ تھیں ۔
"زلیخاں رزق کی عزت کرتے ہیں چل کھا شاباش تو نے پوری دس جماعتیں پڑھیں ۔میں تو ان پڑھ کسان ہوں ۔تجھے تو زیادہ سمجھ ہے”
زلیخاں نے دوپٹے سے آنسو صاف کئے اور چھوٹے چھوٹے نوالے لینے لگی ۔
ناشتے کے بعد اس نے برتن دھو کر رکھے ۔استری کیا ہوا صاف ستھرا جوڑا نکالا ۔بالوں کا چھوٹا سا جوڑا بنایا اور سر کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا ۔
محمد بخش بھی تیار تھا ۔
کنڈا لگا کر اس نے ہمسائی کو گھر کا خیال رکھنے کو کہا اور دونوں سڑک کے کنارے درخت کے نیچے جا بیٹھے ۔بس نے دس بجے آنا تھا ۔سفر زیادہ نہیں تھا ۔محمد بخش کی ٹانگ میں درد رہتا تھا ۔اسی لئے اس نے بہتر سمجھا کہ بس میں چلیں جائیں ۔
دو اور لوگ بھی تھے شاید وہ بھی سینٹر جا رہے تھے ۔انھیں بھی آٹا چاہیے تھا۔
"سجو اوہ سجو
جی اماں
اماں صدقے جائے زیادہ دھوپ میں نہ پھرا کر
اتنا تو گورا ہوں ۔گھبرا کر گالوں پر ہاتھ پھیرتا
"اچھا چل ماسڑ صاحب کے پاس چھوڑ آوں”
"اماں یہ پڑھائی کس نے بنائی تھی ؟”
اتنا معصوم سوال وہ ہنس پڑتی ”
پتہ بھی نہیں چلا وہ پڑھ گیا
مگر اس کے باہر جا کر پڑھنے کی خاطر جو تھوڑی بہت زمین تھی ۔بک گئ ۔محمد بخش کہتا رہا
"بس کر زلیخاں میں اس کے تیور پہچان گیا ہوں یہ پھر ہمارا نہیں بنے گا ۔
ارے کیوں نہیں بنے گا زلیخاں اور محمد بخش کا پتر ہے ”
آواز میں غرور آ جاتا ۔
آخری بار یہیں سے اسے رخصت کیا تھا ۔اس کا ماتھا چوما تھا ۔اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا ۔محمد بخش نے اسے یہیں آخری بار سینے سے لگایا تھا ۔
بڑا انتظار کیا وہ نہیں پلٹا
اڑتی اڑتی خبر ملی تھی وہ واپس آ گیا ہے بڑا افسر بن گیا ہے اور شادی بھی کر لی اس نے
اس روز دونوں بہت روئے تھے ۔
میں کہتا تھا نہیں آئے گا
"اچھا چل روتے نہیں ہم دعا کرتے ہیں” اس نے اپنے آنسو صاف کیے۔محمد۔بخشاوہ جہاں رہے بس خوش رہے دیکھ ہم سےوہ تعلق نہ بھی رکھے تو کیا یہ تو خدا نے بنایا ہے نا یہ خدائ ٹانکا وہ توڑ تو نہیں سکتا اور نہ ہم انکار کر سکتے ہیں
پھر جیسے دونوں صبر میں آ گئے ۔وہ لوگوں کی گندم صاف کر لیتی ۔کسی کی کپاس چن لیتی ۔کسی کے گھر کو مٹی سے لیپ کرنا ہوتا وہ کر دیتی ۔کبھی پانی کے گھڑے بھر آتی محمد بخش بھی باہر سٹے بھونتا ۔دونوں کی ضروریات اتنی نہ تھیں ۔اس لئے وقت گزر رہا تھا ۔کچھ لوگ طعنے بھی دیتے اور کچھ آسرا بھی بنتے ۔ان دونوں کو کسی سے گلہ نہیں تھا ۔کھوٹ ان کی اولاد میں تھا ۔وہ کیوں شکوہ کرتے
"کہاں کھو گئ آو بس آ گئ” ۔محمد بخش کی آواز پر چونکی دونوں بس میں بیٹھ گئے تھے ۔شکر ہے بیٹھنے کی جگہ مل گئی تھی ۔
کنڈکڑ صدائیں لگا رہا تھا ۔شام کوٹ والے آ جائیں
اس نے محمد بخش کا ہاتھ پکڑا اور دونوں نیچے اتر آئے
مگر یہ کیا پورا ایک میدان لگا تھا ۔لوگ ہی لوگ
"کیا قیامت آگئی محمد بخشا ؟”
"نہیں آئی تو نہیں مگر یہ بھی اس سے کم تو نہیں
مولوی بتایا کرتے تھے ایسا ایک میدان ہو گا اور مخلوق ہو گی ۔خدا کا تخت سجے گا ۔ہے نا” ؟اس نے تائیدی نظروں سے اسے دیکھا
"ہاں مگر ابھی تو مخلوق پر دنیا کے خداؤں نے روٹی بند کر رکھی ہے ۔ابھی تو سب روٹی کی بھوک لئے یہاں جمع ہوئے نجانے کتنے ابھی بھی خالی ہاتھ جائیں گے ۔”اس کی آواز میں دکھ تھا .اچھا چھوڑ یہ سب ”
زلیخاں نے ادھر ادھر دیکھا ۔دیوار کے ساتھ چھاؤں تھی ۔
"دیکھ تو نے یہاں سے ہلنا نہیں ہے بس دیوار سمجھ خود کو
میں جا کر فارم بھر لوں ”
اس نے چادر سے آدھا چہرہ ڈھک لیا ۔محمد بخش اسے روک نہیں سکا ۔
وہ لوگوں کے بیچ میں سے راستہ بناتی اسٹیج کے قریب پہنچ گئ جہاں رجسٹر رکھا تھا ۔اس نے بٹوے کے ساتھ پن بھی پکڑ رکھا تھا ۔دس جماعتوں کا کیا فائدہ اگر اسے انگوٹھا لگانا پڑے

اعلان ہو رہا تھا کہ یہاں کے اسٹنٹ کمشنر آٹا بانٹنے کا افتتاح کریں گے ۔گاڑی رکی اور ایک بھرے جسم کا لمبا اونچا بانکا سجیلا جوان نکلا
سجاول اس کے لب تھر تھرائے ۔ایک لمحہ کو دل دھڑکنا بھول گیا ۔

گھبرا کر پیچھے دیکھا کہیں محمد بخش تو نہیں دیکھ رہا مگر وہ بہت پیچھے رہ گیا تھا
بی بی انگوٹھا نہیں لگانا
ہرکارے کی آواز میں کافی غصہ تھا
اس نے سامنے کھڑے افسر کو دیکھا جو ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ۔
"انگوٹھا کیوں دستخط کروں گی میں

لاو کدھر کرنے ہیں دستخط "؟وہ بھی رعب سے بولی تھی
افسر چونکا
اس نے سکون سے دستخط کئے اور پھر آگے بڑھنے لگی
"کہاں جا رہی ہو مائی ؟”
ہرکارے نے اس کا بازو پکڑا
"چھوڑ مجھے ”
اس نے ہرکارے کو دھکا دیا ۔
"اپنے اسٹنٹ کمشنر سے کہو پہلی بوری مجھے دے ”

اب وہ سجاول کے بالکل سامنے تھی ۔سجاول کی آنکھیں اس سے ملیں اور جھک گئیں ۔
"آنے دو انھیں” ۔۔اس نے اس کو روکا
"شکریہ آپکا صاحب ۔میرا شوہر بیمار ہے اسے ایک دیوار کے ساتھ بٹھا آئی ہوں۔اس آدمی سے کہیں میرے سر پر بوری رکھ دے ”
جزا و سزا کا وقت آ پہنچا تھا ۔وہ دنیا کے سامنے کیا کہتا اور ماں کے سر پر آٹے کی بوری یہ کیا ہو رہا تھا ۔اس کے چہرے ہر پسینہ آ گیا ۔گھبرا کر سامنے دیکھا ۔لوگ ہی لوگ بھوک ہی بھوک اور سامنے ماں کھڑی تھی۔ اس کی سزا کا عمل شروع ہو چلا تھا۔ بوری سامنے رکھ دی گئ جو اس نے بے ساختہ پہلے خود اٹھائی
ہرکارہ ہکا بکا رہ گیا۔
زلیخا نے دھیرے سے نم آلود آنکھوں سے اسے دیکھا
"صاحب یہ اندازہ لگا رہے ہو نا کہ یہ وزن میں اٹھا سکوں گی یا نہیں ۔جس نے جیتے جاگتے بیٹے کی جدائی جیسا بوجھ اٹھایا ہے اس کے لئے بوجھ کچھ نہیں ہے ”
وہ مسلسل چپ تھا ۔وہ ایک چیخ مار کر ماں کو اپنے دل کے ساتھ لگانا چاہتا تھا مگر اس وقت بےبسی اس پر قہقہے لگا رہی تھی۔
” تجھے غریب کا بیٹا کہلانے سے ڈر لگتا ہے نا اس لئے اپنا اور میرا بھی بھرم رکھ ۔چپ چاپ بوری میرے سر پر رکھ دے۔
اس نے سر آگے کیا ۔سجاول نے بوری رکھ دی ۔ساراعملہ پریشان تھا ۔یہ عورت آخر صاحب سے کیا باتیں کر رہی تھی
وہ بہت جلد ہجوم سے نکلتی محمد بخش کے پاس پہنچ گئی ۔چل محمد بخشا ۔۔اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ سڑک پر آ کھڑی ہوئی ۔
"کتنا آٹا ہے ؟ دس کلو ”

"ہم کون سا زیادہ کھاتے ہیں یہ بہت ہے ہمارے لئے ”
”
ہاں ”
”
کیا ہوا”
کچھ نہیں محمد بخشا بس اندازہ ہو گیا کہ حشر میں میدان کیسے لگے گا ۔اپنے ،پرائے کیسے ہو جائیں گے ”
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا بس آ گئی تھی ۔

فریدہ غلام محمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روشنی میں بھٹکتا جگنو
  • واسطہ اس سے جو پرانا ہے
  • کچھ اس طرح سے مرا ضبط آزماتا رہا
  • باہر کا دروازہ بھی ہم درد نہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ناکامی کے اسباب اور کامیابی کے راز
پچھلی پوسٹ
علامہ اقبال اور ایران

متعلقہ پوسٹس

اُس نے جب مجھ کو پلٹ کر دیکھا

اپریل 15, 2020

کسی بجھتے دیے سے بھی نہ جلی

نومبر 17, 2021

دو گولی ویاگرا

فروری 15, 2023

مرے دوست تیری خبر ملی بڑا دکھ ہوا

نومبر 14, 2021

کارنس

دسمبر 23, 2021

اب جو آتا نہیں جواب کوئی

نومبر 1, 2025

محبت

جنوری 18, 2020

جیسے جیسے کر رہا ہوں عمرِ رفتہ کا حساب

جنوری 23, 2020

رب نہیں روٹھتا!

اکتوبر 9, 2022

پاکستان اور خلیج

جنوری 3, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک آواز نے کہا مرے دوست

نومبر 18, 2020

مستقل ناکامی کے خطرناک ہتھیار!

اپریل 4, 2021

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں